Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / پارلیمنٹ تعطل ‘اڈوانی کی ناراضگی

پارلیمنٹ تعطل ‘اڈوانی کی ناراضگی

آپ سُن لیں تو زمانے کو سُنانا ہوگا
چشمِ بیدار نے اک خواب دکھایا مجھ کو
پارلیمنٹ تعطل ‘اڈوانی کی ناراضگی
بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے فیصلے سے جہاں سارے ملک میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں پارلیمنٹ میں بھی تعطل پیدا ہوگیا ہے ۔ جس وقت سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوا ہے اس وقت سے اس مسئلہ پر دونوں ایوان لوک سبھا اور راجیہ سبھا میںہنگامہ آرائی چل رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر مسلسل ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان میں مباحث کروانے اور وزیر اعظم کی جانب سے مباحث کا جواب دئے جانے کا اصرار کیا جا رہا ہے ۔ حکومت اپنی جانب سے ادعا کر رہی ہے کہ وہ بھی اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہے لیکن وہ اس بات کیلئے تیار نہیں ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس کا جواب دیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں اور اس میں کسی طرح کی نرمی پیدا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دونوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پارلیمنٹ میں تعطل طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ پارلیمنٹ کے تعطل پر بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا کہ وہ ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں ایوان کی رکنیت سے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اڈوانی نے پارلیمانی تعطل پر ناراضگی جتائی ہے ۔ چند دن قبل بھی انہوں نے وایوان میں ہنگامہ آرائی پر تنقید کی تھی اور یہ تک ریمارک کردیا تھا کہ اسپیکر لوک سبھا یا پھر وزیر پارلیمانی امور بھی پارلیمنٹ نہیں چلا رہے ہیں۔ آج بھی اڈوانی نے اس تعطل پر ناراضگی ظاہر کی اور انہوں نے ایک طرح سے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج بھی اپوزیشن کانگریس کے ساتھ بات چیت کی جاسکتی ہے تاکہ ایوان میں نوٹ بندی کے مسئلہ پر ایوان میں مباحث ہوسکیں۔ اڈوانی کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے جو تعطل پارلیمنٹ میں چل رہا ہے اس سے سارا سشن ہنگاموں کی نذر ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے اور یہ در اصل پارلیمنٹ کی شکست ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو اس مسئلہ پر لچکدار موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور کسی کو بھی اس مسئلہ پر اپنی جیت یا ہار محسوس نہیں کرنی چاہئے ۔ یہ در اصل اپوزیشن اور حکومت دونوں کو تلقین تھی کہ وہ اپنے موقف میں لچک اور نرمی پیدا کریں۔
چند دن قبل صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے بھی پارلیمنٹ کے تعطل پر ناراضگی جتائی تھی ۔ یہ روایت سے الگ صورتحال تھی جب صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ کے تعطل پر اظہار خیال کیا تھا ۔ صدر جمہوریہ نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ وہ خدا کیلئے پارلیمنٹ میں اپنا کام کریں۔ یہ ایسا ریمارک تھا جس سے پرنب مکرجی کی تکلیف کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا جو وہ پارلیمنٹ میں ہنگاموں کی وجہ سے محسوس کر رہے ہیں۔ اب اڈوانی نے بھی استعفی دینے تک کی بات کہی ہے ۔ یہ در اصل اپوزیشن اور حکومت دونوں کیلئے لمحہ فکر ہے ۔ دونوں کو اس مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر نریندر مودی حکومت کوا پنی آمرانہ روش اور ہٹ دھرمی کو ترک کرتے ہوئے ایوان کے تقدس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اسے اپوزیش کی تنقیدوں کا سامنا کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن کی تشویش کا جواب دینا اور پارلیمنٹ میں حکومت کے موقف کو واضح کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری بنتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی اس ذمہ داری سے فرار حاصل کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کا پورا ایک سشن سارے ہنگاموں کی نذر ہوجانا اچھی بات نہیں ہے ۔ اس کیلئے اگر اپوزیشن ذمہ داری ہے تو اس سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر تبادلہ خیال کے ذریعہ ایوان میں نظم بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے تھے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ہے بلکہ اس نے اپوزیشن کو مزید اشتعال دلانے جیسے ریمارکس کئے ہیں۔
حکومت کا یہ رویہ پارلیمانی جمہوریت کیلئے اچھی مثال نہیں ہوسکتا ۔ اڈوانی کے نظریات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن وہ پارلیمنٹ کے سینئر ترین ارکان میں شامل ہیں اور اگر وہ بھی حکومت کے رویہ اور اس کی ایوان کی کارروائی چلانے میں عدم دلچسپی سے نالاں ہوسکتے ہیں تو پھر حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ ایوان کی کارروائی کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے اس ذمہ داری کی تکمیل کیلئے کوشش کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن ہو یا حکومت کو کسی کو بھی اسے اپنی سیاسی کامیابی یا شکست سمجھے بغیر عوام کے مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کا مفاد اسی میں ہے کہ انہیں درپیش مسائل کو ایوان میں موضوع بحث بنایا جائے ۔ حکومت سے سوال کیا جائے ۔ حکومت اس کا جواب دے اور مسائل کی یکسوئی کیلئے اپوزیشن و حکومت دونوں مل کر کوشش کریں ۔ یہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور بنیاد کو کمزور کرنے سے سب کو گریز کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT