Thursday , April 27 2017
Home / اداریہ / ٹی جے اے سی اور ٹی آر ایس حکومت

ٹی جے اے سی اور ٹی آر ایس حکومت

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کو غریبوں کا مسیحا قرار دیا جاتا ہے ان کے حامیوں نے ان کے تعلق سے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ وہ اپنے وعدہ کے ’’پکے ‘‘ ہیں ۔ اس سے قبل کوئی ایسا چیف منسٹر نہیں آیا جس نے غریبوں کے درمیان پہونچ کر اتنے کام انجام دیئے ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاست میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے ایک فلاحی جامع منصوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے برعکس تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کے تحریک تلنگانہ کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جے اے سی نے مارچ نکالنے کااعلان کیا تو حکومت نے اس مارچ کی اجازت نہیں دی ۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کوڈنڈا رام کی زیرقیادت اپنے مطالبات میں شدت پیدا کرچکی تھی لیکن کوڈنڈا رام کو حراست میں لے کر اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی ۔جے اے سی کے فیصلے چیف منسٹر کے لئے شدید چیلنج بنتے جارہے ہیں ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کے لئے اپنے 15 سال طویل جدوجہد کاثمر حاصل کرنے کیلئے جے اے سی نے میدان عمل میں قدم رکھا ہے تو حکومت کو اس کے اصل مطالبات پر دھیان دینا ضروری ہے ۔ حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی اس جے اے سی کی اصل حامی ہے اب اس کی حکومت اس احتجاجی مارچ کو ناکام بنانے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ہے تو اس کا ریاست بھر میں غلط اشارہ جائے گا ۔ کے سی آر اور ان کے حامی چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف کوئی بھی انگلی نہ اُٹھائے ۔ کوڈنڈا رام کااحتجاج اس حکومت کے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔ حکومت کو کمزور کرنے والی کارروائیوں کو ناکام بنانے حکومت بھی اپنی طاقت کا استعمال کرنے میں پس و پیش نہ کرے تو پھر تصادم کی صورت پیدا ہوگی ۔ جب سے ریاست کاقیام عمل میں آیا ہے جے اے سی اور ٹی آر ایس میں لفظی جھڑپیں چلتی رہی ہیں۔ تلنگانہ تحریک سے دوری ، روزگار کی فراہمی بھی اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا ۔ گزشتہ ڈھائی سال سے تلنگانہ کے ہزاروں بے روزگار نوجوان سرکاری محکموں میں تقررات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی کا انتظار کررہے ہیں ۔ ریاست کے دوردراز علاقوں سے تعلیم یافتہ نوجوان اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے اور سرکاری روزگار حاصل کرنے کی غرض سے دارالحکومت حیدرآباد کا رخ کرکے مختلف مقامات اور خانگی ادارہ میں کوچنگ حاصل کررہے ہیں اور انھیں اس بات کی خوش فہمی ہے کہ حکومت کسی نہ کسی دن روزگار اعلامیہ جاری کرے گی ۔ حکومت کی خاموشی اور روزگار کی فراہمی سے متعلق ہونے والے مطالبات کو نظرانداز کرنے کی کوشش نے بیروزگار نوجوانوں کو حکومت کے خلاف مورچہ بندی کے لئے مجبور کردیا ہے تو حکومت کو اس تبدیلی اور سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے پہل کرنی چاہئے ۔ نئی ریاست تلنگانہ اور منقسم ریاست آندھراپردیش میں روزگار کا مسئلہ سنگین رہا ہے ۔ اگرچہ کہ نئی کمپنیاں قائم ہورہی ہیں لیکن تلنگانہ کا بیروزگار نوجوان سرکاری ملازمتوں کے لئے کوشاں ہے ۔ ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے کیوں کہ کے چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک کے دوران بیروزگار نوجوانوں کے حق میں بلند دعویٰ اور وعدے کئے تھے ۔ کوڈنڈا رام کے چلو حیدرآباد مارچ کی اپیل کے بعد ساری ریاست سے بیروزگار نوجوانوں کا مارچ حیدرآباد کی جانب ہونا فطری امر ہے ۔ پولیس نے اس مارچ کی اجازت نہیں دی ، تاہم پروفیسر کوڈنڈا رام نے حکومت کے لئے بڑا چیلنج کھڑا کردیا ہے تو یہ حکومت کی بھی سمجھداری ہوگی کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہل کرے۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے کے چندرشیکھر راؤ نے ہر گھر کو ایک ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا ان کے مخالفین ان کی اس وعدہ خلافی کے خلاف شدید احتجاج کررہے ہیں ۔ کے سی آر کی انتخابی مہم کی تقاریر میں روزگار فراہم کرنے کے وعدے ملیں گے لیکن ان وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کی وجہ سے ہی آج حکومت کے خلاف مارچ اور احتجاجی مظاہروں میں شدت پیدا ہورہی ہے تو دوسری طرف چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ دیوی دیوتاؤں پر 5 کروڑ روپئے کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ریاست کے اندر اگر احتجاجی مظاہروں اور مارچ نکالے جانے پر سختی برتی جائے تو اس سے ایک غلط نظیر قائم ہوگی اور احتجاج کا رُخ پرتشدد بن جائے تو اس کے لئے حکومت اور اس کانظم و نسق بھی ذمہ دار ہوگا ۔ تلنگانہ تحریک کے چمپیئن ہوکر کے سی آر نے خود تحریکوں کو کچلنے کی پالیسی اختیار کرلی ہے تو یہ سراسر ناکامی کی شروعات کہلائے گی ۔ پروفیسر کوڈنڈا رام کی گرفتاری اور دیگر طلباء کو حراست میں لینا ریاست کے تمام بیروزگار نوجوانوں کو مایوس کردینے کے مترادف ہے ۔ جن نوجوانوں نے اپنی ریاست کے حصول اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے کی اُمید کے ساتھ تلنگانہ تحریک کو کامیاب بنانے میں مدد کی تھی آج ان کے ساتھ ہی زیادتیاں کی جارہی ہیں تو حکومت اور پولیس کی یہ کارروائی قابل مذمت ہے ۔ جمہوری طورپر حقوق کے لئے لڑنا ہر ایک شہری کا حق ہے مگر حکومت نے ایک طرف غیرجمہوری طریقہ سے بیروزگار نوجوانوں کی توقعات کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا ہے تو آگے چل کر اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT