Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ٹی آر ایس متحد پارٹی ، پھوٹ کے آثار نہیں

ٹی آر ایس متحد پارٹی ، پھوٹ کے آثار نہیں

کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے درمیان سرد جنگ کی تردید : ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی
حیدرآباد /13 مئی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ راشٹرا سمیتی پارٹی میں بغاوت اور پھوٹ کے آثار کی تردید کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج کہا کہ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ اور وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ یہ دونوں قائدین پارٹی امور میں باہمی طور پر حصہ لیتے ہیں ۔ دونوں وزراء کے درمیان عداوت سے متعلق انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے دونوں وزراء میں حقیقی بھائیوں کی طرح رشتہ ہے ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے تمام قائدین نہ صرف متحد ہیں بلکہ چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ کے منصوبہ کے مطابق ریاست تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کیلئے دن رات مصروف ہیں ۔ ہریش راؤ اور کے ٹی آر نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے دیرینہ خواب کو پورا کرنے کیلئے اب تک بہترین مظاہرہ کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ٹی آر ایس پارٹی میں بغاوت کے آثار سے متعلق کہا کہ اب تک یہ پارٹی اپنی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کی خدمت کر رہی ہے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ پارٹی کے تعلق سے آنے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں ۔ ٹی آر ایس نے مختصر عرصہ میں کئی فلاحی اقدامات کئے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے اب تک جو کچھ کیا گیا ہے وہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے مثالی اقدامات ہیں ۔ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ جبکہ سابقہ حکومتوں نے مسلمانوں کو بری طرح نظر انداز کردیا تھا ۔ تلنگانہ کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی رہی تھی ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے سے متعلق ٹی آر ایس کے وعدے کے بارے میں ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ پارٹی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے اپنے وعدہ پر قائم ہے ۔ دیگر طبقات کی طرح مسلمانوں کی بھی بہبود کیلئے کام کئے جارہے ہیں ۔ ریاست میں گذشتہ 60 سال سے جو مسائل تعطل کا شکار بنادئے گئے تھے ٹی آر ایس نے دو سال کے اندر ان مسائل کی یکسوئی کو یقینی بنایا ۔ تلنگانہ میں 250 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ان میں 71 اقامتی اسکولس اقلیتوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ حکومت نے اقلیتی طبقہ کیلئے اپنے سالانہ بجٹ میں 1100 کروڑ روپئے سے زائد رقم مختص کی ہے ۔ شادی مبارک اسکیم ، ذاتی آٹو اسکیم کے علاوہ مسلم طلباء کیلئے اوورسیز اسکالرشپس بھی ٹی آر ایس حکومت کا بہت بڑا قدم ہے ۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے مماثل فیس بازادائیگی آئمہ اکرام اور موذنین کو اعزازیہ کی اجرائی کو یقینی بناتے ہوئے چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے ۔ نصف سبسیڈی قرض کے علاوہ سب کیلئے آسرا اسکیم بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے ۔ ماہانہ خاندان کے ہر ایک فرد کو ایک روپئے کے حساب سے 6 کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے ۔ اس سے عوام کے اندر بہت بڑی راحت محسوس کی جارہی ہے ۔ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے کہا کہ وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ ٹی آر ایس کے مضبوط اور سرگرم لیڈر ہیں ۔ ٹی آر ایس کے قیام سے لیکر 14 سال کی علحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد میں کے چندر شیکھر راؤ کے ساتھ وہ ایک ستون کی طرح قائم رہے ۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما راؤ پارٹی کے ایک نوجوان حرکیاتی لیڈر ہیں ۔ 2007 میں اعلی تعلیم کے بعد امریکہ سے واپس ہوکر وہ بھی ٹی آر ایس کیلئے سرگرم ہوگئے ۔ ان دونوں وزراء کا ایک دوسرے سے اختلاف ہونا ناقابل فہم بات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT