Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس رکن اسمبلی محبوب آباد کے خلاف کارروائی کیلئے حکومت پر دباؤ

ٹی آر ایس رکن اسمبلی محبوب آباد کے خلاف کارروائی کیلئے حکومت پر دباؤ

ضلع کلکٹر کا موقف سخت ۔ آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کی چیف سکریٹری سے نمائندگی ۔ رکن اسمبلی شنکر نائک کے خلاف کارروائی پر زور
حیدرآباد۔14 جولائی (سیاست نیوز) محبوب آباد کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی بی شنکر نائک کے اطراف قانونی شکنجہ تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تلنگانہ حکومت اور برسر اقتدار ٹی آر ایس رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کیلئے دبائو پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کی جانب سے اس مسئلہ پر چیف سکریٹری ایس پی سنگھ سے نمائندگی کے بعد حکومت پر دبائو میں اضافہ ہوچکا ہے کہ وہ رکن اسمبلی کے خلاف تحقیقات کی ذمہ داری کسی خاتون پولیس عہدیدار کو دے۔ دوسری طرف ٹی آر ایس میں اس بات کو لے کر بحث چھڑچکی ہے کہ رکن اسمبلی کے رویہ سے اعلی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنے کیا قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض وزراء نے شنکر نائک کی پارٹی سے معطلی اور انہیں وجہ نمائی نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس مسئلہ کو سلجھانے چیف منسٹر چندر شیکھررائو کی مداخلت بھی رائیگاں ثابت ہوئی کیونکہ ضلع کلکٹر محبوب آباد ڈاکٹر پریتی مینا نے رکن اسمبلی کی جانب سے معذرت خواہی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر شنکر نائک نے ضلع کلکٹر سے معذرت خواہی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی کا رویہ ضلع کلکٹر کے ساتھ سابق میں بھی غیر اخلاقی رہا جس کے نتیجہ میں ضلع کلکٹر نے اپنا موقف سخت کرلیا ہے۔ انہوں نے آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے رکن اسمبلی کے رویہ کے بارے میں مختلف واقعات کا حوالہ دیا۔ 12 جولائی کو ہریتاہارم پروگرام کے آغاز کے موقع پر رکن اسمبلی نے جس طرح کی حرکت کی وہ ضلع کلکٹر کیلئے ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی تصاویر اور ویڈیو کلپنگ آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کے عہدیداروں کے حوالے کی۔ اسوسی ایشن نے رکن اسمبلی کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سکریٹری ایس پی سنگھ سے نمائندگی کی ۔اسوسی ایشن نے 12 جولائی کے واقعے کے خلاف اجلاس میں منظورہ قرارداد کی نقل چیف سکریٹری کے حوالے کی۔ چیف سکریٹری نے اسوسی ایشن کے عہدیداروں کی سماعت کرتے ہوئے ڈاکٹر پریتی مینا کے ساتھ اظہار یگانگت پر اظہار تشکر کیا۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں خواتین کا احترام کیا جانا چاہئے اور حکومت مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے شکایتی سل کے قیام کے ذریعہ میکانزم متعارف کرے گی۔ ڈی پی آچاریہ آئی اے ایس جو اسوسی ایشن کے صدر ہیں، چیف سکریٹری سے درخواست کی کہ اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے انسپکٹر جنرل رینک کی خاتون آفیسر کو ذمہ داری دی جائے۔ انہوں نے چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کا فوری کارروائی کے لیے شکریہ ادا کیا ساتھ ہی میڈیا کی تائید پر اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر شریمتی شانتی کماری پرنسپل سکریٹری برائے چیف منسٹر، آدھرسنہا پرنسپل سکریٹری جی اے ڈی، سندیپ کمار سلطانیہ سکریٹری فینانس اور کئی خاتون آئی اے ایس عہدیدار موجود تھے۔ اس واقعہ سے آئی اے ایس عہدیداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے وقفہ وقفہ سے عہدیداروں کے ساتھ نامناسب رویہ کی شکایات مل رہی ہیں۔ کئی معاملات میں چیف منسٹر کے دفتر میں فوری مداخلت کرتے ہوئے تنازعات کی یکسوئی کردی لیکن شنکر نائک کا معاملہ طوالت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی قائدین کی تجویز ہے کہ عہدیداروں کی ناراضگی دور کرنے کے لیے تحقیقات کی تکمیل تک شنکر نائک کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ کارروائی معطلی یا پھر وجہ نمائی نوٹس کی اجرائی کی صورت میں ہونی چاہئے۔ خاتون ضلع کلکٹر کے ساتھ رکن اسمبلی کی بدسلوکی نے حکومت کے تمام سطح کے عہدیداروں اور سرکاری ملازمین میں ہمدردی کی لہر پیدا کردی ہے۔ محبوب آباد میں مختلف خاتون تنظیموں کی جانب سے رکن اسمبلی کے خلاف احتجاج منظم کیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر مشاورت کے لیے چیف سکریٹری اور بعض سینئر وزراء کو طلب کیا ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد شنکر نائک کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ خاتون ضلع کلکٹر کے ساتھ پیش آئے واقعہ کے بارے میں فوری کارروائی کرے چاہے واقعہ کے لیے ذمہ دار پارٹی کا رکن اسمبلی ہی کیوں نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے محبوب آباد کے پارٹی قائدین سے اس واقعہ کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT