Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کیلئے گاندھی خاندان ذمہ دار

پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کیلئے گاندھی خاندان ذمہ دار

سوران ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے سونیا گاندھی کے خاندان کو آج تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس صدر اور انکے بیٹے راہول گاندھی 2014 کے انتخابات میں اپنی شکست کا انتقام لینے پارلیمانی کارروائی میں شوروغل اور ہنگامہ آرائی کررہی ہیں۔ چنانچہ غریبوں کو فائدہ پہنچانے والے بلز کی منظوری روکی جارہی ہے۔ آسام میں جہاں عنقریب اسمبلی انتخابات منعقد ہونگے وزیراعظم نے اس ریاست میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے ورکرس سے خطاب میں الزام عائد کیا کہ صرف ایک خاندان منفی سیاست میں ملوث ہورہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ میں کانگریس کے سوا دیگر اپوزیشن قائدین اگرچہ ان کی مخالفت ضرور کررہے ہیں لیکن پارلیمانی کارروائی کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم نے یہاں جلسہ عام جو عملاً ایک انتخابی ریالی تھا، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو (2014ء کے) انتخابات ہار چکے ہیں اور 400 سے 40 (نشستوں) تک گھٹ گئے ہیں۔ مودی کو کام کرنے نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے رکاوٹیں اور دشواریاں پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے ہی سازش جاری ہے‘‘۔ مودی دراصل صاف طور پر کانگریس کا حوالہ دے رہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’انہوں (کانگریس) نے عوام اور غریب ورکرس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا ہے جنہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعہ کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کردیا تھا‘‘۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے گذشتہ دو سیشنس کے مکمل طور پر معطل ثابت ہونے کے پس منظر میں یہ ریمارکس کیا ہے۔ بی جے پی حکومت پر مختلف الزامات پر بحث کے مطالبہ کے ساتھ اپوزیشن کے شوروغل کے نتیجہ میں پارلیمانی کارروائی معطل رہی تھی جس کے نتیجہ میں بشمول جی ایس ٹی کئی اہم بلز منظور نہیں کئے جاسکے تھے اور توقع ہیکہ 23 فروری سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں ان تمام زیرتصفیہ بلز کی منظوری کی کوشش کی جائے گی۔ مودی نے مزید کہا کہ ’’اپوزیشن میں بھی حتیٰ کہ ایسی کئی جماعتیں اور قائدین ہیں جو مودی، حکومت اور بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنی کارروائی چلاتے ہوئے کام جاری رکھے لیکن ایک خاندان ایسا ہٹ دھرم ہے کہ راجیہ سبھا کی کارروائی چلانے اور قومی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے کیونکہ ملک کے عوام نے انہیں شکست دی تھی‘‘۔ وزیراعظم نے اگرچہ کسی ’’خاندان‘‘ کا نام نہیں لیا لیکن واضح طور پر وہ سونیا گاندھی کے خاندان کا نام لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رخنہ اندازی اور منفی سیاست سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا لیکن ایک خاندان ایسی (منفی) سمجھ کا حامل ہے جس سے یہ تباہی ہورہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بی جے پی کو آسام میں ایک مرتبہ حکومت قائم کرنے کا موقع دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT