Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور حکومت کی بے فیض مقابلہ آرائی

پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور حکومت کی بے فیض مقابلہ آرائی

غضنفر علی خان
پارلیمنٹ کا جب بھی سیشن ہوتا ہے وہ شور شرابے ، بائیکاٹ اور لعن طعن کی نذر ہوجاتا ہے ۔ کم از کم یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ بیشتر وقت ان ہی چیزوں کی نذر ہوجاتا ہے ۔ اب کی بار جو سیشن ہورہا ہے اس میں بھی وہی کیفیت رہی ۔ اس مرتبہ حکمران جماعت اور اپوزیشن میں ایک دوسرے کے خلاف تحریک مراعات شکنی کی مقابلہ آرائی ہورہی ہے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ، اپنی افادیت ثابت کرنے کی دوڑ ہورہی ہے ۔ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت طالب علم کی خودکشی کا مسئلہ اٹھایا جو بالکل درست تھا ۔ جن حالات میں یہ سانحہ ہوا اس پر سارے ملک میں احتجاج ہورہا ہے ۔ اپوزیشن کے مسلسل حملوں سے تنگ آکر وزیر موصوفہ سمرتی ایرانی نے ایک انتہائی جذباتی تقریر کی جو دراصل اپوزیشن کا جواب تھا ۔ اس میں انھوںنے اپنی اداکاری کے خوب جوہر دکھائے ۔ آواز کو اونچا کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسکو کم کرنے کی کامیاب اداکاری کی ۔ ہاتھ کی انگلیوں اور اپنی روشن آنکھوں کو بھی اداکارانہ انداز میں خوب استعمال کیا ۔ ان کی تقریر پر اس لئے اعتراضات کئے گئے کہ ان ساری خوبیوں کے باوجود سمرتی ایرانی نے جوابی تقریر میں حقائق کومسخ کرکے پیش کیا ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ انھوں نے حقائق کی پردہ پوشی کی یا فی الواقعی وہ واقف ہی نہ تھیں ۔ سمرتی ایرانی کا پارلیمنٹ میں یہ کہنا کہ حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت طالب علم کی نعش اس پنکھے سے کئی گھنٹوں تک لٹکی رہی ، نعش کا طبی معائنہ نہیں ہوا‘‘ ۔ تلنگانہ پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ان کے (سمرتی ایرانی) کے مکتوب کا جواب تک نہیں دیا ۔ یہ سارے الزامات یک لخت غلط اور بے بنیاد تھے ۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے ڈیوٹی ڈاکٹر نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی اطلاع ملنے کے پانچ منٹ کے اندر وہ مقام وارادات پر پہنچ گئی تھیں ، پولیس بھی جائے واردات پر موجود تھی ۔ کے سی آر نے ان کے مکتوب کا جواب بھی دیا تھا ۔ جو باتیں سمرتی ایرانی نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ایوان اعلی میں کہیں وہ صرف جھوٹ تھیں ۔ اس کا بی جے پی کو بھی اندازہ ہوگیا کہ ان کی وزیر نے غلط بیانی سے کام لیا ۔ ایوان کو گمراہ کیا اور خلاف واقعہ بیان دیا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اخباری اطلاع کے مطابق سمرتی ایرانی کو بی جے پی کی پارٹی ہائی کمانڈ نے مزید کچھ کہنے اور غلط بیانی نہ کرنے کے لئے سخت سرزنش کی ۔ چنانچہ اس کے بعد سمرتی ایرانی منظر سے غائب ہوگئیں ۔ لیکن اپوزیشن کو تو موقع مل گیا اور بشمول کانگریس تمام اپوزیشن پارٹیوں نے محاذ آرائی شروع کردی ۔ بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے کمان سنبھال لی ۔ اور نوبت مراعات شکنی کی حدتک پہنچ گئی ۔ سمرتی ایرانی نے یقیناً قابل گرفت تقریر کی تھی ۔ ان کے خلاف تحریک مراعات شکنی پیش کرنے کے معقول اور ناقابل تردید ثبوت ہیں ۔ سمرتی ایرانی پرحملہ کے جواب میں بی جے پی کو ایک اور وزیر جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے بنڈارو دتاتریہ نے جواباً عرض ہے کہ عنوان سے ایک تحریک مراعات شکنی کانگریس لیڈر مسٹر سندھیا کے خلاف پیش کرنے کی ٹھان لی ۔ ساری بی جے پی پارٹی ان کی پشت پناہی کرنے لگی ۔ بی جے پی کے وزیر دتاتریہ کا سندھیا پر الزام ہے کہ سندھیا نے ان کے (دتاتریہ) کے خلاف ایسی باتیں کہیں جن سے ان کی نیک نامی متاثر ہوئی ہے ۔ دونوں گروپس کی بات میں فرق ہے ۔ سمرتی ایرانی نے سارے ملک سارے ایوان کو گمراہ کیا جبکہ دتاتریہ کے خلاف سندھیا کی کہی ہوئی بات ذاتی طور پر دتاتریہ کے امیج کے لئے نقصان دہ رہی ہوگی ۔ لیکن دونوں کیسس میں فرق ہے ۔ اس فرق کو سمجھے بغیر بی جے پی نے سندھیا کے خلاف مراعات شکنی بھی پیش کرنے کا جواز ڈھونڈ نکالا ۔ سمرتی ایرانی اور ان کے کابینی رفقاء دتاتریہ کے اس جھگڑے میں ایوان کا کتنا قیمتی وقت ضائع ہوا اس کا اپوزیشن کو اندازہ ہے اور نہ بی جے پی کو ۔
یہ ہنگامہ فضول کی بحث ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ، ہماری پارلیمنٹ کے شایان شان نہیں ہے ۔ عام ہندوستانی بڑے تعجب سے ٹی وی پر دیکھتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان مسائل پر بحث کیوں نہیں ہوئی جن کا راست اس کی ذات سے تعلق ہے ۔ کئی مسائل ہیں جن پر اسی سہ ماہی سیشن میں مباحث ہونے ہیں ۔ ان مسائل کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی انا اور وقار کی خاطر ایک دوسرے سے الجھ جاتی ہیں ۔ ہمارے ارکان پارلیمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ ان کا منصب کتنا عظیم ہے ۔ وہ ملک کے کروڑہا عوام کے نمائندے ہیں ان کی زبان میں عوام کو اس سے کیادلچسپی ہے کہ کس پارٹی کے لیڈر یا وزیرنے ایوان کے ارکان کو حاصل مراعات کی خلاف ورزی کی ۔ ایسی مراعات شکنی تو آئے دن پارلیمنٹ میں ہوتی رہتی ہیں ۔ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن مراعات شکنی کے مسئلہ پر اپنا اپنا وقار داؤ پرلگادینا بھی کوئی  عقل مندی کی بات نہیں ۔ وزراء ہمیشہ تو حکومت میں نہیں رہیں گے اور نہ ارکان ، ایوان پر ہمیشہ اجارہ داری ہوگی ۔ ہر 5 سال بعد ایوان کی شکل بدلتی ہے ۔ ہر انتخابات میں نئے چہرے جیت کر نمائندگی کرتے ہیں ۔ ایوان کے وقار اس کے Prestige کو اس طرح سے متاثر کرنا نہ ہماری پارلیمانی جمہوریت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا اور نہ اس سے ہمارے قومی وقار کو فروغ ہوگا ۔ ہندوستانی عوام بھی پارلیمنٹ میں (جب بھی سیشن ہوتا ہے ) ایسے مناظر سے تنگ آگئے ہیں ۔ وہ پارٹیوں کے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں اور مراعات شکنی کی تحریکات کی پیش کشی سے ناخوش ہیں ۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن نہیں بلکہ صرف مخالف سمجھیں  ۔

TOPPOPULARRECENT