Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / ٹی بی سے صحتیاب ہونے والے ہمیں پیش قدمی کا راستہ دکھا سکتے ہیں

ٹی بی سے صحتیاب ہونے والے ہمیں پیش قدمی کا راستہ دکھا سکتے ہیں

رچرڈ آر ورما
ہندوستان میں امریکہ کے سفیر
اس ماہ کے اوائل میں دہلی میں ایک خوشگوار شام کو ٹی بی سے صحتیاب ہونے والے پانچ حوصلہ مندافراد اس مشکل مرض کو شکست دینے کے بارے میں اپنی روداد بیان کرنے کیلئے اکٹھے امریکی سفارتخانہ آئے۔ اس گروپ میں نامورہندوستانی فلم اداکار اور ٹی بی سے پاک ہندوستان کیلئے کال ٹو ایکشن کے برانڈ امبیسڈر امیتابھ بچن شامل تھے۔ انہوں نے یہ پیغام گھر گھر تک پہنچایا کہ ٹی بی کا مرض کسی کو بھی ہو سکتا ہے، اور ٹی بی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے سلسلے میں انکی قیادت ناگزیر رہی ہے۔
ٹی بی سے صحت یاب ہونیوالے دیگر لوگوں میں دیپتی چوہان بھی شامل تھیں جو چھ برس تک کثیرادویات کی مزاحمت والیٹیبی (MDR–TB) سے نبرد آزما رہیں اور اب مریضوں اور صحتیاب ہونے والوں کیلئے پیروکار کے بطور کام کرتی ہیں۔ انکے ساتھ کرن تیلوال بھی تھیں جنہیں صحتیاب ہونے کیلئے درکار مقوی غذا کیلئے دوسروں کے رحم و کرم پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ صحت عامہ کی ماہر للیتا شنکر بھی تھیں جنہیں ٹی بی میں مبتلا ہونے کا پتہ اس وقت چلا جب یہ مرض ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔ اور بلیسی کمار بھی تھیں جنہیں ٹی بی کی صحیح تشخیص کیلئے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب وہ دنیا بھر میں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کام کرتی ہیں کہ دوسرے مریضوں کو ویسی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انکی کہانیاں پْرزور انداز سے یاد دلاتی ہیں کہ بھارت میں ٹی بی ختم کرنے کی لڑائی کیوں اتنی اہم ہے، اور کیوں ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ ٹی بی سے متاثر ہر شخص تک رسائی حاصل کی جاسکے، بروقت علاج کے ذریعہ صحتیابی میں انکی مدد کی جا سکے، اور نئے لوگوں کو اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچایا جاسکے۔
حکومت ہند کے ساتھ ہماری شراکت داری کے تحت  بھارت کو ٹی بی سے پاک کرنے کی جدوجہد میں گزشتہ چند مہینوں میں کئی اہم اور بڑے اقدامات کئے گئے ہیں۔ امریکی سفارتخانہ کی ایجنسیاں اس سلسلے میں مصروف کار رہی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) ایک نئی اور عدیم المثال ریسرچ کی معاونت کر رہا ہے جس سے ہم ٹی وی کی بنیادی حیاتیات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے اور اسکا مقابلہ کرنے کیلئے نئے طریقے تلاش کرسکیں گے۔ اسی طرح امراض کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) ادویات کی مزاحمت والی ٹی بی تشخیص اور مؤثر علاج کیلئے نئے طریقوں کی تلاش اور آزمائش کررہے ہیں۔ اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) نے جدید اور اختراعی حل کی آزمائش اور پیمائش کیلئے تین نئے فیصلوں پر دستخط کئے ہیں جن سے ہندوستان میںٹی بی کے اقتصادی طور پر کمزور مریضوں کو مدد مل سکے گی۔ یو ایس ایڈ، ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) اور آئی کے پی نالج پارک حیدرآباد بھی ہندوستان کی کامیابیوں اور آزمودہ تکنیکوں کو یکجا کرکے انہیں آئندہ چند برسوں میں ٹی بی سے زیادہ متاثر دیگر ملکوں میں بروئے کار لانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔
لیکن ہندوستان میںاور دنیا بھر میں ٹی بی کا بوجھ پھر بھی بڑھتاجارہا ہے۔ دنیا بھر میں اکیلے کسی دوسرے متعدی مرض کے مقابلے ٹی بی سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ ہرسال تقریباْ15لاکھ سے بھی زیادہ لوگ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ بھارت میں ٹی بی کی وجہ سے ایک سال میں 220,000  لوگ موت کی آغوش میںپہنچ جاتے ہیں، اور اس مرض کے سبب خاندانوںاورکمیونٹیز کاافلاس اورتکلیف میںمبتلاہوجانے کا سلسلہ جاری ہے۔
چنانچہ اب جبکہ عالمی یوم ٹی بی قریب آرہاہے، میں پوچھتا ہوں: اس کے بعدکیا ہے؟ ہم اپنی کوششوں کو اگلے مرحلے پر لے جانے کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟
دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ہونے کے نا طے ہندوستان اورامریکہ فطری اتحادی ہیںجن کے بیچ ٹی بی کے انسداد، روک تھام، علاج، اورتحقیق کے میدان میںاشتراک کی طویل تاریخ رہی ہے۔ اب اس شراکت داری کو وسعت دینے کا عمل جاری رکھنا اورہمارے تعاون کو مزیدگہرا کرنا ایک چیلنج ہے۔
اس کیلئے ہمیںٹی بی کی تشخیص، علاج اورانسدادکیلئے نئی ایجادات اورنئے ایپروچ جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ ہمیں تمام ساجھیداروں تک پہنچنا ہوگا اور ٹی بی کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرناہوگاجس کے بارے میںہم جانتے ہیںکہ یہ ایک قابل علاج مرض ہے لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ ذہن نشیں رکھنا ہوگا کہ ٹی بی سے صحتیاب ہونے والوںکے تجربے اورمشاہدات مستقبل کیلئے لائحہ عمل تیارکرنے میںہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ہمیںاس معاملے میںدخل دینے اورآئوٹریچ مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہرمریض کی اس مسئلہ کے حل کے لازمی حصے کے بطور شناخت کی جاسکے۔ ہمیںصحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوںکی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹی بی کی روک تھام،تشخیص اورعلاج کیلئے بہترین طریقے اپنائیںاوراْن پرعملدرآمدکریں۔ ہمیں ٹی بی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اورنقطہ نظرتبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ مریض جلدازجلد علاج حاصل کرسکیں۔ دیپتی، للیتا، کرن، اور مسٹر بچن جیسے مریضوںکوذہن میں رکھ کر ہم نہ صرف یہ جان سکیں گے کہ ہمیں اپنی کوششیں کہاں مرکوز کرنی ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ سکیں گے کہ پیش قدمی کے راستوں پر ترغیب کہاں سے حاصل ہوگی۔
لہٰذاعالمی یوم ٹی بی کے موقع پرمیںحکومت ہنداوراس کے بہت سے شراکت داروںکی بھارت میں ٹی بی کے خاتمے کیلئے ان کے مضبوط عزائم کی ستائش کرتاہوں۔ ٹی بی اگر ایک مقام پر ہے تو سمجھئے کہ یہ مرض ہر مقام پر ہے اور ٹی بی کے خلاف لڑائی میں ہندوستان کو حاصل ہونے والی ہر کامیابی پوری دنیا کیلئے بھی کامیابی ہے۔ ان کامیابیوں اور مستقبل کے چیلنجوںکواعداد وشمارکے لحاظ سے دیکھنا آسان ہے۔  لیکن آج  میں سب سے درخواست کرتاہوں کہ ہم نے اس ماہ کے اوائل میں ٹی بی سے صحتیاب ہونے والو ں کی جو حقیقی کہانیاں سنیں ، ان کے بارے میں اورملک بھرمیںایسی ہزارہاکہانیوںکے بارے میں بھی سو چیں جو اذیت اوردل شکستگی، امیداورمضبوطی،اورلگن وجذبہ سے لبریز ہیں۔ ان کہانیوں میںاس ایپروچ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے جوہم ہندوستان میںٹی بی ختم کرنے کی لڑائی میںاختیارکررہے ہیں۔ یہ کہانیاں ہمیںیہ بھی یاد دلاتی ہیںکہ ہم اکٹھے کام کرکے جیت حاصل کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT