Monday , September 25 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ میں لگاتار پانچویں دن بھی ہنگامہ آرائی، اجلاس پھر ملتوی

پارلیمنٹ میں لگاتار پانچویں دن بھی ہنگامہ آرائی، اجلاس پھر ملتوی

حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نعرہ بازی، بحث کے بعد ووٹنگ پر کانگریس اور ٹی ایم سی کا اٹل موقف

نئی دہلی ۔ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نوٹوں کی منسوخی اور اس مسئلہ پر بحث کے قاعدہ کے تعین پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کا اجلاس لگاتار پانچ دن آج بھی عملاً کسی کارروائی کے بغیر ملتوی ہوگیا۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر اس قاعدہ کے تحت بحث چاہتی ہے جس کے اختتام پر رائے دہی ضروری ہوتی ہے لیکن حکومت اس مطالبہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے رائے دہی کے لزوم کے بغیر بحث پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، سی پی آئی (ایم) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ حکمراں این ڈی اے کی حلیف شرومنی اکالی دل اور شیوسینا کے ارکان نے بھی ایوان میں اس مسئلہ پر اپنے نظریات کا اظہار کیا۔ ارکان کے شوروغل کے سبب آج دوپہر سے قبل ایک مرتبہ اجلاس ملتوی کیا گیا۔ شیوسینا نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو اس کی ستائش ک رتے ہوئے کسی الجھن اور پریشانی سے بچا لیا اور قاعدہ 193 کے تحت بحث کیلئے حکومت کے موقف کی تائید کی۔ اس قاعدہ کے تحت بحث کے بعد ووٹنگ کی ضرورت نہیں رہتی۔ شیوسینا نے نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کی تھی حتیٰ کہ اس کے ارکان نے ترنمول کانگریس کی قیادت میں راشٹرپتی بھون تک نکالے گئے جلوس میں شرکت کے علاوہ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات بھی کی تھی لیکن گذشتہ روز وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اپنا موقف نرم کرلیا ہے۔ ایران کی کارروائی آج صبح جیسے ہی شروع ہوئی،  اپوزیشن ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں ہوگئے، جن کی ہنگامہ آرائی کے سبب  اجلاس کو دوپہر تک ملتوی کرنا پڑا۔ کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے نے اجلاس کے دوبارہ آغاز پر کہا کہ وہ اس مسئلہ پر قاعدہ 56 کے تحت بحث کیلئے تیار ہیں جس میں ووٹنگ کا لزوم ہے۔

کھرگے نے کہا کہ ’’ہم بحث کیلئے تیار ہیں لیکن یہ پیغام دیا جارہا ہیکہ اپوزیشن بحث کیلئے تیار نہیں ہے۔ عوام پریشان ہیں۔ عوام تکلیف میں ہیں اور ہم ان کے مسائل پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم بھی ایوان  میں موجود رہیں۔ آپ (اسپیکر) کو چاہئے کہ ہمیں تحریک التواء پیش کرنے کی اجازت دیں‘‘۔ وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ باہر یہ کہا جارہا ہیکہ چند افراد، کالے دھن کی تائید کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہیکہ حکمراں جماعت ہی کالے دھن کی تائید کررہی ہے اور ایوان میں اس مسئلہ پر بحث کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ وزیرپارلیمانی امور اننت کمار نے کہاکہ حکومت بھی اس مسئلہ پر کسی بھی وقت تبادلہ خیال کیلئے تیار ہے یہ کوئی مختصر وقت کا مباحث نہیں ہوگا بلکہ ایک، دو یا تین دن کی بحث بھی ہوسکتی ہے۔ بی جے ڈی کے بھرتروہاری مہتاب اور ٹی آر ایس کے جتیندر ریڈی نے جن کی جماعتیں کانگریس کی زیرقیادت اپوزیشن احتجاج میں شال نہیں ہیں، اس تعطل  کی عاجلانہ یکسوئی پر زور دیا تاکہ پارلیمان اپنے روزمرہ کی مصروفیات بحال کرتے ہوئے عوامی مفادات کے مسائل پر غوروبحث کرسکے۔ بی جے ڈی نے قاعدہ 193 کے تحت بحث کا مطالبہ کیا لیکن ٹی ایم سی کے سدیپ بندھوپادھیائے نے اس قاعدہ کے تحت بحث پر اصرار کیا، جس میں ووٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ بندھوپادھیائے نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس میں نقصان کیا ہے جبکہ حکومت کو لوک سبھا میں بھاری  اکثریت حاصل ہے اور رائے دہی کی صورت میں وہ کامیاب رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً300  ارکان پارلیمنٹ نے آج صبح پارلیمنٹ کامپلکس کے احتجاج میں حصہ لیا۔ انہوں نے اسپیکر سمترا مہاجن سے درخواست کی کہ وہ حکومت سے بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ جئے پرکاش نارائن یادو (آر جے ڈی) ملک ایک بحران سے گذر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT