Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی ایس آئی پاس پالیسی سے تلنگانہ کی ترقی

ٹی ایس آئی پاس پالیسی سے تلنگانہ کی ترقی

حیدرآباد ۔19ڈسمبر ( سیاست نیوز) ریاست میں ٹی آر ایس زیر قیادت حکومت نے صنعتی و سرمایہ کاری کے شعبہ میں مختصر عرصہ کے دوران تلنگانہ کو ملک بھر میں ایک مثالی ریاست کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کی ہے اور بالخصوص ٹی ایس آئی پاس پالیسی کا اعلان کرنے کے بعد اب تک 49,463 کروڑ روپیوں کی سرمایہ کاری کے ذریعہ 2929صنعتی یونٹوں کی منظوری دی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سطح کی نامور ’’ ایپل‘‘ کمپنی بھی اپنا ایک اہم یونٹ تلنگانہ ریاست کے صدر مقام حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ گچی باؤلی میں قائم کررہی ہے اور تیز تر اقدامات کئے جارہے ہیں اور آٹو موبائیل شعبہ میں بھی اشوک لی لینڈ کمپنی اپنا ایک اہم ترین انفراسٹرکچر یونٹ ( باڈی بلڈنگ)  جملہ 500کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے ذریعہ قائم کررہی ہے ۔ اس طرح ریاست میں قائم کی جانے والی مختلف صنعتوں میںجملہ 1,95,390 لاکھ راست ملازمتیں اور مزید 3لاکھ  بالواسطہ ملازمتیں ( روزگار)  حاصل ہونے کے مواقع فراہم ہوں گے ‘ جبکہ تاحال ریاست تلنگانہ میں 1138 صنعتی اداروں نے تجارتی پیداوار کا آغاز کرچکے ہیں اور تقریباً 405 صنعتی یونٹس اڈوانسڈ اسٹیج میں پائے جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ ماباقی صنعتی یونٹس ( ادارے ) تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں ۔ آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ٹی ایس آئی ۔ آئی پاس ) (TS.IPass) پر ہوئے مختصر مباحث پر اپنا جواب دیتے ہوئے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے مذکورہ اظہار کیا اور بتایا کہ حکومت تلنگانہ بڑے پیمانے پر ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے کوشاں ہے ۔مسرس بی سدھاکر ریڈی کانگریس ‘ بھانو پرساد راؤ ٹی آر ایس ‘ سید الطاف حیدر رضوی مجلس ‘ رامچندر راؤ بی جے پی ‘ بی رویندر ٹی آر ایس ‘ کے راجگوپال ریڈی کانگریس ‘ یادو ریڈی ٹی آر ایس ارکان نے بھی مذـکورہ مباحث میں حصہ لیا ۔ قائد اپوزیشن کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سے مختلف سوالات کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ کتنے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار حاصل کررہے ہیں جبکہ زائد از تین لاکھ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہونے کا ادعا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ نوجوانوں کو حاصل ہوئی ملازمتوں میں تلنگانہ کے نوجوانوں کا فیصد کیا اور کتنی ملازمتیں حاصل ہوئی ہیں قائد اپوزیشن نے کہا کہ انہیں موصولہ اطلاع کے مطابق ایپل کمپنی حیدرآباد میں قائم کی جارہی تھی آخر بنگلور کیوں منتقل ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آج تلنگانہ میں سابق کی طرح ہر شعبہ میں آندھرائی کنٹراکٹرس کو ہی کام دیئے جارہے ہیں ۔ لہذا آئندہ مستقبل میں صرف تلنگانہ کے کنٹراکٹرس کو ہی کام دینے کی حکومت سے خواہش کی ۔اپوزیشن کے ایک سوال پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ایپل کمپنی بنگلور میں نہیں حیدرآباد میں ہی گچی باؤلی کیمس میں قائم ہورہی ہے اور کہا کہ قائد اپوزیشن کو ایپل کمپنی کے تعلق سے شاید غلط معلومات  فراہم کئے گئے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT