Monday , May 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی حلیف جماعت کو عنقریب اردو اکیڈیمی یا حج کمیٹی صدر نشین کا عہدہ

ٹی آر ایس کی حلیف جماعت کو عنقریب اردو اکیڈیمی یا حج کمیٹی صدر نشین کا عہدہ

2019 انتخابات سے قبل ایم ایل سی نشست ، ایک رکن و 2 کونسل ارکان حصول وزارت کے لیے کوشاں
حیدرآباد۔6 مارچ (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کی 7 نشستوں کے انتخابات میں ٹی آر ایس امیدواروں کے اعلان کے بعد برسر اقتدار پارٹی میں مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان قانون ساز کونسل کی تعداد اگرچہ چار ہے، تاہم اس میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان کی تعداد دو تھی۔ کونسل میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر محمد محمود علی اور فرید الدین منتخب ہوئے تھے جبکہ محمد سلیم تلگودیشم سے اور فاروق حسین کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تھے۔ اب جبکہ چیف منسٹر نے فاروق حسین کو گورنر کوٹہ میں دوبارہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا ایوان میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان کی تعداد بڑھ کر تین ہوجائے گی۔ کونسل میں مسلم ارکان کی مجموعی نمائندگی چھ ہوگی جن میں کانگریس سے ایک محمد علی شبیر اور مجلس سے امین الحسن جعفری ہوں گے۔ کونسل انتخابات کے بعد ایک طرف ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ایوان میں مجلس کے ارکان کی تعداد دو سے گھٹ کر ایک رہ جائے گی۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر واحد مسلم رکن اسمبلی کی حیثیت سے عامر شکیل منتخب ہوئے تھے۔ اب جبکہ ٹی آر ایس میں ارکان مقننہ کی تعداد بڑھ کر پانچ ہوچکی ہے، لہٰذا ریاستی کابینہ میں شمولیت کے لیے دعویداری میں اضافہ ہوچکا ہے۔ تلنگانہ تشکیل کے بعد چیف منسٹر نے محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر کے ساتھ وزارت مال کا قلمدان حوالے کیا جبکہ اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر نے اپنے پاس رکھا ہے۔ چیف منسٹر کے اس فیصلے سے اقلیتی بہبود کے روز مرہ کے فیصلوں میں دشواری پیش آرہی ہے کیوں کہ ہر فائل کی منظوری چیف منسٹر کے دفتر سے لازمی ہے۔ اقلیتی بہبود کے لیے علیحدہ وزیر کی موجودگی کی صورت میں فائیلوں کی عاجلانہ یکسوئی ممکن ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پارٹی حلقوں میں قیاسی آرائی کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر عام انتخابات سے قبل کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے مسلم نمائندگی میں اضافہ کریں گے اور اسمبلی یا کونسل کے کسی رکن کو وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے تلگودیشم سے منتخب ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے محمد سلیم کو وقف بورڈ کا صدرنشین نامزد کیا ہے۔ لہٰذا وزارت کی دعویداری میں ایک رکن اسمبلی اور دو ارکان قانون ساز کونسل رہ جاتے ہیں۔ حکومت کے قیام کے تقریباً تین سال کی تکمیل کے موقع پر چیف منسٹر نے مسلم نمائندگی میں اضافہ کے لیے کئی قدم اٹھائے ہیں جس سے پارٹی کے مسلم قائدین کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر مزید اقلیتی قائدین کو اہم سرکاری عہدوں پر فائز کریں گے۔ چیف منسٹر نے گزشتہ دنوں 10 کارپوریشنوں کے صدرنشین کے ناموں کا اعلان کیا تھا جن میں 5 کارپوریشن پر مسلم قائدین فائز کئے گئے ہیں۔ ان میں سے چار کارپوریشن عام زمرے کے ہیں جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن پر ہی تقرر کیا گیا۔ اقلیتی بہبود کے دیگر ادارے جیسے اردو اکیڈمی، حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن پر تقررات ابھی باقی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل یا پھر اس کے بعد ان اداروں پر بھی تقررات مکمل کرلیں گے۔ کونسل کے انتخابات میں چیف منسٹر نے اپنی حلیف جماعت مجلس کو رکن اسمبلی کوٹہ میں کونسل کی نشست الاٹ نہیں کی ہے اور تمام نشستوں پر ٹی آر ایس امیدواروں کا اعلان کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حلیف جماعت کو کونسل کی نشست کے بدلے کسی ایک ادارے کے صدرنشین کا عہدہ دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں اردو اکیڈیمی یا پھر حج کمیٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے 2019ء میں حلیف جماعت کو کونسل کی نشست الاٹ کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم اس کا انحصار اس وقت کے سیاسی حالات پر ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT