Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت12% تحفظات کا مسئلہ مودی کے دربار میں پیش کریگی !۔

ٹی آر ایس حکومت12% تحفظات کا مسئلہ مودی کے دربار میں پیش کریگی !۔

مجلسی قائد بھی تحفظات کا مسئلہ بھول گئے۔ ادارہ’سیاست‘ کی تحفظات مہم جاری رہے گی

چیف منسٹر کو اُن سے وفا کی ہے اُمید … جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

حیدرآباد۔/7اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر ا شیکھر راؤ نے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرح مسلمانوں سے 12فیصد تحفظات کا صرف وعدہ کیا ہے اور ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس طرح انتخابات سے قبل دلت کو چیف منسٹر بنانے کی بات کہی گئی تھی شاید اسی طرح مسلمانوں کو بھی 12فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نتیجہ اس لئے اخذ کیا جارہا ہے چونکہ چیف منسٹر نے یہ کہا کہ وہ سریدھر کمیٹی کی رپورٹ موصول ہوتے ہی اسمبلی میں مسلمانوں کیلئے تحفظات کے مسئلہ کو منظور کرنے کے بعد مرکز سے رجوع کریں گے جہاں نریندر مودی وزیر اعظم موجود ہیں اور ان کے تعلق سے مسلمان تو سب واقف ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ آج اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یہ بات کہی گئی۔

مسلمانوں کی نمائندہ اور اس کی عکاسی کرنے والی پارٹی اور پارٹی کے قائدین نے بھی چیف منسٹر کو 12فیصد تحفظات کی طرف توجہ دلائی اور نہ ہی چیف منسٹر کے اس بیان پر کہ ہم مرکز سے رجوع ہوں گے، کسی قسم کا کوئی عذر درج کروایا۔ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ پڑوسی ریاست مہاراشٹرا میں مراٹھوں کو تحفظات دیئے گئے تھے اس پر بھی روک لگادی گئی ہے۔ جہاں تک مرکزی حکومت کو اسمبلی کی منظورہ قرارداد روانہ کرنے کا معاملہ ہے سال 2007 سے ہی دستور کے شیڈول 9جس کے تحت تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں یا تحفظات کی پالیسی میں ترمیم کی جاسکتی ہے اسے بھی سپریم کورٹ نے دوبارہ جائزہ لینے کے احکامات دیئے ہیں۔ روز نامہ ’سیاست‘ کی ایک ماہ سے چلائی جانے والی تحریک میں مسلمانوں کو تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ دستور کے مطابق کسی بھی طبقہ کو پسماندہ طبقہ میں درج کرنے یا پھر اس کا زمرہ مقرر کرنے پسماندہ طبقات میں شمولیت ہو یا پھر اخراج ہو اس کا مجاز صرف بی سی کمیشن کو حاصل ہے۔ چیف منسٹر کے بیان کے بعد آج دفتر ’سیاست‘ میں جناب زاہد علی خاں کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طئے کیا گیا کہ کل ایڈیٹر ’ سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کی دستخط سے ایک مکتوب چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے نام روانہ کیا جائے گا جس میں انہیں توجہ دلائی جائے گی کہ پسماندہ طبقات کمیشن کے ذریعہ دیئے جانے والے تحفظات کس طرح ممکن اور محفوظ رہیں گے اور اس سے اس کے مقصد میں کس طرح کامیابی حاصل ہوگی، اور مرکز سے رجوع ہونے کے بعد چیف منسٹر کے فیصلے میں کس قسم کی پریشانی اور ٹال مٹول ہوسکتی ہے۔’ سیاست‘ کے ذمہ داروں نے آج کے اس اجلاس میں جو ہنگامی حالات پر طلب کیا گیا اور اس میں فوری چیف منسٹر کی توجہ دہانی کا فیصلہ کیا گیا اور اس بات پر گہری فکر کا اظہار کیا گیا کہ اگر تحفظات کی فراہمی میں تاخیر اور ٹال مٹول ہوتی ہے تو اس کا راست اثر 15,522سرکاری جائیدادوں پر ہوگا بلکہ سیدھے ان جائیدادوں سے مسلمانوں کو محرومی ہوگی۔ جبکہ تعلیمی میدان میں ایسے کئی موقعوں سے نوجوان مسلم نسل محروم ہوجائے گی۔

تحفظات کی اہمیت پر فکر مند ’سیاست‘ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ 12فیصد مسلم تحفظات تلنگانہ کے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے کافی مدد گار ثابت ہوں گے۔ بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے بی سی کمیشن کی سفارش پر 12فیصد مسلم تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں تو انہیں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔ چونکہ پسماندگی جانچنے کے ہر پیمانے سے مسلمان بہ آسانی کامیاب ہوجاتا ہے چونکہ حکومتوںکی جانب سے مقرر کردہ کئی کمیٹیوں و کمیشنوں نے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو بیان کردیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے تحفظات کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر روز نامہ ’سیاست‘ نے جو تحریک شروع کی ہے، مسلمانان تلنگانہ نے اس تحریک میں دلچسپی اور نمائندگیوں کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ وہ کس قدر بے چینی اور بے تابی سے12فیصد مسلم تحفظات کے منتظر ہیں اور ان تحفظات میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل، اعلیٰ تعلیم کے مواقع، سرکاری ملازمتوں میں ان کی شمولیت اور قوم کے تابناک مستقبل کو دیکھنا چاہتے ہیں، اور مسلمانان تلنگانہ نے ’سیاست‘ کی تحریک اور بی سی کمیشن کی سفارش کے تعلق سے مسلمانوں میں شعور بیداری پر اپنا زبردست ردعمل ظاہر کیا اور اس تحریک کو 10اضلاع میں وسعت دی گئی اور بی سی کمیشن کے قیام اور بی سی کمیشن ہی کے ذریعہ تحفظات فراہم کرنے کی چیف منسٹر سے وعدہ کے مطابق خواہش کرتے ہیں۔ادارہ’سیاست‘ نے ایک ماہ قبل جو تحریک شروع کی ہے وہ بدستور جاری رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT