Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ مسلسل تیسرے دن بھی شوروغل کی نذر

پارلیمنٹ مسلسل تیسرے دن بھی شوروغل کی نذر

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی ، 70 افراد کی اموات پر قرارداد کی منظوری کیلئے اصرار
نئی دہلی ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کا مزید ایک دن ضائع ہوگیا ۔ اپوزیشن نے 8 نومبر کو کئے گئے حکومت کے فیصلہ کے مختلف پہلوؤں پر دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ آرئی کی ۔ لوک سبھا ، لگاتار تیسرے دن بھی آج مقررہ کارروائی نہ کرسکا کیونکہ اپوزیشن نے نوٹوں کی منسوخی کے خلاف تحریک التواء کی پیشکش اور ایوان کے اس قاعدہ کے تحت بحث کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جس میں بحث کے اختتام پررائے دہی لازمی ہوتی ہے ۔ پارلیمانی سرمائی سیشن کے آغاز کے موقع پر ایوان بالا راجیہ سبھا میں اس مسئلہ پر غیرمختتم بحث ہوئی تھی جس کے بعد مسلسل تعطل و التواء کا سلسلہ جاری رہا اور آج بھی مقررہ کام نہیں کئے جاسکے کیونکہ اپوزیشن نے بحث کے آغاز کی اجازت نہیں دی ۔ ایوان بالا میں اس مسئلہ پر جاری ہنگامہ آج اس وقت نیا موڑ اختیار کرگیا جب اپوزیشن نے اصرار کیا کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد مبینہ سخت دشواریوں سے فوت ہونے والے 70 افراد کے سوگ میں قرارداد کی منظوری کے بغیر بحث شروع نہیں کی جائے گی بالخصوص کانگریس ، بی ایس پی ، ٹی ایم سی اور سی پی آئی( ایم ) نے قرارداد کی منظوری پر اصرار کیا ۔ قائد ایوان اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر بحث سے فرار اختیار کررہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان ، ایوان کے وسط میں پہونچ کر نعرہ بازی میں مصروف تھے کہ جیٹلی نے کہاکہ ’’بحث کے دوران ہی اس کی خامیاں اور خوبیاں منظرعام پر آئیں گی ۔ وہ (اپوزیشن) آخر کس لئے بحث سے فرار اختیار کررہے ہیں۔ اب یہ واضح ہوگیا کہ اپوزیشن جماعتیں بحث کیلئے تیار نہیں ہیں اور ایوان کی کارروائی درہم برہم کرنے کیلئے نئے بہانے تلاش کررہے ہیں‘‘ ۔ انھوں نے کہا کہ قاعدہ 267 کے تحت بحث اور کارروائی کو معطل کرنے کی نوٹس سے سرمائی سیشن کے پہلے ہی دن اتفاق کرلیا گیا تھا اور بحث بھی شروع ہوچکی تھی ۔ اس بحث کے دوران اموات پر بھی بحث کی جاسکتی تھی اور حکومت اپنا جواب دے سکتی تھی ۔ اس دوران ایوان کی کارروائی متعدد مرتبہ ملتوی ہوئی جبکہ بشمول مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی ، حکومت کے دیگر ذمہ دار اس مسئلہ پر اپوزیشن کے طرزعمل اور رویہ پر سوال اُٹھارہے تھے ۔ نقوی نے متعدد مرتبہ کہا کہ ’’ملک کے جذبات و احساس ، کالے دھن کے خلاف ہیں۔ ملک کا موڈ ، وزیراعظم کے حق میں ہے ان کے خلاف ہے جو نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کررہے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں عوامی نبض ٹٹولنے میں ناکام ہوگئی ہیں‘‘ ۔ تاہم اپوزیشن کے جاری شوروغل کے درمیان سہ پہر 3 بجے ایوان بالا کی کارروائی آج دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ ایوان زیریں میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی جہاں اپوزیشن جماعتوں نے مسلل تیسرے دن بھی تحریک التواء کا مطالبہ کرتے ہوئے شوروغل کاسلسلہ جاری رکھا ۔ وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے کہاکہ اپوزیشن اگر قاعدہ 193 کے تحت بحث چاہتی ہے تو اس دفعہ کے تحت بحث کی صورت میں رائے دہی اور قرارداد کی منظوری کی ضرورت نہیں رہتی ۔تاہم اپوزیشن نے ان کی پیشکش کو مسترد کردیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے شوروغل کے سبب متعدد مرتبہ کارروائی ملتوی کی گئی اور دوپہر 2 بجے دن بھر کیلئے اجلاس ملتوی کردیا گیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT