Friday , August 18 2017
Home / اداریہ / پارلیمانی سیشن اور عوامی مسائل

پارلیمانی سیشن اور عوامی مسائل

کُھل کے اُس کا جواب کیا دیتا
نامکمل ہے ہر سوال اُس کا
پارلیمانی سیشن اور عوامی مسائل
مہنگائی سے پریشان ہندوستانی عوام کے سامنے حکمراں پارٹی اور اپوزیشن دونوں نے مل کر پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کو ضائع کرنے کا تہیہ کرلیا ہے تو پھر عوام کو آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی اور ناگفتہ بہ حالات سے گذرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ اپویشن کی حیثیت سے کانگریس جن موضوعات پر زور دے رہی ہے اس کا عام آدمیوں پر کوئی اثر نہیں ہونے والا کیونکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس صرف اپنی بقاء کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اسے مہنگائی پر بحث کرنے اور حکومت کا گریبان پکڑنے کی توفیق نہیں ہورہی ہے۔ کوئی بھی حکومت غلطیوں اور بلکہ غلط کاریوں سے پاک نہیں ہوئی۔ جب کانگریس کو اقتدار حاصل تھا تو اپوزیشن کی حیثیت سے بی جے پی نے وہی سب کچھ کیا تھا جو آج اپوزیشن بن کر کانگریس کررہی ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے وزیراعظم کی دو سال کی غلطیوں اور کئی پالیسیوں کو قابل گرفت بنایا ہے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات کو نشانہ تنقید بنایا ہے۔ اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی تقریباً مفلوج ہی رہی ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت میں شامل بعض داغدار وزراء کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے 3 وزراء کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے تو حکمراں پارٹی کو اپوزیشن کی بات ماننی ہوگی۔ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے بارے میں کانگریس کے مطالبات کی سماعت کے بغیر حکومت اس سرمائی سیشن کو بھی خاموشی سے ختم کراسکتی ہے۔ پنڈت نہرو کے دور کے کانگریس ترجمان اخبار نیشنل ہیرالڈ پر پابندی عائد کرنے کے کیس کی سماعت کرنے والے جج نے ناکافی ثبوت کے حوالے سے اب تک کوئی رائے نہیں دی لیکن ملک کی اول اپوزیشن کی سربراہ اور ان کے فرزند راہول گاندھی کو سمن جاری کرکے عدالت میں طلب کیا ہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی پرانے مطالبہ کو دوہرا رہی ہے کہ بی جے پی کے بدعنوان قائدین جیسے شیوراج سنگھ چوہان، وسندھرا راجے اور رمن سنگھ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں برطرف کردیا جائے۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کو مفلوج بنانے کیلئے یہ مطالبہ بھی کافی ہے۔ گذشتہ پارلیمانی سیشن میں بھی سارا وقت ضائع ہوگیا تھا۔ کانگریس نے اس موضوع پر وزیرخارجہ سشماسوراج اور دیگر بی جے پی چیف منسٹروں کو مبینہ اسکامس میں ملوث ہونے کی پاداش میں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن کے موقف اور حکمراں پارٹی کی ضد کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن سرد خانے کی نذر ہوجائے گا، ایک طرف کانگریس کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں عدالت کا سمن جاری ہوا کہ صدر پارٹی سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی 19 ڈسمبر کو ذیلی عدالت میں پیش ہونا چاہئے۔ عدالت نے قومی پارٹی کے ان دونوں قائدین کے خلاف سخت پیامات دیئے ہیں جن سے قومی سیاست میں تلخی مزید بڑھ گئی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ کیس کو اٹھانے والے بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی کا استدلال بھی الگ ہے۔ نیشنل ہیرالڈ اخبار کو پنڈت جواہر لال نہرو نے شروع کیا تھا اب یہ اخبار بند ہوچکا ہے مگر سبرامنیم سوامی نے اس اخبار کی ملکیت اور اس کمپنی کے کئی رول پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ اخبار کی اشاعت کی ذمہ داری ادا کرنے والی کمپنی کے کئی سو کروڑ روپئے کے اثاثے غیرقانونی طور پر بینک انڈین پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام کے ادارے کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔ اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائرکٹرس میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے علاوہ کانگریس کے کئی قائدین شامل ہیں۔ کانگریس کو اس کیس میں حکمراں پارٹی کی انتقامی کارروائی نظر آرہی ہے مگر اس کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جب مرکز میں اس کی حکومت تھی اور اپوزیشن کی صف میں بی جے پی ایوان کے اندر ہنگامہ برپا کررہی تھی تو اس نے کچھ نہیں کیا اب جیسے کو تیسا کا عمل کرتے ہوئے نریندر مودی اپنی حکومت کی بقاء کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ نریندر مودی نے جب کروڑہا روپئے لے کر لوک سبھا انتخاب جیتا ہے تو وہ ملک میں بڑی کمپنیوں کے مفادات میں ہی کام کریں گے۔ کارپوریٹ کمپنیوں سے لیا گیا انتخابی قرض ہندوستان کی بنیادوں کو ہلاکر ہی دم لے گا کیونکہ مودی حکومت پر اتنا بھاری قرض ہے کہ آئندہ کئی سالوں تک اس کی ادائیگیاں جاری رہیں گی۔ اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس چاہتی ہے کہ حکومت اس کی بات سنے اور سیاسی انتقام لینے سے باز آجائے۔ ان دونوں سیاسی گروپس کو بظاہر عوامی مسائل سے دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ لوک سبھا انتخابات میں اپنی بدترین شکست کے باوجود کانگریس نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ پارٹی قیادت ہنوز الجھن اور کشمکش کا شکار ہے۔ داخلی طور پر پارٹی بحران سے دوچار ہے جس کے نتیجہ میں پارلیمانی سیشن اور عوامی مسائل یکسر نظرانداز کردیئے جارہے ہیں۔ اسی طرح کی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے حکمراں پارٹی کو اپنی غلط پالیسیاں روبہ عمل لانے کی راہ ہموار ہورہی ہے۔
شام کا بحران اور سعودی عرب
شام کے بحران کو دور کرنے کیلئے سعودی عرب نے شامی اپوزیشن گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش شروع کی ہے۔ اگر حکومت شام اور اپوزیشن کی بات چیت درست سمت میں پیشرفت کرتی ہے تو شام کے بحران کو دور کرنے کی امید پیدا ہوگی۔ سعودی عرب نے شام کی اپوزیشن کے قائدین کو یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو قابل ستائش کوشش ہے۔ شام کی بشارالاسد حکومت کی برطرفی یا ازخود اقتدار چھوڑ دینے کی تجاویز کے درمیان اگر سعودی عرب اپوزیشن مذاکرات کو کامیاب بناتا ہے تو مثبت تبدیلی آئے گی لیکن صدر شام بشارالاسد کی حکومت نے اپوزیشن کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر ان کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے یہ اعتراف کیا کہ بشارالاسد حکومت اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ ایسے میں مذاکرات کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔ بشارالاسد حکومت کو بیدخل کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے تو اپوزیشن کو اہم رول ادا کرنے کا موقع ملے گا مگر باغیوں کے خلاف سرکاری افواج کا ساتھ دینے والے روس نے شام کی حکومت پر کوئی آنچ نہ آنے دینے کا عہد کیا ہے۔ ایسے میں شام کا بحران پہلے سے زیادہ نازک رخ اختیار کرجائے گا۔ اگر صدر روس پوٹین موافق اسد پراثر انداز ہوتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دولت اسلامیہ کے خلاف ان کی لڑائی کے بھی نتائج بھیانک ہوں گے۔ شام اور اطراف و اکناف کے ملکوں میں امن کے قیام کیلئے کوشاں سعودی عرب کی اخلاقی تائید بھی کی جائے تو شام کا بحران حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلہ میں منگل کو ہونے والے اہم اجلاس کے نتائج پر تمام کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ بشارالاسد نے صاف طور پر انکار کردیا ہے کہ وہ مسلم گروپس سے ہرگز بات نہیں کریں گے تو امن کی توقعات کو دھکہ پہنچانے کی کوشش ہے۔

TOPPOPULARRECENT