Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / !ٹی آر ایس و کانگریس کے کئی قائدین بی جے پی سے ربط میں

!ٹی آر ایس و کانگریس کے کئی قائدین بی جے پی سے ربط میں

ایس سی زمرہ بندی کے ذریعہ مندا کرشنا کی تائید کا حصول ، ڈاکٹر لکشمن کا دعویٰ
حیدرآباد۔7 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کمزور طبقات خاص طور پر درج فہرست اقوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے بی جے پی نے ایس سی طبقات کی نئی زمرہ بندی کے سلسلہ میں مرکز سے سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر مرکزی حکومت اس تجویز کو قبول کرتی ہے تو تلنگانہ میں درج فہرست اقوام بی جے پی کے ساتھ ہوں گے اور مادیگا پوراٹا سمیتی کے سربراہ مندا کرشنا مادیگا کی تائید بھی بی جے پی کو حاصل ہوسکتی ہے۔ آئندہ عام انتخابات میں بہتر مظاہرے کے لیے پارٹی نے ایکشن پلان تیار کرلیا ہے اور جب کبھی قومی صدر امیت شاہ حیدرآباد کے دورے پر آئیں گے ایکشن پلان کو منظوری حاصل ہوگی۔ پارٹی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے انکشاف کیا کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس بنیادی سطح پر مقبولیت کا جو دعوی کررہی ہے وہ حقیقیت کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی کی پالیسیوں کے سبب عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور آنے والے دنوں میں کانگریس اور ٹی آر ایس سے بڑی تعداد میں قائدین اور کیڈر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرے گا۔ بی جے پی جس نے نیشنل بی سی کمیشن کو دستور موقف دینے فراہم کیا ہے، اب ایس سی طبقات کی ازسر نو زمرہ بندی کے نام پر درج فہرست اقوام کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لکشمن نے کہا کہ ایس سی زمرہ بندی کے سلسلہ میں بی جے پی دستوری ترمیم کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں اور اگر یہ مساعی کامیاب ہوجائے تو بی جے پی کے لیے ریاست میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنا آسان ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء کے لیے پارٹی کا روڈ میاپ تیار ہے اور پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کرلی ہے تاکہ برسر اقتدار ٹی آر ایس کو سخت مقابلہ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر صورتحال برسر اقتدار پارٹی کے حق میں نہیں ہے جس طرح کے دعوے کیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب وقت پر ٹی آر ایس اور کانگریس پارٹی قائدین بی جے پی کا رخ کریں گے۔ بی جے پی قیادت کا کہنا ہے کہ ان جماعتوں کے مختلف قائدین سے بات چیت جاری ہے اور وہ مناسب وقت پر شمولیت کا اعلان کریں گے۔ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کے ناموں کا انکشاف کرنے سے گریز کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ اس فہرست میں بعض سابق ارکان اسمبلی اور کانگریس اور ٹی آر ایس کے موجودہ ارکان اسمبلی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں بی سی قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ اگر ایس سی زمرہ بندی حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو ایم آر پی ایس کے قائد مندا کرشنا مادیگا بی جے پی کی تائید کا اعلان کریں گے۔ انتخابی حکمت عملی اور ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ پارٹی نے 15 ہزار سے زائد بوتھ سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور منڈل اور ضلع سطح پر قائدین اور کیڈر کے ساتھ ہر تین ماہ میں اجلاس منعقد کیا جارہا ہے تاکہ پارٹی کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے نئی حکمت عملی قطعیت دی جائے۔ بوتھ سطح کی کمیٹیاں عوام کو مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیمات سے آگاہ کریں گی اور یہ بتایا جائے گا۔ کہ ٹی آر ایس حکومت نے کس طرح مرکز کے فنڈس کو اپنی اسکیمات کے لیے منتقل کردیا ہے۔ اترپردیش میں حال ہی میں بی جے پی کی شاندار کامیابی نے پارٹی کیڈر کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے اور کسی بھی صورت میں وہ تلنگانہ میں مضبوط موقف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف مہم کو مواضعات کی سطح تک تیز کردیا گیا ہے اور اترپردیش کی طرز پر اکثریتی فرقہ کے ووٹ متحدہ طور پر بی جے پی کے حق میں استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT