Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ٹی آر ایس کی99 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی

ٹی آر ایس کی99 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات ، تلگودیشم ، بی جے پی اور کانگریس کا صفایا ، مجلس کا 44 نشستوں پر قبضہ

حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں نئی تاریخ رقم کی ہے اور شاندار کامیابی کے ذریعہ بعض اپوزیشن جماعتوں کا عملاً صفایا کردیا۔ حیدرآباد کی بلدی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی پارٹی صرف اپنی طاقت پر میئر کے عہدہ پر قبضہ کرے گی۔ ٹی آر ایس نے150 رکنی بلدیہ میں 100سے زائد نشستوں کا جو نشانہ مقرر کیا تھا نہ صرف اس کی تکمیل میں کامیابی حاصل ہوئی بلکہ کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کو ایک ہندسی پارٹی تک محدود کردیا۔ حکومت کی حلیف مجلس اتحادالمسلمین کو گزشتہ 43کے مقابلہ میں ایک نشست کا فائدہ ہوا ہے۔ اس طرح بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی ’ کار ‘ نے تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنی کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد ٹی آر ایس نے کسی بھی موقع پر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مجالس مقامی کے انتخابات ہوں یا کونسل اور ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس نے ریکارڈ اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 150 رکنی گریٹر حیدرآباد میں ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری طور پر جن 128 نتائج کا اعلان کیا گیا ان میں ٹی آر ایس کو 99نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ مجلس 44نشستوں پر کامیاب رہی۔ بی جے پی 4 اور تلگودیشم اور کانگریس کو صرف ایک، ایک نشست پر اکتفاء کرنا پڑا ۔ گریٹر انتخابی نتائج نے تمام ماقبل رائے دہی سروے اور مابعد رائے دہی ایکزٹ پولس کو بھی مات دے دی ہے کیونکہ ٹی آر ایس کے حق میں نتائج ایکزٹ پولس سے بھی آگے رہے۔ گریٹر حیدرآباد میں اب ٹی آر ایس کو میئر کے عہدہ پر قبضہ کیلئے کسی بھی جماعت کی تائید کی ضرورت نہیں وہ تنہا اپنی طاقت سے میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر اپنے امیدوار منتخب کرسکتی ہے۔ انتخابات کی خصوصیت یہ رہی کہ برسر اقتدار جماعت سے انتخابی مفاہمت کے باوجود مجلس گزشتہ بلدیہ کی اپنی تمام نشستوں پر دوبارہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ گزشتہ بلدیہ میں اس کے ارکان کی تعداد 43تھی جو اب بڑھ کر ہوگئی ہے ۔بی جے پی اور تلگودیشم اتحاد کو ایکزٹ پول میں 20یا 25نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی تھی لیکن نتائج کے مطابق عوام نے اس اتحاد کو مسترد کردیا۔ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں نے بھی ٹی آر ایس کی تائید کی اور چندرا بابو نائیڈو اور لوکیش کی مہم بے اثر ثابت ہوئی۔ کانگریس پارٹی کا عملاً صفایا ہوگیا اور وہ صرف ایک نشست تک محدود ہوگئی۔گزشتہ بلدیہ میں کانگریس نے مجلس کے ساتھ مل کر بلدیہ پر حکومت کی تھی۔ کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کے لئے یہ نتائج حیرت انگیز ہیں۔ بلدی انتخابات میں مجلس بچاؤ تحریک کو ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پارٹی نے اگرچہ کئی نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے لیکن دو حلقوں اعظم پورہ اور اکبر باغ میں سخت مقابلہ تھا اور دونوں حلقوں میں بھی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم بی ٹی کے سابق کارپوریٹر امجد اللہ خاں خالد جو گزشتہ بلدیہ میں اعظم پورہ حلقہ سے منتخب ہوئے تھے اس مرتبہ انہوں نے اکبر باغ حلقہ سے مقابلہ کیا تھا اور اعظم پورہ کی محفوظ نشست سے اپنی اہلیہ کو امیدوار بنایا تھا۔ گریٹر انتخابات میں بائیں بازو جماعتوں کے علاوہ کسی اور پارٹی کو بھی کامیابی نہیں مل سکی۔

بلدی انتخابات: پارٹی پوزیشن
ٹی آر ایس :99
ایم آئی ایم :44
کانگریس :02
تلگودیشم :01
بی جے پی :04

TOPPOPULARRECENT