Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / ٹی آر ایس قائدین اور ڈسپلن

ٹی آر ایس قائدین اور ڈسپلن

وفا پسند طبیعت میں ہے کمی شائد
کسی کا جبر نہ مجبور اختیار ہوں میں
ٹی آر ایس قائدین اور ڈسپلن
تلنگانہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ سچ بیانی کے جذبہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کارکردگی کو مؤثر بنانے اور کابینی وزراء کی قابلیت پر نظر رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو مستحکم کرنے کوشاں ہیں۔ بلاشبہ چیف منسٹر نے سالانہ بجٹ برائے 2017-18ء کے ذریعہ ریاستی پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے علاوہ اقلیتوں کیلئے فنڈس مختص کرنے میں فراخدلانہ اقدام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اقلیتوں کیلئے مختص بجٹ میں مزید اضافہ سے اتفاق کرنا موجودہ سیاسی صورتحال کی نبض کو ٹٹولنے کی ایک بصیرت انگیز کوشش کہی جاسکتی ہے۔ تاہم اپنی حکمرانی کے نصف حصہ کے اختتام اور ماباقی نصف حصہ کو کامیاب بنانے کی قائدانہ صلاحیتو ںکا ثبوت پیش کرنے کیلئے انہوں نے تمام رفقاء کار کو بھی پابند ڈسپلن بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بحیثیت ٹی آر ایس قائد چیف منسٹر نے نکمے یا غیرکارکرد اور اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرنے والے ارکان اسمبلی کو تنبیہہ بھی کیا ہے تو اب اگر انہوں نے ریاست کے عوام کے سامنے اپنا چہرہ اور امیج بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی تو وہ اپنے حلقوں میں عوام ہمدردی سے محروم ہوجائیں گے جو بھی موجودہ رکن اسمبلی اپنے حلقہ میں عوامی ناراضگی کا سامنا کرے تو اسے آئندہ پارٹی ٹکٹ سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ سرکاری اسکیمات اور پروگراموں کو اپنے اپنے حلقوں میں مؤثر طریقہ سے انجام دینا ہی ٹی آر ایس کے حق میں ووٹوں کو مستحکم کرنے کی ضمانت سمجھا جارہا ہے۔ اسمبلی اور کونسل دونوں ایوان میں اپوزیشن نے حکمراں پارٹی کو سبق سکھانے کا مورچہ سنبھالا ہے اور اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ حکومت میں شامل بعض وزراء اور ٹی آر ایس ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں ناقص کارکردگی کیلئے بدنام ہورہے ہیں۔ اس بات کا ازخود چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے ذاتی سروے رپورٹ سے اندازہ کرلیا گیا ہے۔ ان دو سروے نتائج ہی ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کے لئے آئندہ کام کررہے ہیں۔ ایوان کے اندر اپوزیشن نے حکمراں قائدین کو ان کے خراب مظاہرہ کا آئینہ دکھایا ہے تو حکومت اور حکمراں پارٹی کے ذمہ داروں کو یہ موقع غنیمت جان کر حکمرانی کے ماباقی نصف حصہ میں اچھے کام انجام دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بذات خود چیف منسٹر نے اقلیتی بجٹ میں اضافہ سے اتفاق کیا ہے تو یہ ان کی اولین دلچسپی کا ثبوت ہے۔ لہٰذا چیف منسٹر کو اپنی دلچسپی یوں ہی برقرار رکھتے ہوئے عملی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اقلیتوں کیلئے دو بیڈروم کے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنا کر ان مکانات کی تکمیل اور حوالگی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کی ایک بات اچھی ظاہر ہوئی کہ انہوں نے ایک طرف غیرکارکرد پارٹی ارکان اسمبلی پر توجہ دی ہے لیکن دوسری جانب وہ اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے والی اپوزیشن کو برداشت نہیں کررہے ہیں۔ حکومت پر ہونے والی تنقیدوں کو قبول نہ کرتے ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے۔ بجٹ سیشن میں گورنر کے خطبہ کو لیکر اپوزیشن نے شدید تنقیدوں کا محاذ کھول دیا تو چیف منسٹر ناراض دکھائی دیئے۔ گورنر نے بحیثیت دستوری اتھاریٹی کے سی آر کی زبردست ستائش کی اور انہیں ایک بہترین چیف منسٹر قرار دیا۔ اپوزیشن نے گورنر کو کے سی آر کا برانڈ ایمبیسیڈر قرار دیا اور سی ایم کے پی آر او کی حیثیت سے کام انجام دینے کی تنقید کی۔ چیف منسٹر نے گورنر کے خلاف لب کشائی کرنے والے اپوزیشن قائدین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی دوسری میعاد اپریل میں ختم ہورہی ہے۔ اب چیف منسٹر اپنی ماباقی حکمرانی کے ایام میں حکومت کی کارکردگی کو اولیت دے رہے ہیں تو انہیں اپوزیشن کی تنقیدوں کا سنجیدگی سے نوٹ لیکر خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپوزیشن کے سامنے ایک جارحیت پسند حکمراں پارٹی بن کر مقبول ہونے کے بجائے عوام پسند اور خدمت گذار پارٹی ہونے کی شہرت حاصل کرے تو یقینا وہ 2019ء کے انتخابات کے نتائج اپنے نام کرانے میں کامیاب ہوگی۔
دیوبند کا نام تبدیل کرنے کی کوشش
اترپردیش کے شہر دیوبند کے نام پر فرقہ پرستی کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرنے والے زعفرانی پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی نے جس دلیل کا حوالہ دے کر اس شہر کو مہابھارت سے جوڑتے ہوئے شوشہ چھوڑا ہے اس کی مقامی سطح پر مخالفت تو ہونی چاہئے۔ قومی سطح پر بھی سیکولر مزاج لوگوں کو آواز اٹھانے میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ دہلی سے 160 کیلو میٹر دور واقع دیوبند شہر کی تاریخ میں جھانک کر مختلف عنوانات سے اپنے ایجنڈہ اور انتخابی وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والی بی جے پی کیلئے یو پی کا اقتدار سنبھالنا اور عوام سے کئے گئے دیگر کئی وعدوں کو پورا کرنے میں سخت آزمائشوں سے گذرنا ہے۔ وہ عوامی معیشت پر دھیان دینے سے پہلے ہی علاقائی ناموں کو تنازعہ کا شکار بنانا چاہتی ہے تو پھر اس کی حکمرانی کا آنے والا دور یوپی کے عوام کیلئے مصائب زدہ ہوتا جائے گا۔ دیوبند کو یہاں کے دینی ادارہ دارالعلوم سے کافی مقبولیت حاصل ہے۔ 150 سال سے قائم دارالعلوم کی وجہ سے ہی دیوبند زبان زد عام پر ہے۔ ایک شہر جس کا تعلق تحریک آزادی سے جڑا ہے۔ انگریزوں کے خلاف ہونے والی 1857 کی تحریک میں شامل علماء نے 1866 میں دارالعلوم کا قیام عمل میں لایا تھا تب سے اب تک یہ شہر ہندو ۔ مسلم آبادیوں کا ملاجلاشہر ہے جہاں کے رہنے والے ہندو بھی فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کا شہر دارالعلوم سے مقبول ہے۔ اس شہر کی معیشت کا زیادہ تر انحصار دارالعلوم سے ہی ادارہ میں تعلیم حاصل کرنے والے پانچ ہزار طلباء اور ان سے ملاقات کیلئے آنے اولے رشتہ داروں، مہمانوں اور دیگر افراد کی وجہ سے ہندو دکانداروں کا روزگار چلتا ہے۔ اس شہر کے نام کو تبدیل کرنے کی کوشش یا سازش بدنیتی پر مبنی ہے تو اس کی شدید مخالفت ہونی چاہئے کیونکہ دارالعلوم اور شہر دیوبند دونوں ہی ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس شہر کو مہابھارت یا دیوی ماتا کے جنگل و بیاباں کے دور کے حوالے سے تاریخ کو زندہ کرنے کی کوشش صرف شرپسندی کے سواء کچھ نہیں کہی جاسکتی۔ یوپی کا اقتدار سنبھالنے جارہی بی جے پی کیلئے یہ بات ذہن نشین کرنی ضروری ہیکہ اگر اس نے عوام سے اٹوٹ طور پر وابستہ معاملوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی تو اس کا بڑھتا سیاسی گراف وقت آنے پر تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT