Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کا 16واں یوم تاسیس ،21اپریل کو پلینری سیشن

ٹی آر ایس کا 16واں یوم تاسیس ،21اپریل کو پلینری سیشن

پارٹی قائدین کو 2دن مزدوری کرکے رقومات جمع کرنے کی ہدایت، کے سی آر بھی قلی کا کام انجام دیں گے

حیدرآباد۔/12 اپریل، ( سیاست نیوز)  چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس کے 16 ویں یوم تاسیس کے سلسلہ میں 21 اپریل کو پلینری سیشن اور 27 اپریل کو ورنگل میں جلسہ عام منعقد ہوگا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے تمام پارٹی قائدین، وزراء اور عوامی نمائندوں کو پابند کیا کہ وہ 2 دن تک مزدوری کرتے ہوئے رقم جمع کریں جس سے پلینری سیشن میں عوام کی شرکت کے انتظامات کی تکمیل کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 تا 20 اپریل 6 دن کیلئے ’’ گلابی کولی دینم ‘‘ یعنی گلابی مزدوری کے دن کے طور پر منائے جائیں گے۔ ان چھ ایام میں کم از کم دو دن ہر ایک کو کہیں نہ کہیں اپنے علاقہ میں مزدوری کرتے ہوئے رقم اکٹھا کرنی ہوگی۔ کے سی آر نے بتایا کہ وہ خود بھی دو دن تک کہیں نہ کہیں مزدوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پلینری سیشن میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اور آمدورفت کے انتظامات کی تکمیل اس رقم سے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی رکنیت سازی 75 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ٹی آر ایس کا شمار ہوچکا ہے جو باعث اطمینان ہے۔ رکنیت سازی سے 25 تا30کروڑ حاصل ہوں گے۔ کے سی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال رکنیت سازی 51 لاکھ 50 ہزار تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی صدر کے انتخاب کیلئے این نرسمہا ریڈی کو پریسائیڈنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور وہ جلد ہی انتخابی شیڈول جاری کریں گے۔ کے سی آر نے ریاست میں وسط مدتی انتخابات کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ انتخابات کیلئے مزید 26 ماہ باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی افواہوں سے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کے سی آر نے آئندہ پارٹی صدر کے بارے میں سوال پر کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ انہوں نے کے ٹی راما راؤ کو کارگذار صدر مقرر کئے جانے کی اطلاعات کو بھی محض قیاس آرائی سے تعبیر کیا۔ کے سی آر نے ایک سال قبل انتخابات سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے اندیشوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ کانگریس اور تلگودیشم دراصل حکومت سے خوفزدہ ہیں۔ کے سی آر نے دھرنا چوک کی اندراپارک سے منتقلی کے فیصلہ کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں معاملہ عدالت میں ہے اور جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت تسلیم کرے گی۔ ریاستی کابینہ نے عادل آباد میں سمنٹ فیکٹری کے احیاء کے حق میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کی ہے جس سے 2000 مزدوروں کا تحفظ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہیرٹیج ایکٹ ریاستی سطح پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شہر کے علاوہ اضلاع کی تاریخی عمارتوں کا تحفظ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہیرٹیج ایکٹ صرف حیدرآباد تک محدود ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT