Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / پارلیمانی مانسون سیشن کا اختتام ، 14 بِل منظور، ارکان کے استعفیٰ

پارلیمانی مانسون سیشن کا اختتام ، 14 بِل منظور، ارکان کے استعفیٰ

نئی دہلی 11 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کا مانسون سیشن آج اختتام ہوا، جس میں 19 نشستیں ہوئیں اور لوک سبھا میں 14 بلوں کو منظوری دی گئی جن میں بینکنگ سے متعلق ترمیمی بل شامل ہے۔ ایوان زیریں میں 6 کانگریس ارکان کو نہایت نامناسب برتاؤ پر معطل کیا گیا۔ اِس مانسون سیشن کے دوران ملک کے صدرجمہوریہ اور نائب صدر کے عہدوں کے لئے انتخابات بھی منعقد ہوئے۔ راجیہ سبھا کا سیشن بھی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا جہاں 9 بلز منظور کئے گئے اور متعدد کلیدی مسائل پر مباحث ہوئے۔ جیسے پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات اور ملک کو درپیش زرعی بحران، راجیہ سبھا میں مانسون سیشن کی اہم جھلکی یہ رہی کہ نئے صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے آج ایوان بالا میں کارروائی کے آخری روز جائزہ حاصل کیا۔ لوک سبھا میں کئی مسائل پر جیسے گاؤ دہشت گردی اور ہجوم کے تشدد، زرعی بحران اور گجرات میں نائب صدر کانگریس راہول گاندھی پر بی جے پی ورکرس کے حملے پر گرما گرم بحث ہوئی اور لفظی جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ ہندوستان چھوڑو تحریک کے 75 سال پر خصوصی مباحث بھی منعقد کئے گئے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ ایوان کی کارروائی مانسون سیشن کے دوران 71 گھنٹے چلی۔ اُنھوں نے بتایا کہ مختلف نوعیت کی خلل اندازیوں کے سبب 29.58 گھنٹے ضائع ہوئے لیکن ایوان میں 10.36 اضافی گھنٹے کارروائی منعقد کرتے ہوئے اِس کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ لوک سبھا میں 6 کانگریس ایم پیز کو کرسی صدارت کی طرف کاغذات پھینکنے کی پاداش میں 5 دن کے لئے معطل کیا گیا۔ معطل کانگریس ارکان گورو گوگوئی، کے سریش، ادھیر رنجن چودھری، رنجیت رنجن، سشمیتا دیو اور ایم کے راگھون رہے۔ راجیہ سبھا میں 19 نشستوں کے دوران ایوان کی کارروائی زائداز 80 گھنٹے چلی لیکن مختلف مسائل پر گڑبڑ کی وجہ سے تقریباً 25 گھنٹے ضائع ہوئے۔ اِس ایوان نے بھی زائداز 7 گھنٹے زیادہ کارروائی چلاتے ہوئے قانون سازی اور دیگر کام کاج کو مکمل کیا۔ وینکیا نائیڈو نے ایوان کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے سے قبل سیشن کے دوران کارروائی کی روئیداد پیش کی جو 17 جولائی کو شروع ہوئی تھی۔ دو نئے ارکان ونئے دینو تنڈولکر، سمپتیا یوکی ایوان بالا میں شامل ہوئے جبکہ بی ایس پی لیڈر مایاوتی اور وینکیا نائیڈو مستعفی ہوئے۔
سیشن کے دوران مرکزی وزیر انیل مادھو دوے اور موجودہ رکن ٹی گوردھن ریڈی کے ساتھ ساتھ 11 سابق ارکان کے انتقال پر تعزیتی بیانات بھی پیش کئے گئے۔ ملک کے کئی حصوں بشمول شمال مشرق میں سیلابی بارش اور جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دہشت گردانہ حملے کا تذکرہ بھی ہوا۔

TOPPOPULARRECENT