Wednesday , May 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس رکن اسمبلی سرینواس گوڑ کو وزیر داخلہ کی سرزنش

ٹی آر ایس رکن اسمبلی سرینواس گوڑ کو وزیر داخلہ کی سرزنش

آندھرائی ملازمین پر رکن اسمبلی کے ریمارکس پر این نرسمہا ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : وزیر داخلہ تلنگانہ این نرسمہا ریڈی نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ کو مشورہ دیا کہ وہ جوش میں ہوش نہ کھو دیں ۔ یہاں کام کرنے والے آندھرائی ملازمین کے خلاف ریمارکس کرنے سے آندھرا میں کام کرنے والے تلنگانہ کے ایمپلائز پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔ وقفہ سوالات کے دوران سرینواس گوڑ نے علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود حیدرآباد میں آندھرائی پولیس ملازمین کی خدمات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران ہم پر زیادتی کرنے والوں کو یہاں کیوں رکھا گیا ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت آندھرائی حکمرانوں نے حیدرآباد کو فری زون قرار دیتے ہوئے محکمہ پولیس میں آندھرا والوں کا تقرر کرلیا ہے ۔ اسپیکر نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کو بار بار موضوع پر بات کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ حیدرآباد 10 سال تک دونوں تلگو ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام ہے ۔ کمل ناتھ کمیٹی جائزہ لے رہی ہے ۔ ریاست کی تشکیل کے بعد محکمہ پولیس میں آندھرا پردیش کو جملہ 10,315 ایمپلائز کو مختص کردیا گیا ہے ۔ ابھی تک 431 پولیس ایمپلائز کو آندھرا پردیش کے لیے روانہ کردیا گیا ۔ تلنگانہ کے محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تقررات کیے جارہے ہیں ۔ جس کے بعد مرحلہ واری اساس پر ماباقی پولیس ملازمین کو بھی بھیج دیا جائے گا ۔ ایک ساتھ تمام پولیس ملازمین کو روانہ کردینے سے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ آندھرا پردیش کے سیاسی قائدین اور اداروں کو بھی سیکوریٹی فراہم کرنا لازمی ہے ۔ بی جے پی کے فلور لیڈر جی کشن ریڈی نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس کرنے سے آندھرا پردیش میں کام کرنے والے تلنگانہ کے 650 ایمپلائز کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہے ۔ ان کے بارے میں بھی سونچنا ہماری ہے ذمہ داری ۔ انہیں ابھی کرائے کا مکان حاصل کرنے میں ہی کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ ریمارکس سے آندھرا پردیش میں خدمات انجام دینے والے تلنگانہ ایمپلائز کی توہین ہوگی اور ان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT