Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ پر حملہ آور افضل گرو کی برسی کے موقع پر ملک دشمن نعرے

پارلیمنٹ پر حملہ آور افضل گرو کی برسی کے موقع پر ملک دشمن نعرے

New Delhi: Students affiliated to the Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad (ABVP) protest outside the office of the vice chancellor of Jawaharlal Nehru University (JNU) in New Delhi on Wednesday to vent their ire over a programme describing the execution of 2001 Parliament attack convict Afzal Guru as 'judicial killing'. PTI Photo (PTI2_10_2016_000237A)

جے این یو طلباء تنظیم کے صدر گرفتار، دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرر گیلانی کے خلاف غداری کا کیس
نئی دہلی۔/12فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلباء یونین کے صدر کنہیا کمار کو آج دہلی کی عدالت نے 3یوم کیلئے پولیس تحویل میں دے دیا۔ جنہیں یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک قوم دشمن اجتماع منعقد کرنے پر بغاوت اور مجرمانہ سازش کیس میں گرفتار کیا گیا اور کنہیا کو میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرتے ہوئے پولیس نے پوچھ تاچھ کیلئے 5یوم تک تحویل میں دینے کی گذارش کی تاکہ ملزم افراد کے عسکریت پسند گروپس کے ساتھ تعلقات کا پتہ چلایا جاسکے۔ جس میں بعض عناصر مفرور ہوگئے ہیں۔ پولیس نے عدالت سے کہا کہ جے این یو میں 9فبروری کو منعقدہ اجتماع میں قوم دشمن نعرے بلند کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے کنہیا کی تفتیش ضروری ہے۔ اس موقع پر پولیس نے پولیس نے سی ڈی بھی پیش کی جسے کمرہ عدالت میں ایک کمپیوٹر کے ذریعہ دکھایا گیا۔ تاہم کنہیا نے عدالت کو مطلع کیا کہ انہوں نے کوئی نعرہ لگایا اور نہ ہی قومی یکجہتی کے خلاف کوئی بات کہی۔ دراصل وہ اے بی وی پی کارکنوں اور اجتماع کے منتظمین کے درمیان تصادم ٹالنے کیلئے وہاں پہنچے تھے۔ صدر طلباء یونین نے یہ ادعا کیا کہ ان کے خلاف سیاسی محرکات پر مبنی کیس درج کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدارتی انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے امیدوار کو شکست دی تھی جس کا انتقام لینے کیلئے پولیس کے ذریعہ جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے خلاف کسی بھی نوعیت کے نعرہ کی حمایت نہیں کرتے اور ملک کے دستور پر انہیں مکمل اعتماد ہے۔

اگر کسی نے اجتماع میں قوم دشمن نعرے لگائے ہیں تو وہ اظہار لاتعلقی کرتے ہیں اور میرا یہ ایقان ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کمرہ عدالت میں سی ڈی دکھائے جانے کے بعد جج نے کنہیا سے ان لوگوں کی شناخت کیلئے کہا جنہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیس میں سزا یافتہ افضل گرو کے حق میں نعرے بلند کئے تھے۔ اس کیں میں عدالت نے افضل گرو کو پھانسی کی سزا دی تھی۔ عدالت کے استفسار پر جواب دیتے ہوئے ملزم کنہیا نے بتایا کہ وہ تمام افراد سے ناواقف ہے جس میں اکثریت بیرونی لوگوں کی ہے اور صرف یونیورسٹی کے طلباء کی شناخت کرسکتا ہے۔ دریں اثناء دہلی یونیورسٹی کے ایک سابق لکچرر ایس اے آر گیلانی کے خلاف پریس کلب آف انڈیا میں پیش آئے ایک واقعہ کے سلسلہ میں بغاوت کا کیس درج کیا تھا جہاں پر پارلیمنٹ پر حملہ آور افضل گرو کے حق میں ایک گروپ نے نعرے بلند کئے تھے۔ ڈپٹی پولیس کمشنر ( نئی دہلی ) جسٹس ناروال نے بتایا کہ پریس کلب میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران مخالف ہند نعرے لگانے کے الزام میں گیلانی اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے تاہم پولیس نے یہ ادعا کیا کہ گیلانی اور دیگر کے خلاف ’’ میڈیا کلپس ‘‘ کی بنیاد پر از خود کارروائی کرتے ہوئے غداری وطن کا کیس درج کیا ہے۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ کیس درج کرنے تک کسی بھی پارٹی نے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ چونکہ گیلانی کے ای میل کے ذریعہ درخواست پر پریس کلب ہال کی بکنگ کی گئی تھی۔جہاں پر ایک جلسہ عام منعقد کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ پریس کلب آف انڈیا نے کل منتظمین کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی تھی جنہوں نے چہارشنبہ کے دن جلسہ عام کیلئے کانفرنس ہال کی بکنگ کروائی تھی۔ سکریٹری جنرل پریس کلب مسٹر ندیم احمد کاظمی نے بتایا کہ ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں جبکہ پریس کلب کے باہر بعض شرپسندوں نے نعرے بلند کئے تھے۔ اس خصوص میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر علی جاوید جوکہ پریس کلب کے رکن بھی ہیں اور متنازعہ اجتماع کیلئے ہال کی بکنگ کی تھی رابطہ قائم کرنے پر کہا کہ اشتعال انگیز نعروں کی وہ تائید نہیں کرتے اور مذکورہ پروگرام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیس میں اکٹوبر 2003 میں گیلانی کو بری کردیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی اگسٹ 2005 میں اس فیصلہ کو برقرار رکھا تھا اس کے باوجود ان پر شک کی سوئی گھمائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT