Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس پر توڑ جوڑ کی سیاست کرنے کا الزام

ٹی آر ایس پر توڑ جوڑ کی سیاست کرنے کا الزام

جی ایچ ایم سی انتخابات غیر منصفانہ کرانے ٹی آر ایس کی سازش: رینوکا چودھری
حیدرآباد /14 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کی رکن راجیہ سبھا مسز رینوکا چودھری نے توڑ جوڑ اور خفیہ معاہدوں کی سیاست سے جی ایچ ایم سی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس جی ایچ ایم سی انتخابات آزادانہ و منصفانہ کروانے کے حق میں نہیں ہے۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے اپنی دختر کو مرکزی وزیر بنانے کے لئے بی جے پی سے اور مقدمات کی پردہ پوشی کے لئے تلگودیشم سے ساز باز کرلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے پرانے شہر میں مجلس سے خفیہ انتخابی مفاہمت کی ہے، اس کے باوجود ٹی آر ایس  100 بلدی حلقہ جات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ اگرکے ٹی آر کو حکومت کی کار کردگی پر عوام سے ووٹ ملنے کا یقین ہے تو وہ پہلے اپنا استعفی ٹیبل پرر کھیں اور اس کے بعد انتخابات کی کمان سنبھالیں۔ انھوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی حدود کی ترقی کانگریس دور حکومت میں ہوئی ہے، جب کہ ٹی آر ایس ڈیڑھ سال کے دوران دیگر جماعتوں کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے اور کانگریس کے ترقیاتی کاموں کو اپنے نام منسوب کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔

 

انھوں نے کہا کہ سارے ملک میں کانگریس کی لہر چل رہی ہے، ہماچل پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات کے مقامی اداروں کے انتخابات میں کانگریس نے شاندار مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ مقامی اداروں کے کونسل انتخابات میں کانگریس کی دو نشستوں پر کامیابی کے بعد ٹی آر ایس اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے عوام کو گمراہ اور کانگریس کو دس بلدی ڈیویژنس میں کامیابی نہ ملنے کا پروپیگنڈا کر رہی ہے، اس کے باوجود کانگریس جی ایچ ایم سی انتخابات میں شاندار مظاہرہ کرے گی۔ مسز چودھری نے کہا کہ ماضی میں ٹی آر ایس نے سیٹلرس کو کافی پریشان کیا، لیکن اب ووٹوں کی خاطر ان کے ساتھ ہمدردی کی جا رہی ہے۔ پہلے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سیٹلرس سے ٹی آر ایس معذرت خواہی کرے، پھر ان سے ووٹ طلب کرے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے خواتین کو خود مختار بنانے کے لئے جی ایچ ایم سی کی نصف نشستوں کو ان کے لئے محفوظ کیا۔ انھوں نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی گرفتاری پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات جاری رکھنے کے لئے یہ ایک اچھا قدم ہے۔ کانگریس پارٹی پڑوسی ملک پاکستان سے امن مذاکرات کے حق میں ہے، مگر پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو بار بار للکارنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہم پاکستان کی کارروائی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ کانگریس قائد کرن سنگھ کی جانب سے خیرمقدم کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے سینئر قائد ہیں، لہذا ہم ان کے ردعمل کا احترام کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT