Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سے دستبرداری اور مباحث کی اجازت دینے کا مطالبہ

پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سے دستبرداری اور مباحث کی اجازت دینے کا مطالبہ

نئی دہلی 10 ؍ اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)  کانگریس کے ساتھ صف بندی کو توڑتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے آج نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان مسائل پر بحث کی اجازت دے دی جائے جس پر مسلسل بائیکاٹ کیا جاتا ہے ۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں ایس پی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے کانگریس قائدین سے کہا کہ ایوان میں جاریہ تعطل ختم کرنے کے لئے اپنے مطالبہ سے دستبردار ہوجائیں اور متعلقہ وزراء اور حکومت کو منسوبہ الزامات پر وضاحت کے ساتھ مباحث کی اجازت دیتے ہوئے تنازعہ کو ختم کر دیا جائے ۔ پارلیمنٹ کی کارروائی تعطل کا شکار ہوجانے پر جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے مسٹر ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ تعطل کو فی الفور توڑ دینا ہوگا ۔ اور  جن افراد کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں انہیں پارلیمنٹ میں وضاحت  اور ملک کے عوام کے روبرو اپنا موقف پیش کرنے کا حق ہے اور پارلیمنٹ میں خلل اندازی کو ختم کر دینا چاہئے ۔ ملائم سنگھ کے اچانک بدلے ہوئے تیور سے کانگریس حیرت زدہ ہوگئی ۔ جبکہ انہوں نے گذشتہ ہفتہ اسپیکر سمترا مہاجن کی جانب سے کانگریس کے 25 ارکان کو معطل کر دیئے جانے کے بعد پارٹی کی حمایت کی تھی اور  کانگریس کے ساتھ  سماج وادی پارٹی بھی پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر رہی تھی ۔ پارلیمنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت لوک سبھا میں قاعدہ 193 کے تحت  متازعہ للت گیٹ پر بحث کے حق میں ہے اور توقع ہے کہ یہ مسئلہ کل فہرست میں شامل کر دیا جائیگا ۔تاہم ملائم سنگھ نے آج یہ کہتے ہوئے کانگریس کو جھٹکہ دیا کہ وہ اس کے مطالبات سے واقف نہیں ہیں ۔ اور کانگریس کے مطالبات سے آگہی کے بعد ہی ان کی پارٹی کا موقف واضح کیا جائیگا ۔ بشرطیکہ وہ ایس پی کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کل جماعتی اجلاس میں کہا کہ پارلیمنٹ میں ہر ایک کو اظہار خیال اور اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا حق ہے ۔ انہوں نے  استفسار کیا کہ کانگریس کس طرح پارلیمنٹ کی کارروائی مفلوج اور ایوان کو چلانے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ ملائم سنگھ یادو نے  کہا کہ ایوان میں کانگریس اپنا موقف پیش کرے جس کے بعد دیگر جماعتیں  یہ فیصلہ کریں کہ ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے یا پھر عوام سے رجوع کیا جائے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ترنمول کانگریس ارکان نے بھی پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کی اجازت اور کانگریس کی تحریک التواء  کی قبولیت کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور کہا کہ پارلیمنٹ میں مباحث قاعدہ 193 کے تحت نہیں ہونا چاہئے ۔ قبل ازیں ملائم سنگھ یادو نے  جاریہ تعطل ختم کرنے کے لئے اسپیکر کو مختلف جماعتوں کے قائدین کا اجلاس طلب کرنے کا مشورہ دیا ۔ لیکن اس تجویز پر کانگریس کی تائید حاصل نہیں کرسکے ۔ سونیا گاندھی نے تجویز کی مخالفت کی جبکہ   پارٹی لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ  ایس پی لیڈر نے اپنی رائے دی ہے ۔ ملائم سنگھ یادو جب اپنے نکتہ پر زور دے رہے تھے سونیاگاندھی نے پارٹی ارکان کو ہدایت دی کہ ایوان کے وسط میں نعرے بلند کریں جس کے ساتھ  ملائم سنگھ کی تقریر کے دوران  کچھ دیر کے لئے خلل پڑ گیا ۔ مذکورہ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیانائیڈو  اور کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے ‘ جیوتر ا دتیہ سندھیا‘ کے سی وینوگوپال ‘ ار جے ڈی لیڈر جئے پرکاش یادو ‘ جے ڈی یو کے کوشلیندر کمار ‘ٹی ایم سی لیڈر سندیپ بندھوا اپادھائے ‘ سوگتا رائے ‘ این سی پی کے سپریہ سولے اور عاپ لیڈر بھگونت ماں شریک تھے ۔

TOPPOPULARRECENT