Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ مباحث ضروری

پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ مباحث ضروری

NEW DELHI, FEB 23 (UNI):-President Pranab Mukherjee with Vice President Mohammad Hamid Ansari, Prime Minister Narendra Modi, Lok Sabha Speaker Sumitra Mahajan arriving at the Central Hall of Parliament house in a ceremonial procession to address the joint session of Parliament on the first day of the Budget session in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-14U

ارکان پارلیمنٹ کو اپنا فرض اداکرنا چاہئے ۔ دہشت گردی پر سخت موقف کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ، صدرجمہوریہ کا خطاب
نئی دہلی ۔ 23  فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی آرزو ں کا عظیم مرکز ہے ۔ یہاں عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے ہر رکن کو سنجیدہ ہونا چاہئے ۔ پارلیمانی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی اور اجلاس کو درہم برہم کرنے کے واقعات پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھوں نے تمام ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ عوام کی خدمت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور اس ذمہ داری کے تحت پورے اخلاص و جذبہ کے ساتھ عوام کی خدمت کیلئے ایک دوسرے کا تعاون کریں ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ سیکشن سے خطاب کرتے ہوئے صدرجمہورے نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پارلیمانی سیشن کو پرسکون اور تعمیری طورپر چلانے کی کوشش کریگی ۔ آئندہ مالیاتی سال میں حکومت کے ایجنڈہ کا احاطہ کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہاکہ ہماری پارلیمنٹ عوام کے جذبات ، خواہشات و ضروریات کی عکاسی کرتی ہے ۔ جمہوریت کا تقاضہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر تعمیری بحث و مباحث ہوں ، انتشارپسندانہ یا تخریبی رول ناپسندیدہ عمل کہلاتا ہے ۔

میں تمام ارکان پر زور دیتا ہوں کہ وہ باہمی سوجھ بوجھ اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کریں ۔ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کیلئے تمام کو اجتماعی کوششیں کرنی چاہئے ۔ صدرجمہوریہ کے یہ ریمارکس اس تناظر میں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں کیوں کہ مختلف مسائل پر ایوان کی کارروائی کو درہم برہم کردیا جارہا ہے ، اس سے پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے ۔ راجیہ سبھا میں بھی کارروائی روک دی جارہی ہے جہاں حکومت اقلیت میں ہے ۔ اپنی 20 صفحات کی تقریر میں صدرجمہوریہ نے حکومت کے کارناموں اور نئے اعلانات کو ارکان کے سامنے پیش کیا ۔ تقریر کے دوران تمام ارکان یکسو ہوکر تقریر سماعت کررہے تھے ۔ مکرجی نے کہاکہ تمام سمت سے آنے والی قابل قدر نوبل رائے کو پورے جذبہ سے سماعت کرنی چاہئے ۔ پارلیمنٹ ہماری جمہوریت کا مقدس مقام ہے ۔ ایک رکن کی حیثیت سے ہر ایک رکن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت ملک سے غریبی کا خاتمہ کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔

کسانوں کے مسائل حل کرتے ہوئے خوشحالی اور بڑے پیمانہ پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے تمام ضرورت مندوں کو سبسیڈیز پر اناج سربراہ کیا جارہا ہے ۔ پردھان منتری جن دھن یوجن کے پرکشش پروگرام کے تحت حکومت نے دنیا کے سب سے مہنگے پروگرام کو شامل کیا ہے۔ اس پرورام کے تحت 15 کروڑ بنک اکاؤنٹس کھولے گئے جن میں 32,000 کروڑ روپئے جمع کئے گئے ہیں۔ سوشیل سکیورٹی کیلئے حکومت نے مزید اسکیمات کا آغاز کیا ۔ پنشن اسکیم کے ذریعہ سماج کے ہرطبقہ کا احاطہ کیا جارہا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ حکومت کے تعلقات کا حولہ دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہاکہ حکومت ہند پاکستان کے ساتھ باہمی قابل قدر تعلقات کو فروغ دینے کی پابند عہد ہے جبکہ انھوں نے زور دیکر کہا کہ سرحدپار کی دہشت گردی کا موثر طورپر مقابلہ کیا جائے گا ۔ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کا عالمی سطح پر مکمل خاتمہ کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔

صدرجمہوریہ کا خطاب مایوس کن ، اپوزیشن
اہم مسائل کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ عوام کی توقعات کو دھکہ
نئی دہلی ۔ 23  فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن پارٹیوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کے مشترکہ سیشن سے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے خطاب کو مایوس کن قرار دیا اور کہاکہ اس خطاب میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی تنازعہ ، غداری کے قوانین کا بیجا استعمال اور جاٹ کوٹہ احتجاج جیسے اہم اور بڑے مسائل پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے کہا کہ صدرجمہوریہ نے اپنے خطاب میں حکومت کے پروگراموں اور پالیسیوں کا احاطہ کرنے کو ضروری سمجھا مگر مرکز کی خرابیوں پر توجہ نہیں دی ۔ اس وقت پارلیمانی اُمور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے اس خطاب کو ’’حوصلہ افزاء‘‘ قرار دیا گیا ۔ سی پی آئی ایم نے کہاکہ صدرجمہویہ کے خطاب میں قیمتوں میں اضافہ ، جے این یو ، اور جاٹ احتجاج جیسے اہم مسائل کے ماسوا سب کچھ تھا ۔ اور پارٹی ان سنگین معاملہ کو اُٹھانے کیلئے ترمیمات پر زور دے گی ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کہاکہ میں نے پارلیمنٹ میں صدرجمہوریہ کا خطاب سنا ہے ۔ انھوں نے حکومت کی کارکردگی کے تعلق سے اظہارخیال کیا لیکن حیدرآباد میں ایک دلت طالب علم کی خودکشی کے مسئلہ کو اٹھایا نہیں گیا ۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں کیا ہورہا ہے اس کاتذکرہ شامل نہیں ہے ۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی اور سابق وزیر قانون اشونی کمار نے کہا کہ ملک کیلئے حکومت کی پالیسیوں کے بیان کے سواء صدرجمہوریہ کا مشترکہ خطاب مایوس کن رہا ہے۔ اس سے عوام کی توقعات کو دھکہ پہونچا ہے ۔ اب تک ملک کے عوام نے ایسی ناکام حکومت نہیں دیکھی تھی ۔ ایسی صورت میں تمام شہریوں کو یہ احساس ہورہا ہوگا کہ ان کی آزادی سلب کرلی جارہی ہے اور مساوات کے اقدار پامال ہورہے ہیں ۔ صدرجمہوریہ نے اپنے خطاب میں ان حساس مسائل کی جانب توجہ نہیں دی ہے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر راجیو شکلا نے کہاکہ صدرجمہوریہ کی تقریر میں کچھ نیا نہیں ہے ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس جیسے نعروں سے عوام کو راحت ملنے والی نہیں ہے ۔ وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے کہاکہ صدرجمہوریہ کا خطاب این ڈی اے حکومت کی کارکردگی پر بہترین ستائش ہے ۔ تقریر ہم تمام کو حوصلہ بخشتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT