Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / ٹی آر ایس کا بول بالا، اپوزیشن کا صفایا

ٹی آر ایس کا بول بالا، اپوزیشن کا صفایا

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ میں اصل اپوزیشن کانگریس پارٹی انتہائی آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ قائدین چیالنجس قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور متواتر انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کارکنوں کے حوصلے پست ہیں۔ تمام انتخابات کے اختتام کے بعد سکون کی سانس لینے والی کانگریس پارٹی جب آگے بڑھنے کی فکر کررہی تھی اسمبلی حلقہ مکتھل ضلع محبوب نگر کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی سی رام موہن ریڈی نے حکمراں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کانگریس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اب کانگریس کے سامنے کئی چیالنجس ہیں، انھیں حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کھویا ہوا اعتماد حاصل کرتے ہوئے پارٹی کیڈر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پارٹی کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کو پارٹی میں برقرار رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے بصورت دیگر اگر کانگریس کے اور 3 ارکان اسمبلی کانگریس سے مستعفی ہوکر حکمراں ٹی آر ایس میں شامل ہوجاتے ہیں تو ریاست میں کانگریس کے لئے اصل اپوزیشن کا عہدہ خطرے میں پڑجائے گا۔ اگر مزید 8 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوتے ہیں تو تلگودیشم کے طرز پر کانگریس کو بھی ٹی آر ایس میں ضم کردیا جائے گا۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں کانگریس کے 21 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور ریاست میں کانگریس کو دوسری بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ جملہ ارکان اسمبلی کے 10 فیصد ارکان اسمبلی کسی جماعت کو حاصل ہوتے ہیں تو اُس جماعت کو اصل اپوزیشن تسلیم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 22 ماہ کے دوران کانگریس کے 5 ارکان اسمبلی وٹھل ریڈی، ریڈیا نائک، کے یادیا، کے کنکیا اور حال ہی میں سی رام موہن ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ مزید تین تا چار ارکان اسمبلی ٹی آر ایس سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ 2 کانگریس کے ارکان اسمبلی کی موت واقع ہوئی ہے۔ کشٹا ریڈی کے انتقال کے بعد منعقدہ نارائن کھیڑ ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ ضلع کھمم کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی رام ریڈی وینکٹ ریڈی کا بھی انتقال ہوا ہے۔

ضمنی انتخاب منعقد نہ ہونے کی وجہ سے یہ نشست مخلوعہ ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا رول اہم ہوتا ہے۔ حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن تلنگانہ ریاست میں نئی روایات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ حکمراں جماعت ٹی آر ایس ریاست سے اپوزیشن کا صفایا کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئی ہے۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں 15 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے والی تلگودیشم پارٹی کو تیسری بڑی جماعت بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ تاہم 21 ماہ کے دوران تلگودیشم کے 13 ارکان اسمبلی بشمول تلگودیشم فلور لیڈر ای دیاکر راؤ نے نہ صرف تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی بلکہ تلگودیشم کو ٹی آر ایس میں ضم کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ این ٹی آر بحران کے وقت سب کچھ صحیح تھا تو اب غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے دونوں ارکان اسمبلی نے اپنی جماعت کو ٹی آر ایس میں ضم کردیا ہے جس میں ایک کو کابینہ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح تلنگانہ میں اپوزیشن کا موقف انتہائی کمزور ہوگیا ہے۔ ریاست کی تشکیل اور ٹی آر ایس کے اقتدار میں ابھی تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں حکمراں جماعت کو مکمل اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ میدک اور ورنگل لوک سبھا کے اور نارائن کھیڑ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے میدک اور نارائن کھیڑ میں کانگریس اپنی ضمانت بچا پائی ہے۔ تاہم تلگودیشم کے ارکان نے کہیں بھی اپنی ضمانت بچانے میں ناکام ہوئی ہے۔ بلدی انتخابات گریٹر حیدرآباد، گریٹر ورنگل اور گریٹر کھمم کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی توقع کے مطابق ہے۔ تاہم سدی پیٹ بلدی انتخابات چونکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم 22 بلدی وارڈس پر ٹی آر ایس نے شاندار کامیابی درج کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کا صفایا کردیا۔ صرف حیدرآباد، رنگاریڈی، محبوب نگر گریجویٹ کوٹہ کونسل کے انتخابات میں بی جے پی اور مقامی اداروں کے انتخابات میں اضلاع محبوب نگر اور نلگنڈہ میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ شائد ملک اور ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہوگا۔ اضلاع میدک، نظام آباد، کریم نگر اور عادل آباد میں مقامی اداروں کے کونسل انتخابات میں کانگریس امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد ٹی آر ایس کے حق میں دستبرداری اختیار کرتے ہوئے انتخابات کو بلا مقابلہ بنادیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اہم موقعوں پر دم توڑتے ہوئے پارٹی کیڈر کے حوصلے پست کردیئے ہیں۔ انحراف قانون موجود ہے۔ اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کی کانگریس اور تلگودیشم کی جانب سے اسپیکر اسمبلی کو یادداشت پیش کی گئی ہے۔ اسپیکر اسمبلی نے صرف ضابطہ کی کارروائی کی حد تک سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو نوٹس دی ہے۔ ابھی تک دونوں فریقوں کی سماعت کا آغاز نہیں کیا ہے۔ تلگودیشم ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا بلیٹن جاری کرتے ہوئے انصاف کے لئے تلگودیشم کے دروازے بند کردیئے ہیں۔ کانگریس کو اصل اپوزیشن کا عہدہ بچانے کے لئے صرف تکنیکی گنجائش باقی ہے۔ تاہم اخلاقی طور پر اس کی ناکامی ہے کیوں کہ اسپیکر نے اسمبلی بجٹ سیشن کے بعد جماعت واری اساس پر ارکان اسمبلی کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں تلگودیشم اور کانگریس کے ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے باوجود انھیں ٹی آر ایس کے بجائے کانگریس اور تلگودیشم ارکان اسمبلی کی حیثیت سے شناخت کی ہے۔

اقتدار کے دو سال مکمل ہونے کے بعد اکثر حکمراں جماعت کے خلاف مخالف حکمران لہر شروع ہوجاتی ہے۔ تاہم کانگریس اور تلگودیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے تقریباً 25 ارکان اسمبلی نے حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر اپنے اپنے حلقوں کی ترقی کے لئے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جس سے مخالف حکومت جو بھی لہر پائی جاتی ہے اس سے اس کا اثر ختم ہوگیا ہے اور تمام انتخابات میں حکمراں ٹی آر ایس کی کامیابی سے یہ پیغام ملا ہے کہ عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی کو پسند کرتے ہیں اور چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت پر عوام کو بھروسہ ہے۔ حکومت کی وظیفوں سے متعلق آسرا اسکیم، ڈبل بیڈ روم فلیٹس اسکیم، مشن کاکتیہ، مشن بھگیرتا وغیرہ ایسی اسکیمات ہیں جس پر عوامی اعتماد حاصل کرنے میں حکمراں ٹی آر ایس کامیاب ہوئی ہے۔ اس میں نقائص ڈھونڈنے والی اپوزیشن ان اسکیمات کی خامیوں، اسکامس وغیرہ کو متحد ہوکر منظر عام پر لانے اور عوام کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم کے ارکان اسمبلی اوردیگر قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے ٹی آر ایس قائدین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ آئندہ مقابلہ کرنے کا موقع نہ ملنے عہدوں سے محروم ہونے کا ان میں بھی ڈر و خوف پایا جاتا ہے۔ تاہم مقامی جماعت ہونے کی وجہ سے سربراہ ٹی آر ایس کے سی آر پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہیں اور پارٹی کو متحد رکھنے اور قائدین کو ڈسپلن میں رکھنے میں کامیاب ہیں۔ اپوزیشن بالخصوص کانگریس کے پاس قائدین میں اتحاد اور ٹیم ورک کا فقدان ہے۔ جو قائدین پارٹی کے نام پر تنظیمی اور سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہیں جب پارٹی کو ان کی ضرورت پڑی تو انجان بن رہے ہیں۔ حکومت میں اپنی زندگی سنوارنے اور اپنی 5 نسلوں تک سکون کی زندگی بسر کرنے کا سرمایہ جمع کرنے والے قائدین ضرورت کے مطابق پارٹی کو کچھ سرمایہ لگانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اقتدار میں رہ کر پارٹی کے دوسرے درجہ کے قائدین اور پارٹی کیڈر کو نظرانداز کرنے والے قائدین شکست کے دو سال گزر جانے کے بعد ہالی ڈے موڈ میں ہیں۔

اپنے گھروں اور اپنے کاروبار تک محدود ہیں۔ پارٹی کو وقت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی کی طاقت بننے کے بجائے درپردہ سازشیں کرتے ہوئے ایک طرف گروپ بندیوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ دوسری طرف پارٹی پروگرامس سے انھیں دور رکھنے کی ہائی کمان سے شکایت کررہے ہیں۔ کانگریس اقتدار میں اپنے وقت سب کچھ ہم ہونے کا دعویٰ کرنے والے قائدین پارٹی اپوزیشن میں اپنے وقت کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض معاملات میں چند قائدین سے ناانصافی ہوئی ہے۔ پارٹی کو بھنور سے نکالنے کے لئے کیپٹن اتم کمار ریڈی جی توڑ کوشش کررہے ہیں۔ اپوزیشن زندہ ہونے کا ثبوت دلانے کے لئے ہاتھ پیر چلارہے ہیں۔ حکومت کی ہر اسکیم کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ تاہم کانگریس کے قائدین ان اسکیمات کی ستائش کرتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی کانگریس کی جانب سے جو کوشش کی جارہی ہے اس پر پانی پھیر رہے ہیں۔ کانگریس میں اظہار خیال کی جو آزادی ہے اس کا بھی بیجا استعمال کیا جارہا ہے۔اپنے آپ سے پارٹی کی سرگرمیوں سے جڑنے کے بجائے پارٹی قیادت کی جانب سے دعوت نامہ وصول ہونے کی اُمید لگائے ہوئے ہیں۔ پارٹی کے سینئر کانگریس کے لئے اثاثہ بننے اور نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ بننے کے بجائے ان کی سیاسی زندگیوں میں رکاوٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسمبلی اور کونسل کے بجٹ سیشن میں قائد اپوزیشن جانا ریڈی اور محمد علی شبیر نے تعمیری رول ادا کیا ہے۔ مختلف مسائل پر حکومت کو جھنجوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہاں کمزوری بھی محسوس کی گئی کہ انھیں توقع کے مطابق اپنے ساتھیوں کا ساتھ نہیں ملا۔ کے سی آر کے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کا کانگریس نے اسمبلی اور کونسل سے بطور احتجاج بائیکاٹ کرتے ہوئے مخالفت کی اور حقائق پر مبنی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کانگریس کی جانب سے پیش کرتے ہوئے نقائص اور اسکامس کو منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم کانگریس کے ہی دوسرے قائدین نے بائیکاٹ کرنے پر اپنے ہی جماعت کی مخالفت کی۔ چیف منسٹر کے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کی ستائش کرتے ہوئے کانگریس کو پاور پوائنٹ پریزنٹیشن نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے 10 لاکھ دستخطیں حاصل کرنے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے۔ تاہم اس مہم کا حصہ بننے کے لئے کانگریس قائدین تیار نہیں ہے۔ بعض قائدین انھیں مدعو کرنے کی شکایت کررہے ہیں تو چند قائدین نے اس مہم سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے۔ کانگریس پارٹی میں گروپ بندیاں اور نظریاتی اختلافات سر اُبھار رہی ہیں اور کانگریس قائدین عوام کی پہونچ سے باہر ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ عوام کے دلوں میں مقام بنانے سے قاصر ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی ان کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں حکمراں ٹی آر ایس کامیاب ہے۔

TOPPOPULARRECENT