Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی ایس سبرامنیم کمیٹی کی نئی قومی تعلیمی پالیسی رپورٹ پر اعتراض

ٹی ایس سبرامنیم کمیٹی کی نئی قومی تعلیمی پالیسی رپورٹ پر اعتراض

سفارشات کو منسوخ کرنے اور بین مذہبی ماہرین تعلیم کی شمولیت پر زور ، امیر جماعت اسلامی حامد محمد خاں کی پریس کانفرنس
حیدرآبا۔/11اگسٹ، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کے سلسلہ میں ٹی ایس سبرامنیم کمیٹی کی رپورٹ پر شدید اعتراضات کئے ہیں۔ جماعت اسلامی نے کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات کو فوری منسوخ کرنے اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم کی شمولیت کے ذریعہ نئی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تاکہ ملک کیلئے قابل قبول تعلیمی پالیسی تیار کی جاسکے۔ امیر جماعت اسلامی تلنگانہ و اڈیشہ جناب حامد محمد خاں نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی پر جماعت اسلامی کی جانب سے اعتراضات پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس مسئلہ پر مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل سے نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1986کی تعلیمی پالیسی کے 30سال بعد این ڈی اے حکومت نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کی تدوین کیلئے سابق کابینی سکریٹری ٹی ایس سبرامنیم کی صدارت میں کمیٹی قائم کی جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ کمیٹی کی سفارشات پر وزارت فروغ انسانی وسائل نے 16اگسٹ تک عوام سے اعتراضات طلب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ نئی تعلیمی پالیسی میں دستور کے بنیادی ڈھانچہ کے اجزاء جمہوریت، اقدار، آزادی اور مساوات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ اس پالیسی میں مغربی تعلیمی نظام اور قدیم تہذیبی ورثے کو متعارف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مجوزہ قومی تعلیمی پالیسی کو بے سمت قرار دیا اور کہا کہ حکومت تعلیم کو کارپوریٹ شعبہ کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اقلیتی اداروں میں 25فیصد غیر اقلیتی طلبہ کے داخلوں کی تجویز کو غیر دستوری قرار دیا اور کہا کہ دستور ہند نے اقلیتوں کو جو حقوق فراہم کئے ہیں اس کے تحت وہ اپنی زبان، تہذیب اور تمدن کی حفاظت کیلئے تعلیمی ادارے قائم کرسکتے ہیں۔ حامد محمد خاں نے کمیٹی کی سفارشات میں یوگا کو لازمی قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ سراسر مشرکانہ عمل ہے۔ یوگا صرف ایک ورزش نہیں بلکہ ہندو طریقہ ہے۔ یوگا میں جو اشلوک ہیں وہ بھی مشرکانہ ہیں۔ یوگا کا ایک اہم جز سوریہ نمسکار ہے جسے مسلمان ہرگز قبول نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان خالق کی عبادت کرتا ہے نہ کہ مخلوق کی۔ انہوں نے کہ کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جب اسے لازم قرار دیا گیا تو مقامی عدالتوں میں درخواست پیش کی گئی۔ دونوں ریاستوں کے ہائی کورٹس نے یوگا کو اختیاری قرار دینے کی ہدایت دی اور یہ فیصلہ دراصل مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ اختیاری قرار دینے سے مسلم طلبہ مستثنیٰ نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے مجوزہ تعلیمی پالیسی کو کالعدم قرار دینے اور تمام مذاہب کے تعلیمی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ نئی سفارشات طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت نے ہائی اسکول کی سطح تک تعلیم کو زعفرانی کردیا ہے اور اب اس کی نظر اعلیٰ تعلیمی اداروں پر ہے۔ یونیورسٹیز میں طلبہ کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے غیر کارکرد سرکاری اسکولوں کی تعداد کم کرنے، سنسکرت کو متعارف کرنے، 200 بیرونی یونیورسٹیز کے قیام کی سفارش اور ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تعلیمی اداروں اور کیمپس میں طلبہ کی فعالیت پر نظر ثانی کی سفارشات کی بھی مخالفت کی۔انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر جماعت اسلامی اس سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کرے گی۔پریس کانفرنس میں جناب عبدالرحمن داؤدی سکریٹری شعبہ تعلیم جماعت اسلامی تلنگانہ، جناب عبدالرقیب حامد لطیفی، جناب محمد عبدالمجید سکریٹری میڈیا موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT