Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس نے اپنے طور پر 12فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا

ٹی آر ایس نے اپنے طور پر 12فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا

ہم اسے پورا کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں، مسلمان صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں: محمد محمود علی
حیدرآباد۔ 11 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے واضح کیا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر قائم ہے، تاہم اس کیلئے مسلمانوں کو کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ یوم اقلیتی بہبود سے خطاب کرتے ہوئے محمود علی نے تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کے موقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کیلئے مرکزی حکومت کی تائید  ضروری ہے اور ٹاملناڈو کی طرز پر تحفظات میں اضافے کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت وزیراعظم نریندر مودی سے نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں  مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں تحفظات کے حق میں قرارداد کی منظوری میں کوئی دشواری نہیں ہے لیکن حکومت تحفظات جیسے حساس مسئلہ پر کوئی بھی فیصلہ عجلت پسندی میں لینا نہیں چاہتی۔ محمد محمود علی نے کہا کہ انتخابات سے قبل مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کی جانب سے تحفظات کے مطالبہ کے بغیر ہی کے سی آر نے دونوں طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے تحفظات میں اضافہ کا مطالبہ نہیں کیا ، اس کے باوجود چیف منسٹر نے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے طور پر یہ وعدہ کیا ہے اور وہ اس وعدہ کی تکمیل میں سنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو میں مجموعی تحفظات 72 فیصد ہیں اور حکومت تلنگانہ میں تحفظات میں اضافے کیلئے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے ۔ محمود علی نے کہا کہ ایم آر او اور آر ڈی او کو یادداشتوں کی پیشکشی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تحفظات کی فراہمی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ تلنگانہ میں درج فہرست قبائل کو موجودہ 6 فیصد تحفظات اور مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات میں اضافہ کرتے ہوئے 12 فیصد کرنا ہے، تاہم اس کیلئے مسلمانوں کو صبر کرنا ہوگا اور حکومت کو مہلت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ، اسی طرح تحفظات کی فراہمی کا بھی وقت آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے، جو تحفظات کی فراہمی کا آغاز ثابت ہوا، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے حکومت کی مختلف فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت ابھی تک 21,800 غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد جاری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے آغاز کے وقت مختلف اندیشوں کا اظہار کیا جارہا تھا ، تاہم حکومت نے کامیابی سے عمل آوری کو یقینی بنایا ہے ۔

مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کی مساعی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مولانا آزاد کے خوابوں کی تکمیل کی کوشش کرے گی اور ہر مسلمان کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم کا حوالہ دیا۔ محمود علی نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ اور طالبات کیلئے 60 اقامتی مدارس کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ ہر سال 60 اقامتی مدارس کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ اقلیتی طلبہ میں موجود تعلیمی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے 1130 کروڑ کے اقلیتی بہبود بجٹ کو مکمل خرچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تعلیم کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی خاندان ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے انگلش میڈیم کے تمام خانگی اسکولس میں اردو کو بحیثیت لازمی مضمون شامل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت اس سلسلہ میں  ضروری کارروائی کر رہی ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر عبور حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ نظام دور حکومت میں 1120 اسکولس قائم تھے لیکن آج یہ تعداد گھٹ کر 835 ہوچکی ہے۔ اس تقریب میں غیاث الدین بابو خاں کو مولانا ابوالکلام آزاد قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے تحت ایک لاکھ 25 ہزار روپئے ، مومنٹو اور توصیف نامہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ بیسٹ اردو ٹیچرس اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹ ایوارڈ پیش کئے گئے ۔ شادی مبارک ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی فراہمی اور دیگر اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں منظوری کے مکتوب حوالے کئے گئے ۔ مختلف اقلیتی طبقات کی غریب خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی صحافی سمیرا عزیز کو تہنیت پیش کی گئی جو حیدرآباد میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کیلئے مقیم ہیں۔ یوم اقلیتی بہبود میں مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ ، رکن قانون ساز کونسل ایم رام چندر راؤ ، ارکان اسمبلی بال راجو ، اسٹیفنسن اور دوسروں نے شرکت کی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے یوم اقلیتی بہبود کے انعقاد کے اغراض و مقاصد سے واقف کرایا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے خیرمقدم کیا جبکہ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے انعام یافتہ شخصیت کا تعارف کرایا ۔

TOPPOPULARRECENT