Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ اور مقننہ میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات کی درخواست

پارلیمنٹ اور مقننہ میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات کی درخواست

اے پی اسمبلی میں بل منظور، خواتین کے مسئلہ پر جگن اور وزراء میں بحث و تکرار

حیدرآباد 8 مارچ (پی ٹی آئی) آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی نے آج ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے درخواست کی ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے خواتین تحفظات بِل منظور کی جائے۔ بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر ریاستی چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے ایوان میں خصوصی بیان دیا۔ بعدازاں اس ضمن میں ایک قرارداد پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ چندرابابو نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’یہ ایک دیرینہ حل طلب مطالبہ ہے۔ بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر ہم مرکز سے درخواست کرسکتے ہیں کہ خواتین کے تحفظات کے لئے تحفظات بل وضع کی جائے اور خواتین کو ان کا مستحقہ حق دیا جائے‘‘۔ اپوزیشن لیڈر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے چیف منسٹر کے بیان کا مضحکہ اُڑانے کی کوشش کی اور کہاکہ تلگودیشم میں خواتین کا کوئی احترام نہیں ہے۔ جگن نے کہاکہ ’’آپ کا ایک ایم ایل اے، ریت مافیا کو کچلنے کی کوشش کرنے والی خاتون ایم آر او سے دھنگا مشتی کرتا ہے۔ آپ نے ہماری ایک خاتون رکن اسمبلی کو کسی وجہ کے بغیر ایک سال کے لئے ایوان سے معطل کردیا۔ ایک وزیر کا بیٹا حیدرآباد میں ایک خاتون سے چھیڑ چھاڑ و بدسلوکی میں ملوث ہے۔ آپ کا ایک رکن اسمبلی، خواتین کے تعلق سے بُری باتیں کرتا ہے۔ آپ کے پاس خواتین کا کیا یہی احترام ہے؟‘‘ جگن نے الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر نے اپنے خصوصی بیان میں جو کچھ کہا ہے وہ سفید جھوٹ ہے۔ تاہم حکمراں تلگودیشم پارٹی کے ارکان نے ایک کے بعد دیگر اپنے خطاب کے دوران جگن پر جوابی تنقید کی جس کے نتیجہ میں وہ (جگن) لاجواب ہوگئے۔ بعدازاں چیف منسٹر نے قرارداد پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT