Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے قانون سازی ایجنڈہ کو قطعیت

پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے قانون سازی ایجنڈہ کو قطعیت

رواں بجٹ اجلاس کے اختتام سے قبل اہم بلز کی منظوری حکومت کیلئے چیلنج
نئی دہلی 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بجٹ اجلاس کے دوسرے ہفتے میں پارلیمنٹ کی کارروائی پرسکون انداز میں گزر جانے سے حوصلہ پاکر حکومت نے منگل سے شروع ہونے والے تیسرے ہفتے کے دوران بڑے پیمانہ پر قانون سازی کے ایجنڈہ کو قطعیت دے دی ہے جبکہ 16 مارچ کو بجٹ اجلاس اختتام پذیر ہوگا۔ اگرچیکہ پارلیمنٹ کا پہلا ہفتہ بالخصوص راجیہ سبھا کی کارروائی شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، لیکن دوسرے ہفتے میں بغیر کسی رکاوٹ کے ایوان کی کارروائی جاری رہی۔ تاہم حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تیز وتند تنقیدوں کا تبادلہ عمل میں آیا۔ ایک دو مواقع پر روہت ویمولا اور جے این یو تنازعہ پر حکومت پر تابڑ توڑ حملے بھی کئے گئے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ایسے وقت شروع ہوا ہے جب غداری کے الزام میں گرفتار صدر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کنہیا کمار کو جیل سے رہا کردیا گیا۔ غداری کیس سے زبردست تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوگیا تھا اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو نشانہ بنایا اور یہ الزام عائد کیاکہ اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پارلیمنٹ میں آئندہ ہفتے جملہ 12 بلز ( لوک سبھا میں 7 اور راجیہ سبھا میں 5 بلز) پیش کئے جائیں گے

جن کی منظوری کیلئے 4 یوم کی مختصر مہلت ہوگی کیوں کہ دوشنبہ کو شیوراتری کے پیش نظر پارلیمنٹ کو تعطیل رہے گی۔ لوک سبھا میں پیش کئے جانے والے بلز میں ملک دشمن عناصر کی جائیدادوں (Enemy Property) کی قرقی بل 2016 ء جوکہ آرڈیننس کی جگہ لے گا، آدھار (مالیاتی اور دیگر مراعات، فوائد و خدمات کے نشانہ کا حصول) بل 2016ء،  دستور (درج فہرست ذاتوں) ، آرڈرس (ترمیم) بل 2016 ء شامل ہیں۔ علاوہ ازیں معاشی اُمور سے متعلق قانون سازی میں ریلویز کیلئے مطالبات زر اور عام نوعیت کے مطالبات زر پر مباحث اور منظوری عمل میں آئے گی۔ توقع ہے کہ راجیہ سبھا میں بیورو آف انڈین اسٹانڈرس بل 2015ء ، وزل بلوورس پروٹیکشن (بھیدیوں کی سلامتی) بل 2015ء اور قومی آبی گزر گاہ بل 2016 ء پر غور و خوض کیا جائے گا جنھیں لوک سبھا میں منظوری دے دی جائے گی۔ مزید برآں ایوان بالا میں چائلڈ لیبر (پروہبشن اینڈ ریگولیشن)ترمیمی بل 2012ء اور ریلویز اور عام بجٹ سے متعلقہ مطالبات زر کو پیش کیا جائے گا۔ مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے بتایا کہ حکومت رئیل اسٹیٹ (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل کو منظور کروانے کی کوشش کرے گی جوکہ ایوان بالا میں معرض التواء ہے۔ واضح رہے کہ بجٹ اجلاس کے پہلے دو ہفتوں میں انتخابی قوانین (ترمیم) بل کو دونوں ایوانوں میں منظور کرلیا ہے جس کے ذریعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آبادیوں کے تبادلہ کے بعد ہندوستانی شہریوں کو حق رائے دہی تفویض کیا جائے گا اور لوک سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطبہ پر اظہار تشکر کی قرارداد کو بھی منظور کرلیا گیا جبکہ راجیہ سبھا میں بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT