Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں کمی پر تشویش : حامد انصاری

پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں کمی پر تشویش : حامد انصاری

The Vice President, Shri M. Hamid Ansari delivering the inaugural address at the Seminar on Educational Development of Weaker Sections of our Nation, in New Delhi on July 29, 2016.

ارکان اور وزراء کو ایوان میں مسائل پر پوری تیاری سے آنا چاہئے ، نائب صدر کا خطاب
نئی دہلی، 30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کے چیئرمین ڈاکٹر محمد حامد انصاری نے پارلیمنٹ کے اجلاسوں کی تعداد گھٹنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ ایوان میں مختلف مسائل پر بحث، قانون سازی اور دیگر کام کاج کرنے کیلئے وقت کا درست استعمال ضروری ہے ۔  نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے یہاں راجیہ سبھا کے نئے ارکان کیلئے منعقدہ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک سال میں 110 دن پارلیمنٹ کی کارروائی چلتی تھی، جو اَب گھٹ کر تقریبا 70 دن ہو گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں ایک چوتھائی کمی کی وجہ سے تمام کام کاج کو انجام دینے کیلئے وقت کا درست استعمال ضروری ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی معاملے پر زور دینے کیلئے ارکان کا ایوان کے وسط میں آنا مناسب نہیں ہے ۔ اراکین پارلیمنٹ اگر کسی بات سے مطمئن نہیں ہیں تو علامتی طور پر وہ واک آؤٹ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر یا اکثر وقفہ سوالات کے دوران کسی رکن یا ارکان کے ایوان کے وسط میں آنے سے کام کاج بری طرح متاثر ہوتا ہے اور دوسرے ارکان جو معاملہ رکھنا چاہتے ہیں وہ بھی اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ سوال پوچھنے سے قبل ارکان کا متعلقہ موضوع پر اپنا موقف رکھنے کیلئے لیکچر دینا مناسب نہیں ہے ۔ سوال کیلئے ارکان کو پوری تیاری کے ساتھ آنا چاہیے اور وزراء کو ’پابند‘ کرنا چاہئے ۔ ضمنی سوالات کیلئے بھی تیاری کی ضرورت ہے تاکہ وزیر جو کچھ جواب دیتے ہیں اور ان سے جو نئی باتیں سامنے آتی ہیں، ان پر فوری تکمیلی سوال پوچھے جائیں۔ وقفہ صفر کے دوران آنے والے مسائل پر اراکین کو تین منٹ کے اندر ہی اپنی بات رکھنی ہوتی ہے اور انہیں اس وقت اپنی بات مؤثر طریقے سے رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹر حامد انصاری نے کہا کہ مختلف مسائل پر بحث کیلئے سیاسی جماعتوں کو ایوان میں اپنی عددی طاقت کے مطابق وقت مختص کیا جاتا ہے اور پارٹیوں کے لیڈر یہ طے کرتے ہیں کہ کس موضوع پر اُن کا کون ممبر بولے گا۔

TOPPOPULARRECENT