Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کا سروے بوگس، جھوٹ کا پلندہ : اتم کمار ریڈی

ٹی آر ایس کا سروے بوگس، جھوٹ کا پلندہ : اتم کمار ریڈی

الیکشن پر کانگریس کو بھاری اکثریت، صدر پی سی سی تلنگانہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس کے سروے کو بوگس جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ابھی انتخابات کرائے گئے تو کانگریس پارٹی 80 اسمبلی حلقوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ اگر ٹی آر ایس کے سروے پر بھروسہ ہے تو چیف منسٹر کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے 25 ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے کا چیلنج کیا۔ نتائج سے ثابت ہوجائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے کرایا گیا سروے بوگس اور بے بنیاد ہے۔ زمینی حالت یکسر جداگانہ ہے۔ عوام ٹی آر ایس حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے آمادہ ہے۔ سچ کہا جائے تو ٹی آر ایس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ اقتدار کے ڈھائی سال مکمل ہونے کے باوجود ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں میں ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ کسانوں کے برقی بقایا جات کی تیسری قسط بھی مکمل جاری نہیں کی گئی جس سے بنکس کسانوں کو قرضہ جات جاری کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ فیس ریمبرسمنٹ کی عدم اجرائی کی وجہ سے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کامیاب ہونے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹس دینے سے انکار کررہے ہیں۔ وعدے کے مطابق مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔ غریب اور مستحق عوام میں ڈبل بیڈروم فلیٹس، دلتوں میں 3 ایکر اراضی، سرکاری ملازمین اور صحافیوں کو ہیلت کارڈس ابھی تک جاری نہیں کئے گئے۔ جی ایچ ایم سی کا 100 دن پر مشتمل منصوبہ دھوکہ ثابت ہوا۔ شہر کی خستہ حالت سڑکوں سے عوام پریشان ہیں۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ پھر عوام کیسے ٹی آر ایس کو ووٹ دیں گے؟ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ٹی آر ایس حکومت تیزی سے روبہ زوال ہے۔ حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے۔ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے چیف منسٹر مختلف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں، جس میں سروے بھی ایک سازش کا حصہ ہے تاکہ عوام کو الجھن اور تجسس میں برقرار رکھتے ہوئے انہیں گمراہ کیا جاسکے۔ اگر ابھی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو کانگریس کو ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں آسانی سے 80 اسمبلی حلقوں پر کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT