Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کی من مانی سے کسانوں کو مشکلات

ٹی آر ایس حکومت کی من مانی سے کسانوں کو مشکلات

پرانہیتا پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی مخالفت ، نظام آباد میں کانگریس کا اجلاس ، محمد علی شبیر اور دیگر کا خطاب
نظام آباد:10؍ ستمبر ( محمد جاوید علی کی رپورٹ)پرانہیتا چیوڑلہ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی ریاستی حکومت کی پالیسی کے خلاف آج ضلع کانگریس کی جانب سے کانگریس بھون میں پارٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں کسانوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کی اسکیم کا کئی مرحلوں میں تکمیل کرتے ہوئے کاموں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے لیکن موجودہ حکومت 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کے باوجود بھی اس کی تکمیل کے بجائے اس کی تبدیلی عمل میں لانے کی بات کرتے ہوئے کاموں کو بند کرنے کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والی مشکلات سے کوئی پرواہ کئے بغیر ہی من مانی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کے آغاز سے قبل وایپکو کمپنی سے مکمل طور پر سروے کے بعد 28کاموں کی نشاندہی کرتے ہوئے 3لاکھ 5 ہزار ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کیلئے پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ نظام آباد میں مرحلہ نمبر 20,21,22 کے ذریعہ ضلع کی عوام کو پینے کا پانی و زرعی سیراب کا پانی فراہم کیا جارہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اچانک اس پراجیکٹ کو تبدیل کرتے ہوئے نئے طور پر پراجیکٹ تعمیر کرنے کا اعلان کرنا سراسر غلط ہے جبکہ 25 ٹی ایم سی پانی حاصل کرتے ہوئے 365 دن پانی فراہم کرنا کانگریس کا مقصد تھا اس کیلئے کانگریس پارٹی کی جانب سے دیہاتوں میں پدیاترا کرتے ہوئے عوام کو واقف کروانے کیلئے 16؍ ستمبر کے روز بودھن حلقہ کے نوی پیٹ منڈل کے بنولا میں جہاں پر پرانہیتا چیوڑلہ کے کام انجام دئیے جارہے ہیں یہاں پر بڑے پیمانے پر ایک جلسہ کا انعقاد کا اعلان کیا اس کے علاوہ دیگر علاقہ بالکنڈہ، نظام آباد، کاماریڈی میں بھی سلسلہ وار اجلاس کے انعقاد کا ارادہ ظاہر کیا۔ محمد علی شبیر نے ریاست کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کے سنگین حالات چل رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے خشک سالی سے متاثرہ ریاست قرار دینے سے گریز کرنے کی وجہ سے مرکز کی جانب سے حاصل ہونے والی امداد حاصل نہیں ہورہی ہے جبکہ پڑوسی ریاست کے چیف منسٹر چندر ابابونائیڈو خشک سالی کا اعلان کرتے ہوئے مرکز سے امداد حاصل کررہے ہیں۔ مفت میں تخم اور کھاد کی سربراہی اور ایک لاکھ روپئے کے قرضہ جات ایک ہی وقت میں معاف کرنے اور خودکشی کرنے والے کسانوں کی امداد کیلئے جاری کردہ جی او نمبر 421 میں ترمیم کرتے ہوئے 5لاکھ روپئے ایکس گریشیاء دینے اور پرانے قرضہ جات کی وصولی کو روکتے ہوئے نئے قرضہ جات کو جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہو ںنے کہا کہ تلنگانہ یونیورسٹی کے قیام کا اعزاز کانگریس کا ہے تو یونیورسٹی کو وائس چانسلر کا تقرر تک نہیں کرنے کا اعزاز ٹی آرایس کو حاصل ہوا ہے۔ اس موقع پر سابق ریاستی وزیر آبپاشی مسٹر پی سدرشن ریڈی نے کہا کہ ریاست کے کسانوں کو زرعی پانی فراہم کرنے کیلئے آنجہانی راج شیکھرریڈی نے سونیا گاندھی کی ہدایت پر پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کو شروع کیا تھا اور 16لاکھ ایکر اراضی کو اس سے فائدہ ہورہا تھا لیکن گذشتہ دیڑھ سال سے کاموں کو روک دینے کی وجہ سے کسان پریشانیوں میں مبتلا ہیں  60 فیصد کام مکمل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بحیثیت وزیر آبپاشی اس پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے کئے گئے کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سابق اسپیکر کے آر سریش ریڈی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پرانہیتا چیوڑلہ اسکیم کے آغاز کے بعد کسانوں نے اپنی زمین کو کاشت کے قابل کرنے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کیاہے۔اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ و کل ہند کانگریس کے ترجمان مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے اپنی تقریر میں رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا کی جانب سے کئے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے آبپاشی کے چیف اڈوائیزر ودیا ساگر رائوپرانہیتا چیوڑلہ کے بارے میں وضاحت کیوں پیش نہیں کررہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے ہر روز ایک نئے انداز میں ضلع کی عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ پارلیمنٹ میں وینکیا نائیڈو کی دھمکی پر خاموش کویتا ہائی کورٹ کے قیام اور دیگر مسئلوں پر اور پرانہیتا چیوڑلہ کو قومی پراجیکٹ قرار دینے کیلئے کوئی اقدام نہیں کررہی ہے۔ قانون ساز کونسل کی رکن آکولہ للیتا نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانگریس کے دور میں کسانوں کی خودکشی کے اموات کے روک تھام کیلئے اقدامات کئے گئے تھے لیکن ٹی آرایس کے دور میں کوئی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی کے اموات پیش آرہے ہیں اور چیف منسٹر چین کے دورہ میں مصروف ہے۔  سابق رکن اسمبلی گنگارام نے ڈی سرینواس پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں لمبے عرصہ تک فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس پر تنقید کرنا سراسر غلط ہے۔ ڈی سرینواس ایک معمولی آدمی تھے اور ان کے پاس اسکوٹر تک صحیح نہیں تھی آج اتنی دولت کہاں سے آئی سوال کیا۔ اس موقع پر مہیش کمار گوڑ کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ اس جلسہ کی صدارت صدر ضلع کانگریس طاہر بن حمدان نے کی۔ اس جلسہ میں کانگریس فلور لیڈر ایم اے قدوس، ضلع وقف کمیٹی کے صدر محمد جاوید اکرم، اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر احمد، کانگریس کے نائب صدور اشفاق احمد خان پاپا، محمد فیاض الدین، سید نجیب الدین، مولانا کریم الدین کمال، کانگریس قائدین محمد جلیل، محمد ذاکر، قدرت اللہ خان افسر، سید انور احمد نائب صدر ضلع وقف کمیٹی، سید مسعود علی نائب صدرنشین بلدیہ کاماریڈی کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT