Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / ٹی آر ایس کیڈر خوش نہیں کارپوریشن انتخابات اور لوک سبھا ضمنی چناؤ کڑی آزمائش

ٹی آر ایس کیڈر خوش نہیں کارپوریشن انتخابات اور لوک سبھا ضمنی چناؤ کڑی آزمائش

محمد نعیم وجاہت
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کارپوریشن اور نامزد عہدوں پر تقررات کا اعلان ہوتے ہی ٹی آر ایس قائدین میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور وہ کے سی آر کے ارکان خاندان کے ٹی آر، ٹی ہریش راؤ اور مسز کویتا کے اطراف چکر لگانے لگے، جب کہ اقلیتی عہدوں کے دعویدار اقلیتی قائدین ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور دیگر اہم قائدین سے رجوع ہو رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں سے ٹی آر ایس قائدین اور عہدوں کے دعویداروں کا وزراء کی قیامگاہوں اور سکریٹریٹ پر تانتا بندھا ہوا ہے۔ 14 سال تک تلنگانہ تحریک میں نمایاں رول ادا کرنے والے قائدین اگر بورڈ یا کارپوریشن کے عہدوں کے لئے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ یہ ان کا حق ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چیف منسٹر تلنگانہ ان عہدوں پر تقررات کے لئے سنجیدہ ہیں؟۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تقررات کا یہ اعلان پارٹی قائدین کو سرگرم کرنے اور گراما جیوتی پروگرام کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی ہو؟۔ اقتدار حاصل ہونے کے بعد سے اب تک چیف منسٹر نے تین مرتبہ کارپوریشن اور بورڈ کے عہدوں پر تقررات کا اعلان کیا اور اس کے بعد خاموشی اختیار کرلی، جس کی وجہ سے اس بار بھی ان کے اعلان کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

17 اگست سے حکومت کے گراما جیوتی پروگرام کا آغاز اور آئندہ ماہ اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے۔ پھر اس کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ورنگل کارپوریشن کے انتخابات کے علاوہ لوک سبھا کا ضمنی انتخاب بھی ہونے والا ہے۔ ان تقررات سے مذکورہ انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم چند کارپوریشن اور بورڈ کے عہدوں پر چیف منسٹر اپنے حامیوں کا تقرر پہلے ہی کرچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے اپنے وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کی کار کردگی کا سروے کروایا ہے، جس میں اہم عہدوں پر فائز قائدین کا پارٹی قائدین اور عوام سے تال میل گھٹ جانے اور پارٹی کے دوسرے و تیسرے درجہ کے قائدین میں ناراضگی پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری پروگرامس اور اسکیموں کو عوام تک پہنچانے میں پارٹی قائدین کی کاہلی بھی منظر عام پر آئی ہے۔ حکومت کو اپنا گاؤں اپنا منصوبہ، سوچھ تلنگانہ اور سوچھ حیدرآباد جیسے پروگرامس میں توقع کے مطابق کامیابی نہیں ملی، جس کی وجہ سے چیف منسٹر فکرمند ہیں۔
حالیہ ایم پی ٹی سی اور گرام پنچایت ارکان کے ضمنی انتخابات میں کئی اضلاع میں کانگریس اور تلگودیشم کا مظاہرہ حکومت کے لئے چونکا دینے والا ثابت ہوا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ پارٹی کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے قائدین اور پارٹی کے دوسرے درجہ کے قائدین میں تال میل کا فقدان ہے، جب کہ چیف منسٹر نے پارٹی کے اہم قائدین، وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان قانون ساز کونسل سے  کارپوریشن اور بورڈ کے عہدوں پر نامزدگی کے لئے پارٹی کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے قائدین کے نام طلب کئے ہیں۔ یوں تو چیف منسٹر اپنی پارٹی کے قائدین سے اچھی طرح واقف ہیں، کیونکہ ان کے پاس قائدین کی قابلیت، تجربہ اور پارٹی کے لئے ان کی خدمات کے ریکارڈس موجود ہیں اور وہ اپنی طرف سے ان عہدوں پر تقررات بھی کرسکتے ہیں، مگر پارٹی کے اہم قائدین اور دوسرے و تیسرے درجہ کے قائدین کے درمیان جو دوریاں پیدا ہوئی ہیں، انھیں دور کرنے کے لئے اہم قائدین کو ناموں کی سفارش کی ہدایت دی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹی آر ایس میں ابتدا سے اہم رول ادا کرنے والے قائدین کے ساتھ ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی ہوئی ہے، کیونکہ تلنگانہ وزارت میں شامل نصف سے زائد قائدین کا تعلق دوسری جماعتوں سے ہے، جب کہ دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی اور قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے سے پارٹی کے حقیقی قائدین میں مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ڈی سرینواس کی وجہ سے بھی ٹی آر ایس قائدین میں ناراضگی دیکھی گئی ہے۔ پارٹی قائدین کا استدلال ہے کہ طویل سیاسی کیریر کے حامل ڈی سرینواس تین مرتبہ شکست سے دو چار ہو چکے ہیں، لہذا ان کی شمولیت سے پارٹی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ پھر ڈی سرینواس تنہا ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں، جب کہ ماضی میں ڈاکٹر کے کیشو راؤ دو ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تھے اور ایک رکن پارلیمنٹ نے لمحۂ آخر میں اپنا فیصلہ تبدیل کردیا تھا۔
عہدوں کی تقسیم کے بعد اختلافات میں اضافہ کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سنا جا رہا ہے کہ دو اقلیتی عہدے حکومت مجلس کو تحفہ میں دے رہی ہے، اُردو اکیڈمی کے لئے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شاعر اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے عہدہ کے لئے غیر سیاسی شخص کے نام پر غور کرنے کے سبب ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً یہ ٹی آر ایس مسلم قائدین کے ساتھ ناانصافی ہوگی، کیونکہ یہ لوگ برسوں پارٹی سے وابستہ رہے اور تلنگانہ تحریک میں حصہ لیتے رہے۔ اسی دوران چیف منسٹر نے کئی مشیروں کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم ان میں ایک بھی مشیر مسلم نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جن کارپوریشن اور بورڈ کے عہدوں پر تقررات ہوئے ہیں، ان میں ایک کا بھی صدر نشین مسلم نہیں ہے۔ سوائے تلنگانہ بلاک کمیشن کے دیگر کارپوریشن اور بورڈ میں مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، جب کہ دو اقلیتی ادارے مجلس کے حوالے کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح حالیہ ایم ایل اے کوٹہ سے منخب 5 ایم ایل سی نشستوں پر بھی کسی مسلم قائد کے نام پر غور نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ حکمراں جماعت کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا سامنا ہے، جہاں مسلمانوں کی 40 فیصد آبادی ہے اور 18 لاکھ سے زائد سیٹلرس کے ووٹ ہیں۔ ایسے میں ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں اور دیگر طقبات کے ساتھ کتنا انصاف کرے گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

2014ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کو تلنگانہ عوام کی جو تائید حاصل ہوئی تھی، وہ اب گھٹتی جارہی ہے اور پارٹی قائدین کے جوش و جذبہ میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو حکمراں جماعت کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ عوام سے قریب ہونے کے لئے کئی پروگرامس روبہ عمل لارہے ہیں، مگر توقع کے مطابق انھیں کامیابی نہیں مل رہی ہے، لہذا اس کا جائزہ لینے اور نقائص دور کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اس کا کیڈر ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، اگر کیڈر خوش نہیں رہا تو مسائل پیدا ہوں گے، جس کی زندہ مثال کانگریس پارٹی ہے۔ 2004ء تا 2014ء کانگریس پارٹی متحدہ آندھرا پردیش میں برسر اقتدار رہی، تاہم صرف ایک مرتبہ راج شیکھر ریڈی کے دور میں کارپوریشن اور بورڈ کے نامزد عہدوں پر تقررات عمل میں آئے، اس طرح کانگریس قیادت اپنے کیڈر کی نباضی میں ناکام ہو گئی۔ علاوہ ازیں کانگریس ہائی کمان کی دوہری پالیسی بھی اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئی۔ پہلے تلنگانہ مسئلہ پر طویل عرصہ تک ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی گئی اور پھر تلنگانہ میں پارٹی قائدین کو تلنگانہ کی تائید میں تحریک چلانے کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ پارٹی کے وزراء، ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کا پارٹی کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے قائدین سے کوئی تعلق نہیں رہا، جس کا ثبوت 2014ء کے عام انتخابات کے نتائج ہیں۔ آندھرا اور تلنگانہ میں کانگریس کیڈر نے اپنی پارٹی کے خلاف کام کیا اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ کانگریس کی طرح اب ٹی آر ایس کے اہم قائدین کے خلاف ٹی آر ایس کیڈر میں بھی ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کارپوریشن اور بورڈ کے نامزد عہدوں کے لئے دیگر جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر عہدوں کی تقسیم میں ٹی آر ایس کے حقیقی قائدین کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو پارٹی میں ناراضگی عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت میں اقلیتوں کو اب تک کوئی عہدہ نہیں ملا، جب کہ پارٹی میں پہلے سے کئی سینئر قائدین موجود ہیں۔ حال ہی میں سابق ریاستی وزیر محمد فرید الدین بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں، لیکن انھیں بھی اب تک کوئی عہدہ نہیں ملا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ٹی آر ایس اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرے اور اقلیتی قائدین عہدہ حاصل کرنے کے لئے متحرک ہو جائیں۔ اب یہ بات چیف منسٹر پر منحصر ہے کہ وہ اس مسئلہ کا حل تلاش کرکے پارٹی قائدین کو کس حد تک مطمئن کرتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عہدے کم اور دعویدار زیادہ ہیں، اس کے باوجود حقیقی قائدین کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT