Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی رسہ کشی

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی رسہ کشی

اگسٹاویسٹ لینڈ کی تحقیقات کے لئے بی جے پی اور میک ان انڈیا پروگرام کی جانچ کے لئے کانگریس کا مطالبہ
نئی دہلی۔18مئی (سیاست ڈاٹ کام) یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ عنقریب ایک نئی سیاسی رسہ کشی شروع ہونے والی ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں آج بی جے پی ارکان نے یہ مطالبہ کیا کہ متنازعہ اگسٹا ویسٹ لینڈ اسکام کی تحقیقات کی جائے۔ جبکہ کانگریس نے پارلیمانی آڈٹ پینل سے اصرار کیا کہ وزیراعظم کی اختراعی اسکیم ’’میک ان انڈیا‘‘ پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے۔ تاہم ترونمول کانگریس رکن سکھیندو شیکرائے نے حیرت کا اظہار کیا کہ اگر مفادات کا ٹکرائو نہ ہوتا کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ششی کانت شرما کی موجودگی دفاعی معاملتوں پر بحث کی جاتی جو کہ قبل ازیں معتمد دفاع تھے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ دفاعی معاملات سے متعلق کاگ کی رپورٹ پر پبلک اکائونٹس کمیٹی کس طرح تجزیہ کرتی ہے جبکہ شرما خود اس وقت معتمد دفاع تھے۔ انہوں نے کہا کہ کاگ کی موجودگی میں ان کی ہی رپورٹ کا جائزہ کس طرح لیا جاسکتا ہے۔ تاہم صدرنشین پی اے سی مسٹر کے وی تھامس نے رائے کو یاددہانی کروائی کہ کمپٹرولر آڈیٹر جنرل کی حیثیت سے شرما کے تقرر کا مسئلہ بہت پہلے ہی حل کرلیا گیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ میں بھی ان کے تقرر کے چیلنج کو مسترد کردیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ مسٹر شرما کی موجودگی میں آج دوبارہ چھیڑا گیا۔ جب انہوں نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں کاگ رپورٹ کا سرسری جائزہ پیش کیا۔ یہ اجلاس سینئر کانگریس لیڈر کے وی تھامس کی زیر صدارت منعقد ہوا جو کہ کمیٹی کے صدرنشین بھی ہیں۔ یہ اجلاس کمیٹی کے ایک سالہ میعاد کے دوران زیر بحث موضوعات کا فیصلہ کرنے کے لئے طلب کیا گیا تھا جس میں وجئے گوئل (بی جے پی) نے کہا کہ وی وی آئی پی چاپر ڈیل (ہیلی کاپٹر معاملت) کی بے قاعدگیوں پر کاگ رپورٹ 2013ء پر بپلک اکائونٹس کمیٹی کو کارروائی کرنی چاہئے۔ اس مطالبہ کی بیجو جنتادل رکن بی مہتاب نے بھی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی ان معاملات کی تحقیقات سے گریز نہیں کرنا چاہئے جن کی سی بی آئی جیسے ادارے تحقیقات کررہے ہیں یا پھر عدالتوں میں معرض التوا ہیں۔ مسٹر مہتاب نے پی اے سی کو یہ بھی مشورہ دیا کہ کوئلا بلاگس کی تخصیص پر کاگ کی رپورٹ کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی ارکان نے اگسٹا ویسٹ لینڈ کے معاملت کی تحقیقات میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ اگر کانگریس ارکان مزاحمت کی تو کمیٹی میں ووٹ کروانے کی تجویز پیش کی جاسکتی ہے۔ تاہم شانتارام نائک (کانگریس) نے مطالبہ کیا کہ پی اے سی کو مرکز کے پروگرام میک ان انڈیا پر عمل آوری کا جائزہ لینا چاہئے۔ کانگریس رکن کا یہ اثرار دراصل بی جے پی کا دفاعی موقف اختیار کرنے کے لئے مجبور کرنے کی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ اگسٹا ویسٹ لینڈ معالت پر کاگ کی رپورٹ اگست 2013ء میں پیش کی گئی تھی لیکن اس وقت کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے صدرنشین مرلی منوہر جوشی (بی جے پی) نے کوئی کرروائی نہیں کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT