Sunday , September 24 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ بجٹ اجلاس روایت سے ایک ماہ قبل طلب کرنے کی تجویز

پارلیمنٹ بجٹ اجلاس روایت سے ایک ماہ قبل طلب کرنے کی تجویز

بجٹ کی پیشکشی کے عمل کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے شیڈول سے علیحدہ کرنے کی مساعی ۔ بجٹ کی تیاریوں کا جاریہ ماہ آغازمتوقع
نئی دہلی 11 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بجٹ کی پیشکشی کو قبل از وقت مکمل کرلینے کا فیصلہ کرلینے کے بعد اب حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بجٹ کی پیشکشی ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے عمل کے دوران نہ ہونے پائے ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے یہ بات بتائی ۔ 2017 کے اوائل میں پانچ ریاستوں اتر پردیش ‘ پنجاب ‘ اترکھن؛ ‘ گوا اور منی پور میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ جیٹلی نے بتایا کہ اصولی طور پر ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کی تواریخ قبل از وقت کرلیں گے ۔ کابینہ نے 21 ستمبر کو اصولی طور پر فیصلہ کیا تھا کہ مرکزی بجٹ ماہ فبروری کے آخری کام کے دن پیش کرنے کی برطانوی دور سے چلی آرہی روایت کو بدلا جائیگا ۔ حکومت بجٹ اجلاس روایتوں سے ایک ماہ قبل طلب کرنا چاہتی ہے تاکہ سالانہ اخراجات اور منصوبوں کی قانونی منظوریاں حاصل کی جاسکیں اس کے علاوہ اس میں ٹیکس تجاویز بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ یہ عمل نئے مالیاتی سال یکم اپریل سے قبل مکمل ہوجائے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کو قبل از وقت اس لئے طلب کرنا چاہتے ہیں کہ سارا بجٹ کا عمل مکمل ہوجائے

اور مالیاتی بل کو بھی منظوری حاصل ہوجائے تاکہ ہم یکم اپریل سے اس پر عمل کریں نہ کہ ماہ جون سے ۔ جون سے مانسون کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ ایسے میں اخراجات کا آغاز ماہ اکٹوبر سے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اخراجات کا آغاز بھی یکم اپریل سے ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بجٹ انتخابی عمل کے درمیان پیش کرنا نہ پڑے ۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ بجٹ کی پیشکشی کا عمل انتخابات سے قبل مکمل ہوجائے یا پھر انتخابات کے بعد ہو۔ وزارت فینانس کی پہلی تجویز تھی کہ بجٹ کی پیشکشی کی تاریخ یکم فبروری مقرر کردی جائے اور سارا عمل 24 مارچ تک مکمل ہوجائے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس 25 جنوری سے قبل شروع ہو اور تین ہفتوں کی تعطیلات فبروری کی 10 یا 15 سے شروع ہوکر مارچ کی 10 تاریخ تک مکمل ہوجائیں۔ تاہم اسمبلی انتخابات مختلف مراحل میں ہوسکتے ہیں

ایسے میں یہ امکان ہے کہ بجٹ شیڈول پولنگ یا انتخابی مہم سے ٹکرا جائیگا ۔ پنجاب ‘ منی پور اور گوا اسمبلیوں کی معیاد 18 مارچ 2017 کو ختم ہونے والی ہے جبکہ اترکھنڈ اسمبلی کی معیاد 26 مارچ تک اور اترپردیش اسمبلی کی معیاد 27 مئی 2017 تک ہے ۔ مرکزی کابینہ نے گذشتہ مہینے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ علیحدہ ریل بجٹ پیش کرنے کی 92 سالہ روایت کو بھی ختم کردیا جائے اور اس کو عام بجٹ میں ضم کردیا جائے ۔ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے بجٹ منظوریاں دو مراحل میں حاصل کرنی پڑتی ہیں اور یہ عمل ماہ مئی کے تیسرے ہفتے تک جاسکتا ہے ۔ تمام حالات کو دیکھتے ہوئے وزارت فینانس نے تجویز کیا ہے کہ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس 25 جنوری سے قبل شروع ہوجائے جو موجودہ طریقہ کار سے ایک ماہ قبل ہوگا ۔ ایسے میں بجٹ کی تیاریوں کا جاریہ ماہ ہی آغاز ہوسکتا ہے اور گھریلوپیداوار کے تخمینے 7 فبروری کی بجائے 7 جنوری کو جاری کئے جاسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ عنقریب کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT