Friday , October 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ٹی آر ایس میں عدم شمولیت پر قاتلانہ حملہ کا الزام

ٹی آر ایس میں عدم شمولیت پر قاتلانہ حملہ کا الزام

عادل آباد میں کانگریس کا آج احتجاجی دھرنا، سابق وزیر رامچندرریڈی کا بیان

عادل آباد۔/28اکٹوبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت سے انکار کرنے پر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پر قاتلانہ حملہ کا ریاستی وزیر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عادل آباد کی سیاست کو سیما آندھرا کے طرز پر چلانے کا الزام مسٹر جوگور امنا پر سینئر کانگریس قائد و سابق ریاستی وزیر مسٹر سی رامچندر ریڈی نے عائد کیا۔ جیند منڈل کے سانگوی کے موضع کے کانگریس ارکین پر ٹی آر ایس اراکین کی جانب سے قاتلانہ حملہ کے خلاف احتجاج منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ موصوف اپنی قیامگاہ پر میڈیا سے مخاطب تھے۔ جبکہ اس موقع پر ٹاؤن کمیٹی صدر مسٹر ساجد خان، ڈگمبر راؤ پاٹل، نرسنگ راؤ، سنجو ریڈی، سعید خان کے علاوہ دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ 21اکٹوبر کی شب درگا وسرجن جلوس کے دوران زخمی ہونے والے7 افراد کی تصاویر میڈیا کے روبرو پیش کرتے ہوئے مسٹر سی رامچندر ریڈی نے 29اکٹوبر کو مستقر عادل آباد میں بڑے پیمانے پر ریالی اور دھرنا منظم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ چاقو، لاٹھیوں اور پتھروں کے ذریعہ حملہ کرنے والے رما کانت ریڈی، رجنی کانت، راکیش، اجئے، سائیلو، اشوک، مدھو کے خلاف پولیس کارروائی کو جانبدارانہ قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریاستی وزیر کو ضلع کے ترقیاتی تعمیراتی کاموں میں دلچسپی رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فلاح و بہبود کے کاموں سے متاثر ہوکر دیگر جماعتوں کے اراکین برسر اقتدار جماعت سے وابستہ ہونے میں دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں جبراً کسی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔ قاتلانہ حملہ میں زخمی کے سرینواس، نرسنگ، بھومنا، پی سائی، سنگوگنگنا، پرمیشور، بی وٹھل کو سرکاری دواخانہ میں خاطر خواہ علاج سے بھی گریز کرتے ہوئے دواخانہ سے خارج کرنے کا بھی سینئر کانگریس قائد نے الزام عائد کیا۔ انہوں نے مقامی رکن اسمبلی و ریاستی وزیر مسٹر جوگو رامنا پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قبل ازیں بھی دو واقعات میں سانگوی کے موضع کے گنگنا  و دیگر پانچ افراد پر دفعہ 370 کے تحت کیس درج کیا گیا جبکہ کانگریس سابق سرپنچ وٹھل پر اٹراسٹی کیس میں ملوث قرار دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT