Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / پارلیمنٹ کا مانسون سیشن

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن

معصوموں کے سر ٹھوکر میں
چارہ گر جلاد ہیں کتنے
پارلیمنٹ کا مانسون سیشن
گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کے نفاذ کے بعد پارلیمنٹ کا ایک ماہ طویل چلنے والا مانسون سیشن ابتدائی دنوں سے ہی ہنگامہ خیز ثابت ہوا ہے۔ راجیہ سبھا میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بیان دینے کی اجازت نہ دینے پر راجیہ سبھا نشست سے استعفیٰ دیدیا۔ مایاوتی کے اس بیان کی اپوزیشن نے حمایت بھی کی۔ راجیہ سبھا میں سینئر پارلیمنٹرین کو صرف غوروخوض کی اجازت ہوتی ہے۔ ایوان میں قواعد کے مطابق مکمل تقریر نہیں کرسکتا۔ اس طرح قواعد کی آڑ میں حکمراں طبقہ اصل موضوعات سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے۔ مایاوتی نے ایوان میں اس مسئلہ کواٹھاتے ہوئے احتجاج کیا کہ ملک بھر میں دلتوں اور مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں۔ سہارنپور میں ہوئے مخالف دلت تشدد کا بھی ذکر کیا گیا۔ جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے اقلیتوں اور دلتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بیف کے نام پر مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ہندوستانی روایات کو پامال کیا جارہاہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت پر اٹھنے والی انگلیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایوان کے قاعدہ 267 کے تحت کسی رکن کو بحث کرنے کیلئے نوٹس دینی ہوتی ہے۔ مایاوتی کو چیرپرسن نے اس قاعدہ کے حوالے سے بیٹھ جانے کیلئے زور دیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جسے کانگریس اور بائیں بازو نے بھی ایوان میں مسلمانوں کے مسائل کو اٹھانے کیلئے اظہارخیال کی اجازت پر زور دیا لیکن حکومت خود کو کامل اختیارات کی حامل طاقت متصور کررہی ہے۔ عوام کی جانب سے اکثریتی ووٹ لیتے ہوئے وہ اقلیتوں اور غریبوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا لائسنس مل جانے کا تصور کرکے گاؤ رکھشکوں کے نام دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔ مانسون سیشن میں اپوزیشن سے تعاون کی خواہش رکھنے والے وزیراعظم مودی کو ایوان کے اندر اپوزیشن کی آواز کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہتے۔ اگر حکمراں پارٹی عوامی مسائل کو اٹھانے سے اپوزیشن کو اجازت نہیں دیتی تو پھر ایوان کے اندر عوامی نمائندگی کا حق رکھنے والے ارکان کی اہمیت گھٹادینے کی کوشش سمجھی جائے گی۔ ایوان کے اندر نظم و ضبط کی برقراری کو یقینی بنانے میں حکمراں پارٹی کے ارکان کا بھی رول اہمیت رکھتا ہے۔ جی ایس ٹی کو نافذ کرنے والی حکومت اس کے اثرات کو وہ خود بھی محسوس کرسکتی ہے۔ مانسون سیشن کا آغاز ایک غیرمعمولی موقع پر ہورہا ہے۔ ملک کے عوام مختلف ریاستوں میں جی ایس ٹی کی نئی شرحوں سے پریشان ہیں اور حکومت اپنے فیصلہ سے خوش ہوکر ایوان کے اندر اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ جی ا یس ٹی کو کامیاب ثابت کرنے کیلئے وزیراعظم مودی اپوزیشن کا ساتھ طلب کررہے ہیں۔ عوام پر زائد بوجھ ڈال کر بہتری کی امید کرنا حکومت کیلئے غلط نہیں ہوگا۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے بھی حکومت کے پالیسیوں اور جی ایس ٹی لاگو کرنے کی کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں اپنی پارٹی ارکان کو جارحانہ موقف اختیار کرنے کی ہدایت دی ہیں۔ پارلیمنٹ سیشن کی نظر میں بی جے پی حکومت نے پڑوسی ملکوں بھوٹان، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو کشیدہ کرلیتے ہیں۔ ادھر پاکستان کے بارے میںمودی حکومت جارحانہ روش اختیار کرچکی ہے تو چین کے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرکے ہندوستان سے متصل سرحدوں کو کشیدہ صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ اس مانسون سیشن سے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی بات رکھنے اور عوام کے مسائل کی سماعت کیلئے حکمراں طبقہ کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکمراں طبقہ عوام کودرپیش مسائل داخلی اور خارجی امور سے نمٹنے میں مودی حکومت کی ناامید کی جانب نشاندہی کرنے کا موقع نہیں دیتا ہے تو پھر مسائل اور کشیدہ حالات میں کمی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ قومی مفاد میں یہی ہیکہ تمام پارٹیوں کو مل کر سرحدی اور داخلی صورتحال کا جائزہ لیکر پورے تعاون کے ساتھ عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینی چاہئے۔ دلتوں اور اقلیتوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دینا اور گاؤ رکھشک کے نام پر تشدد کرنے والوں کو سزاء دینے کیلئے احکامات جاری کرنے کے علاوہ موجودہ قوانین کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ملک بھر میں ایک خوف کا ماحول پیدا کرنے والی بی جے پی حکومت اور اس کے کارکنوں کے خلاف عوامی نمائندوں کی جانب سے آواز اٹھائی جاتی ہے تو اسے نظرانداز کرنے کی کوشش افسوسناک ہے۔ مایاوتی کا استعفیٰ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT