Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / پارلیمانی کارروائی کو درہم برہم کرنا کانگریس کی سازش: وزیر اعظم

پارلیمانی کارروائی کو درہم برہم کرنا کانگریس کی سازش: وزیر اعظم

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressing the public meeting at the inauguration of the New Housing Scheme, in Chandigarh on September 11, 2015.

رشی کیش / چندی گڑھ /11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے آج الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے سازش کر رہی ہے۔ کانگریس منفی سیاست میں ملوث ہے۔ ہندوستان کی ترقی کو روکنے کے لئے وہ پارلیمانی عمل کو درہم برہم کر رہی ہے۔ رشی کیش (اترا کھنڈ)، سہارنپور (یو پی) کے علاوہ چندی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کی کارروائی روک دینے کے لئے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ منفی سیاست اور مؤثر اپوزیشن کے رول کے درمیان بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ انھوں نے رشی کیش میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا اور اس پر تنقید کرنا ٹھیک ہے، لیکن منفی سیاست چلانا جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ کانگریس کو  ان دو باتوں کے فرق کو سمجھنا اور عوام کے فیصلہ کا احترام کرنا چاہئے۔ وہ لوگ ملک کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں، عوام نے انھیں لوک سبھا انتخابات میں شکست دی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ انتقام لینا چاہتے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ عوام منفی سیاست میں ملوث لوگوں کو پہچان لیں گے اور انھیں آنے والے دنوں میں سزا دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حربے زیادہ دن نہیں چل سکتے۔ کانگریس آنے والے لوک سبھا انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل کرنے سے قاصر رہے گی۔ اگر کانگریس ملک کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرتی رہے گی تو عوام اسے سزا دیں گے۔ چندی گڑھ میں جلسہ عام سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ عوام پارلیمنٹ کو منتخب ارکان روانہ کرتے ہیں، تاہم 40 ارکان پارلیمنٹ نے مل کر جمہوریت کے اصولوں کے خلاف سازش کی ہے اور یہ لوگ عوام کی مرضی کے خلاف کام کر رہے ہیں، جو عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ انھوں نے کانگریس کو عملاً چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا سے بڑھ کر جن سبھا  بھی ہے، عوام کی پارلیمنٹ ہی اسے سزا دے گی۔ سہارنپور میں مودی نے کہا کہ کانگریس اب لوک سبھا انتخابات میں 44 نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے، کیونکہ اس نے ایک دہا تک اقتدار میں رہ کر غلط پالیسیوں کو اختیار کیا تھا۔ انھوں نے کانگریس سے کہا کہ وہ اپنا محاسبہ کرے، کامیابی اور ناکامی جمہوری عمل کا حصہ ہے اور بی جے پی کو بھی صرف دو نشستیں ملی تھیں، لیکن اس نے کبھی منفی سیاست نہیں کی اور نہ ہی کوئی غلط کھیل کھیلا، اس نے ہمیشہ عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس نے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کیا۔ وہ لوگ یہی سوچتے رہے ہیں کہ اقتدار ان کے گھر کی لونڈی ہے اور یہ اقتدار ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ یہ سچ ہے کہ ایک چائے والا، ایک غریب آدمی کا بیٹا، ان کے سامنے کھڑا ہے۔ ان کی غریب دشمن ذہنیت اب انھیں ناکام بنانے سے قاصر ہے۔ وہ ہمارے اقتدار کو ہضم نہیں کر رہے ہیں، ان کی پارٹی مکمل اکثریت سے منتخب ہوئی ہے۔ کانگریس کا پرچم جو پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک بلندی پر لہرا رہا تھا، آج کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ انھوں نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور بنگلور کے بلدی انتخابات میں کانگریس کی شکست کا حوالہ دیا، جہاں عوام نے اسے مسترد کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT