Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / ٹی آر ایس کی مثالی کامیابی

ٹی آر ایس کی مثالی کامیابی

گفتار کے غازی تو نظر آئے بہت سے
کردار کے غازی کا اثر دیکھ رہا ہوں
ٹی آر ایس کی مثالی کامیابی
گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کے نتائج میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ نتائج ٹی آر ایس کے دعووں کے مطابق سامنے آئے ہیں اور گریٹر حیدرآباد کے حدود سے اپوزیشن جماعتوں کا عملا خاتمہ ہوگیا ہے ۔تلگودیشم ۔ بی جے پی اور کانگریس دو چار بلدی حلقوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں حالانکہ یہاں اسمبلی انتخابات میں انہیں قدرے بہتر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ مقامی سطح پر پائے جانے والے مسائل اور ان کی یکسوئی کیلئے سرکاری مدد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد کے بیشتر حلقوں کے عوام نے جس رائے کا اظہار کیا ہے وہ ایک طرح سے ترقی کے حق میں دیا گیا ووٹ ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں رہنے والے عوام نے ترقی کے پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے ٹی آر ایس کو ووٹ دیا ہے جبکہ پرانے شہر میں مجلس نے اپنی کامیابیوں کو برقرار رکھا ہے ۔ یہاں بھی اپوزیشن جماعتیں اثر انداز نہیں ہوسکی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں جس طرح ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا تھا اسی طرح جی ایچ ایم سی میں بھی ٹی آر ایس نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ ریاست میں ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے جو کچھ بھی اسکیمات شروع ہوئی ہیں اور ترقی کے جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے جی ایچ ایم سی کے عوام نے برسر اقتدار پارٹی ہی کو ووٹ دینے کوترجیح دی ہے۔ ریاست بھر میں جو کچھ بھی ترقیاتی کام کئے جا رہے ہیں ان کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے حق میں یہ ووٹ دیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں ریاستی حکومت اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جو وعدے کئے ہیں ان پر بھی جی ایچ ایم سی کے عوام نے بھروسہ کیا ہے اور انہیں توقع ہے کہ کے چندر شیکھر راؤ غریبوں کو مکانات کی فراہمی ‘ بیواوں اور ضعیفوں کو وظائف کی تقسیم اور دوسرے امور میں وعدوں کی تکمیل کیلئے کام کرینگے ۔ شہر میں صفائی اور گندگی کے خاتمہ کیلئے بھی حکومت ایک جامع منصوبہ رکھتی ہے ۔ اس کو بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور عوام نے ٹی آر ایس کے منصوبوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا ریاستی حکومت کوموقع فراہم کیا ہے ۔ جس بھاری تعداد میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو بلدیہ کی نشستیں حاصل ہوئی ہیں وہ اس کی عوامی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس کی اس شاندار کامیابی کے بعد اب چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا مئیر بنانے کا خواب بھی پورا ہو رہا ہے ۔ ان پر اس کامیابی کے ساتھ عوام کی توقعات اور خواہشات کی تکمیل کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اب چیف منسٹر کے سامنے شہر کی ترقی کو یقینی بنانے اور عوام کی توقعات کی تکمیل کرنے کا فریضہ ہے ۔ شہر کی حالت ایسی نہیں ہے کہ اسے راتوں رات بدلا جاسکے ۔ اس کیلئے انتھک جدوجہد کی ضرورت ہے اور چیف منسٹر کے پاس اس کے منصوبے بھی موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان منصوبوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے اور اس کیلئے فنڈز کی کوئی کمی نہ رہنے پائے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ جی ایچ ایم سی کی کامیابی کے بعد مرکزی حکومت سے فنڈز حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں گے ۔ وہ مرکز پر اثر انداز ہونے کے موقف میں ہیں اور جب فنڈز حاصل ہوجائیں گے تو شہر کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے میں آسانی ہوگی ۔ چیف منسٹر نے جو ہاوزنگ اسکیم کا اعلان کیا ہے اس سے شہر کے غریب عوام میں ایک امید جاگی ہے اور بیواوں و معذورین کیلئے وظائف کا جو اعلان کیا گیا ہے اس سے بھی عوام ٹی آر ایس کی سمت راغب ہوئے ہیں۔ ان اسکیمات کو پوری طرح سے عمل آوری کرتے ہوئے عوام کی توقعات کو پورا کرنے چیف منسٹر کو عملی طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹی آر ایس کیلئے ایک اور مثبت پہلو ان نتائج سے یہ ہے کہ چیف منسٹر نے خود کو انتخابی سے دور رکھا تھا اس کے باوجود ان کی پارٹی نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ مثالی ہے ۔ چیف منسٹر نے جو حکمت عملی بنائی تھی اس پر انہوں نے انتہائی موثر انداز میں عمل آوری کو یقینی بنایا ہے ۔
چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی راما راؤ نے گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور انہوں نے جس شاندار انداز میں پارٹی کو کامیابی دلائی ہے وہ بھی کے ٹی آر کی قائدانہ صلاحیتوں کی مظہر ہے ۔ کے ٹی آر نے انتخابی مہم کے دوران سارے شہر میں گھوم پھر کر شہر کے جو حالات دیکھے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کا جو جائزہ لیا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں عوام کی توقعات کو پورا کرنے پر ساری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر نے انتخابات سے قبل ہی بلدی نظم و نسق کا قلمدان کے ٹی آر کے سپرد کیا ہے اس سے بھی ان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور انہیں عوام کو پارٹی سے مزید قریب کرنے اور شہر کی حالت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں بھی کامیابیوں کے سلسلہ کو برقرار رکھا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT