Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس قائدین کو اسمبلی اجلاس کے بعد اچھے دن

ٹی آر ایس قائدین کو اسمبلی اجلاس کے بعد اچھے دن

نامزد سرکاری عہدوں و پارٹی عہدوں کو قطعیت، تلنگانہ کی کمزور مالی حالت پر حکومت متفکر

حیدرآباد ۔ 16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) برسر اقتدار ٹی آر ایس قائدین کے اچھے دن اسمبلی اجلاس کے بعد آسکتے ہیں، جب نامزد سرکاری عہدوں اور پارٹی کے عہدوں پر تقررات کا عمل شروع ہوگا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تقررات کے مسئلہ پر اپنے مشیروں اور قریبی وزراء کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس سلسلہ میں 36 مختلف عہدوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے ناموںکو بھی قطعیت دیدی گئی ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے سرکاری عہدوں پر تقررات میں تاخیر کے سبب قائدین اور ورکرس میں پائی جانے والی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے وزراء سے خواہش کی کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں موجود ان قائدین اور کارکنوں کی فہرست پیش کریں جو 2001 ء میں تلنگانہ تحریک کے آغاز سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزراء نے چیف منسٹر کو گزشتہ ماہ اپنے ناموں کی فہرست پیش کردی ہے۔ چیف منسٹر اسمبلی اجلاس کے فوری بعد ناموں کو قطعیت دیں گے اور توقع ہے کہ تقررات کا عمل اور احکامات کی اجرائی کا آغاز ہوجائے گا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں حکومت نے مخلوعہ سرکاری نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں ایک سے زائد مرتبہ کارروائی شروع کی لیکن اسے کسی نہ کسی وجہ سے روک دیا گیا۔ اب جبکہ چیف منسٹر کے بااعتماد ساتھیوں کو اہم عہدے حاصل ہوچکے ہیں اور کئی ارکان اسمبلی کو کارپوریشنوں کا صدرنشین مقرر کیا گیا ہے، ایسے میں دوسرے قائدین کی بے چینی بڑھ چکی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ مختلف گوشوں سے چیف منسٹر پر دباؤ بڑھنے لگا ہے کہ تقررات میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ ، ہریش راؤ کے علاوہ ای راجندر اور دوسروں نے چیف منسٹر کو اس سلسلہ میں فوری کارروائی کی خواہش کی تاکہ کارکنوں میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔ کئی اہم کارپوریشنوں اور اداروں پر تقررات نہیں کئے گئے جن میں اقلیتی ادارے بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ڈھائی سال میں اقلیتی قائدین کی جانب سے عہدوں کیلئے کافی دوڑ دھوپ کی گئی اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن ، حج کمیٹی ،اردو اکیڈیمی اور اقلیتی کمیشن کے عہدوں کیلئے کئی دعویدار موجود ہیں جن کی فہرست ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے چیف منسٹر کو پیش کردی ہے ۔ ضلع واری سطح پر پارٹی کے متحرک اقلیتی قائدین کی فہرست چیف منسٹر کو پیش کی گئی جن میں بعض نام صدرنشین کے عہدوں کیلئے سفارش کئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی صدارت کیلئے پارٹی کے بعض عوامی نمائندے بھی چیف منسٹر پر دباؤ بنارہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کے علاوہ چیف منسٹر نے غیر اقلیتی اداروں میں بھی اقلیتوں کو نمائندگی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک کسی بھی غیر اقلیتی ادارے کے صدرنشین کے عہدہ پر اقلیتی قائد کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے سنکرانتی کے بعد پارٹی قائدین اور کارکنوں کو خوشخبری دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک اہم رکاوٹ درپیش ہے ، وہ ریاست کی کمزور مالی حالت ہے۔ محکمہ فینانس نے حکومت کو تقررات کے ذریعہ مزید زیر بار ہونے سے منع کیا ہے ۔ ریاست میں سرکاری اسکیمات کیلئے پہلے ہی بجٹ کی صورتحال مایوس کن ہے ، ایسے میں اگر نامزد عہدوں پر تقررات کردیئے جائیں تو پھر صدرنشین اور ارکان کے اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا اور صدرنشین کو سرکاری گاڑی اور دیگر سرکاری مراعات فراہم کرنی پڑیں گی۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر کن اداروں کا انتخاب کریں گے اور وہ کون خوش نصیب ہوں گے جن کے نام کو چیف منسٹر کی منظوری حاصل ہوگی۔ سرکاری عہدوں کے علاوہ پارٹی کے عہدوں پر تقررات کا عمل بھی جلد شروع ہوگا۔ ریاستی سطح کی عاملہ اور ضلع واری سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT