Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی حکمرانی ’’پاگل کے ہاتھ میں پتھر‘‘ کے مترادف

ٹی آر ایس کی حکمرانی ’’پاگل کے ہاتھ میں پتھر‘‘ کے مترادف

چیف منسٹر کے سی آر کو تہذیب کے دائرہ میں بات کرنے کا مشورہ : اتم کمار ریڈی
حیدرآباد۔ 10 اکتوبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کی حکمرانی ’’پاگل کے ہاتھ میں پتھر‘‘ کے مماثل ہے۔ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کرنے کا چیف منسٹر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہم بھی جانتے ہیں۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کررہی ہے۔ حکومت کی ناکامیوں، عوام سے ہونے والی ناانصافیوں، کسانوں اور طلبہ کے ساتھ ہونے والی حق تلفی اور دوسرے عوامی مسائل کو اٹھانا حکومت پر دباؤ بنانا اور اس کو حل کرانا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس جمہوریت میں اپنا رول بخوبی نبھاتے ہوئے تعمیری انداز میں حکومت کو مشورے دے رہی ہے۔ وعدوں کی تکمیل اور مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوجانے والے چیف منسٹر کے سی آر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس قائدین کے خلاف غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کررہے ہیں اور تہذیب و تمدن کے تمام حدود کو پار کررہے ہیں۔ عوامی خدمات کا جذبہ رکھنے والی کانگریس حکمران طبقہ کی جانب سے توہین آمیز ریمارکس کرنے کے باوجود اس کو برداشت کرتے ہوئے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے رہے گی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ اضلاع کی تنظیم جدید کی کانگریس مخالف نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے طلب کردہ پہلے کل جماعتی اجلاس میں کانگریس پارٹی نے واضح طور پر اپنا موقف پیش کردیا تھا تاہم اضلاع کی تشکیل جدید میں پائے جانے والے نقص اور غیرسائنٹفک طریقہ پر اعتراض کیا تھا اور عوام کے خدشات کا اظہار کیا تھا جس پر چیف منسٹر نے اضلاع کی تنظیم جدید کو قطعیت دینے سے قبل ایک یا دو کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ ایک ضلع کی آبادی 5 لاکھ ہے۔ دوسرے ضلع کی آبادی 40 لاکھ ہے۔ اس کی نشاندہی کرنے پر چیف منسٹر اور حکمران طبقہ کی جانب سے کانگریس پر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے جھوٹے و بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کے سی آر اور ٹی آر ایس کی جانب سے تلنگانہ کے فنڈز آندھرا پردیش کے کنٹراکٹرس ہڑپ لینے کے الزامات عائد کئے جاتے تھے۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت آبپاشی پراجیکٹس، مشن بھاگیرتا اور واٹر گرڈ کے کنٹراکٹ آندھرا کنٹراکٹرس کے حوالے کررہی ہے۔ حکومت ان اسکیمات کیلئے فنڈز جاری کررہی ہے مگر کسانوں کے قرضہ جات کی معافی، فیس ریمبرسمنٹ کیلئے فنڈز کی اجرائی میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کررہی ہے۔ فصلوں کے نقصانات کے بعد کسان جشن مناسکتے، کیا چیف منسٹر سے استفسار کیا۔

TOPPOPULARRECENT