Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس نے کبھی بھی ووٹ بینک کی سیاست نہیں کی

ٹی آر ایس نے کبھی بھی ووٹ بینک کی سیاست نہیں کی

تحفظات پر بی جے پی کے الزامات مسترد ، ٹی آر ایس ایم پی بی سمن کا ادعا
حیدرآباد۔17 اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے بی جے پی کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں اضافے کے پس پردہ ووٹ بینک سیاست کارفرما ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے کہا کہ ٹی آر ایس نے کبھی بھی ووٹ بینک کی سیاست نہیں کی بلکہ گزشتہ 16 برسوں سے ان طبقات سے جو وعدہ کیا گیا تھا ان کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو تحفظات کی مخالفت ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں 90 فیصد آبادی ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت پر مشتمل ہے۔ لہٰذا تحفظات کی مخالفت دراصل 90 فیصد کمزور طبقات کی مخالفت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لائے گی تو کمزور طبقات اسے مناسب سبق سکھائیں گے۔ سمن نے بتایا کہ 2014ء کے انتخابات سے قبل کے سی آر نے 105 انتخابی جلسوں میں مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تحفظات کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانونی اور دستوری امور کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے اسمبلی اور کونسل میں قانون سازی کی ہے اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحفظات بل کو منظوری دے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کمزور اور پسماندہ طبقات کی ترقی کو ملک کی حقیقی ترقی قرار دیا تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی پسماندہ طبقات کی بھلائی کے لیے صرف کردی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات کو اختیار کرتے ہوئے کمزور طبقات کی معاشی اور تعلیمی ترقی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کو قانونی شکل دینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ کوئی بھی پارٹی اپنے انتخابی وعدوں سے انحراف نہ کرسکے۔ سمن نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے خیالات کے اعتبار سے ٹی آر ایس نے اپنے وعدوں کی تکمیل کا عمل شروع کیا ہے لہٰذا بی جے پی کی جانب سے مخالفت افسوسناک ہے۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ میں سماجی مساوات کے سی آر کا اہم مقصد ہے اور وہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تعلیم اور روزگار میں مناسب حصہ داری فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پسماندہ طبقات اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں بی سی کمیشن نے پسماندہ طبقات کی صورتحال کے بارے میں حکومت کو جامع رپورٹ پیش کی ہے اور ماہرین قانون کی رائے حاصل کرتے ہوئے 12 فیصد اور 10 فیصد کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا ملک کی کئی ریاستوں میں تحفظات کا مجموعی فیصد 50 فیصد سے زائد ہے۔ تاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر گزشتہ تین دہوں سے عمل آوری جاری ہے۔ بی جے پی اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی مخالفت کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے سمن نے کہا کہ پسماندہ اور کمزور طبقات کی مخالفت بی جے پی کو مہنگی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT