Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / پارلیمانی سرمائی سیشن ، نوٹ بندی پر سیاسی طوفان کی نذر

پارلیمانی سرمائی سیشن ، نوٹ بندی پر سیاسی طوفان کی نذر

کوئی اہم قانون سازی نہ ہوسکی ، مسلسل ہنگامہ آرائی اور التواء پر اسپیکر سمترامہاجن اور چیرمین حامد انصاری کا اظہار برہمی
نئی دہلی ۔ /16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے اٹھنے والا سیاسی طوفان پارلیمنٹ کے ایک ماہ طویل سرمائی سیشن کو اپنی لہروں میں بہالے گیا ۔ اس مدت کے دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی زبردست ہنگامہ آرائی کے سبب کوئی اہم قانون سازی نہیں کی جاسکی ۔ /16 نومبر کو سیشن کے آغاز کے بعد شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب لوک سبھا کے 92 گھنٹے ضائع ہوگئے ۔ راجیہ سبھا کی صورتحال بھی ایسی ہی رہی ، اہم ایوان بالا میں تضیع اوقات کا فوری طور پر صحیح یقین نہیں ہوسکا ۔دونوں ایوانوں میں جسمانی معذورین کے حقوق سے متعلق ایک مسودہ قانون کی منظوری کے بجز کوئی اہم قانون سازی نہیں ہوسکی ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن اور حکمراں جماعتوں کے مابین شاذ و نادر ہی ہونے والی دوستی کے سبب مختصر بحث کے بعد یہ بل آج ہی منظور ہوسکا ۔ ایسا ہی منظر دو دن قبل راجیہ سبھا میں دیکھا گیا ۔ سیشن کے دوران لوک سبھا میں انکم ٹیکس ترمیمی بل کو کسی بحث و مباحثہ کے بغیر اپوزیشن کے شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے درمیان منظور کرلیا گیا تھا ۔ لیکن راجیہ سبھا میں اس بل پر غور و بحث نہیں ہوسکا ۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن اور راجیہ سبھا کے صدرنشین حامد انصاری نے دونوں ایوانوں کے اجلاس کے التواء کا اعلان کرتے ہوئے سیشن کے دوران معطل اور ہنگامہ آرائی کے واقعات پر تشویش و برہمی کا اظہار کیا ۔ حامد انصاری نے کہا کہ ’’ایوان کے تمام گوشوں کو ناراضگی ، ہنگامہ آرائی اور ایجی ٹیشن کے درمیان فرق محسوس کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نعرہ بازی اور پوسٹرس لہرانے اور اپنی مقررہ نشستیں چھوڑکر ایوان کی کارروائی میں خلل اندازی کرنے پر ایوان کے قواعد میں مقررہ پابندیوں کو تمام گوشوں نے نظرانداز کردیا ہے ۔ ’’ صرف تعزیتی پیام پڑھتے وقت ہی ایوان میں امن رہنے لگا ہے ‘‘ ۔ حامد انصاری نے برہمی کے ساتھ کہا کہ ’’مسلسل اور باضابطہ خلل اندازی اس سیشن کا وطیرہ رہی ۔ پارلیمانی کارروائیوں کے ضابطہ اور قواعد کے مطابق انعقاد کے لئے احتجاج کا باوقار اظہار نہایت ضروری ہے ‘‘ ۔اپوزیشن جماعتیں بحث کے بعد ووٹنگ کے قواعد پر اصرار کررہی تھیں لیکن حکومت نے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT