Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کو راحت

ٹی آر ایس رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کو راحت

ہندوستانی شہریت کو مرکزی حکومت سے رد کرنے پر حیدرآباد ہائی کورٹ کا عبوری حکم التواء
حیدرآباد۔11 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کو راحت دی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ہندوستانی شہریت کو رد کرنے سے متعلق احکامات پر عدالت نے عبوری حکم التوا جاری کردیا۔ ویملواڑہ کے رکن اسمبلی نے ہندوستانی شہریت کو رد کرتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے داخل کردہ پروسیڈنگ کو حیدرآباد ہائی کورٹ نے چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کے بعد عبوری حکم التوا جاری کیا۔ انہوں نے عدالت میں استدلال پیش کیا کہ شہریت کو ختم کرنے کے فیصلے سے قبل وزارت داخلہ نے انہیں وضاحت کا موقع نہیں دیا اور نہ ہی ان کے موقف کی سماعت کی۔ مرکزی وزارت داخلہ کے 31 اگست کو یکطرفہ طور پر جاری کردہ احکامات کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی۔ عدالت میں استدلال پیش کیا گیا کہ ازروئے قانون اندرون 30 یوم وضاحت داخل کی جاسکتی ہے لیکن مرکزی وزارت داخلہ نے اس کا موقع نہیں دیا۔ اور اس کا یہ اقدام انصاف کے مغائر ہے۔ انڈین سٹیزن شپ قانون کے سیکشن 10(3) کے تحت اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ آندھراپردیش کے ہائی کورٹ احکامات جاری کیے تھے لیکن مرکزی وزارت داخلہ نے اس کی تکمیل کیے بغیر ہی یکطرفہ طور پر احکامات جاری کردیے۔ سی ایچ رمیش کی جانب سے جو دیگر استدلال پیش کیے گئے ان میں کہا گیا کہ سٹیزن شپ قانون کے تحت ایک شخص کو ہندوستانی شہریت دی جائے تو اس سے متاثر ہونے والا شخص اندرون 30 یوم اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کرسکتا ہے۔ 3 فبروری 2009ء کو مرکزی وزارت داخلہ نے سی ایچ رمیش کو ہندوستانی شہریت دی تھی جس سے شکایت کنندہ سرینواس کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اندرون 30 یوم درخواست داخل کرنے کے بجائے شکایت کنندہ نے 2010ء میں رکن اسمبلی کی حیثیت سے سی ایچ رمیش کے منتخب ہونے کے بعد شہریت دیے جانے کے خلاف درخواست داخل کی۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے اور پروان چڑھنے والے شخص کو شہریت سے محروم نہ کیا جائے۔ سی ایچ رمیش نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور جرمنی میں ماسٹرس کی ڈگری کی تکمیل کی اور وہیں ملازمت کی۔ دوہری شہریت نہ ہونے کے سبب انہوں نے 1993ء میں جرمنی کی شہریت کو قبول کیا۔ 1990ء میں رضاکارانہ تنظیم کے ذریعہ کریم نگر ضلع میں 100 کروڑ کے قرض سے 250 گائوں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے گئے۔

TOPPOPULARRECENT