Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ مانسون سشن کا پہلا ہفتہ شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی نذر

پارلیمنٹ مانسون سشن کا پہلا ہفتہ شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی نذر

دونوں ہی ایوانوں میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا ۔ ایوان میں نعرے اور جوابی نعرے ۔ تلخ الفاظ کا بھی تبادلہ

نئی دہلی 24 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مانسون سشن کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ کی کارروائی پوری طرح شور شرابہ و ہنگامہ کی نذر ہوگئی جبکہ دونوں ہی ایوانوں کو آج پیر تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ اس دوران دونوں ایوانوں میں کوئی کام انجام نہیں دے اگیا اور اپوزیشن و برسر اقتدار جماعت کے مابین للت مودی تنازعہ اور ویاپم اسکام پر تعطل برقرار ہے ۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی چیف منسٹر وسندھرا راجے سندھیا سے سابق آئی پی ایل سربراہ للت مودی کی مدد کرنے اور ویاپم اسکام کیلئے چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیو راج سنگھ چوہان سے استعفے کے اپنے مطالبہ پر اٹل موقف اختیار کیا ہوا ہے ۔

اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے آج بی جے پی کے ارکان نے بھی نعرہ بازی کی اور ان کا کانگریس ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایوان کے اندر تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا ۔ بی جے پی کے ارکان نے آج صبح پارلیمنٹ کے باب الداخلہ پر اپوزیشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی نعرہ بازی اور بی جے پی ارکان کے جوابی نعروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد اسے دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ اسے ابتداء میں گیارہ بجے دن تک ملتوی کیا گیا تھا اور جب گیارہ بجے دوبارہ آغاز پر بھی وہی صورتحال رہی تو ایوان کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی رکدیا گیا ۔ کانگریس کے ارکان نے پلے کارڈز رکھاتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہو کر نعرہ لگائے ۔ اسی وقت ایوان میں وقفہ سوالات کا آغاز ہوا تھا ۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے کانگریس ارکان کے رویہ پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایوان میں مسائل اٹھائے جائیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لیا جائے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کارروائی ملتوی کردی ۔ 21 جولائی کو سشن کے آغاز کے بعد سے یہاں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا ہے جبکہ دونوں ہی ایوان میں نعرہ بازی اور اپوزیشن و برسر اقتدار ارکان کے مابین لفظی تکرار کی وجہ سے بارہا کارروائی ملتوی کی گئی ہے ۔

ایوا ن کے آج دن کے ایجنڈہ میں جومسائل تھے انہیں بھی پورا نہیں کیا جاسکا ۔ آج کی کارروائی میں دہلی ہائیکورٹ ( ترمیمی ) بل اور درج فہرست ذاتوں و قبائل ( انسداد مظالم ) ترمیمی بل کو پیش ہونا تھا ۔ راجیہ سبھا میں بھی برسر اقتدار ارکان اور کانگریس ارکان کے مابین سخت الفاظ کے تبادلہ کے نتیجہ میں کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کیا گیا جبکہ بعد میں اسے بھی دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ کانگریس اور بی جے پی کے ارکان میں اس وقت تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا جب قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کیلئے برسر اقتدار جماعت کو ذمہ دار قرار دیا ۔ غلام نبی آزاد کے الزام پر بی جے پی کے ارکان نے مرکزی وزرا روی شنکر پرساد اور پیوش گوئل کی قیادت میں جوابی وار کرتے ہوئے تعطل کیلئے اپوزیشن کو ذمہ دار قرار دیا ۔ اس پر کانگریس ارکان برہم ہوگئے اور وہ نعرے لگاتے ہوئے وہاں جمع ہوگئے ۔ اس دوران بی جے پی ارکان بھی ہنگامہ کرتے رہے جس پر نائب صدر نشین پی جے کورئین نے سوال کیا کہ برسر اقتدار ارکان کیوں مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اس پر غلام نبی آماد نہ کہا کہ یہی برسر اقتدار جماعت ہے جو ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT