Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوسرے دن بھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکی

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوسرے دن بھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکی

متحدہ اپوزیشن کا 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف احتجاج ، وزیراعظم پر حقائق سے گریز کا الزام

نئی دہلی ۔ /18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کی کارروائی آج مسلسل دوسرے دن بھی انجام نہیں دی جاسکی ۔ برسراقتدار اتحاد نے راجیہ سبھا میں شوروغل مچایا جو کانگریس قائد غلام نبی آزاد کے تبصرے کے خلاف تھا ۔ جبکہ اپوزیشن نے لوک سبھا میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی اچانک تنسیخ کے خلاف پرشور احتجاج کیا ۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں شوروغل کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوسکی اور دونوں ایوان کے اجلاس قبل از وقت کل تک کیلئے ملتوی کردیئے گئے ۔ آج نوٹوں کی تنسیخ پر مباحث کا احیاء نہیں ہوسکا ۔ کیونکہ ایوان میں برسراقتدار اتحاد کی جانب سے غلام نبی آزاد کے تبصرے کے خلاف جس میں انہوں نے نوٹوں کی تنسیخ کے بحران کی وجہ سے ہونے والی اموات کو اُری دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے تقابل کیا تھا ۔ برسراقتدار پارٹی نے کانگریس سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ جبکہ کانگریس نے غلام نبی آزاد کے تبصرے کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ۔

کانگریس اور بعض دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے وزیراعظم کی ایوان کے اجلاس میں غیر حاضری کو حقائق کا سامنا کرنے سے گریز قرار دیتے ہوئے ان کی موجودگی اور 55 افراد کی اموات پر جو نوٹوں کی تنسیخ کی وجہ سے فوت ہوگئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ ایوان بالا میں نعرہ بازی اور جوابی نعرہ بازی کی وجہ سے اجلاس کئی بار ملتوی کردیا گیا ۔ پہلی بار 11.30 بجے تک ، اس کے بعد دوپہر تک اور تیسری بار 12.33 بجے تک ، چوتھی بار 2.30 بجے دوپہر تک اور آخر کار دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ ایوان کے اجلاس میں جیسے ہی آج کے مباحث کے موضوعات کے کاغذات پیش کئے گئے بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرتے ہوئے اور غلام نبی آزاد سے ان کے تبصرے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمع ہوگئے ۔ کانگریس کے ارکان بھی نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور وزیراعظم اور حکومت سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی تنسیخ کی وجہ سے 55 افراد کی اموات کیلئے معذرت خواہی اور حقائق کا سامنا کرنے کیلئے ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمع ہوگئے ۔ انا ڈی ایم کے ارکان کاویری کے پانی کے مسئلہ پر ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کررہے تھے ۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے تمام ارکان سے ایوان کے وسطی علاقہ کو خالی کردینے اور اپنی نشستوں پر واپس ہوجانے کی اپیل کی اور تیقن دیا کہ ان کے بیانات پر توجہ دی جائے گی ۔ شوروغل کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے الزام عائد کیا کہ آزاد کا بیان ملک کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کانگریس دہشت گردی کی ہمدرد ہے اور سوال کیا کہ کالا دھن کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو نوٹوں کی تنسیخ سے نقصان پہونچا ہے ۔ آخر اپوزیشن کیوں اتنا برہم ہورہی ہے ۔
کورین نے انا ڈی ایم کے اور کانگریس ارکان سے ایوان کے وسط کا تخلیہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے قائدین کو متعلقہ مسائل پر بیان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔
لیکن بی جے پی کے ارکان شہہ نشین کے قریب نعرہ بازی کرتے ہوئے موجود رہے جس کی وجہ سے کانگریس ارکان بھی نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں واپس آگئے ۔ کورین نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی کو صدرنشین کیلئے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہئیے لیکن شروغ وغل جاری رہا جس کی وجہ سے ایوان کے اجلاس بار بار اور آخر کار دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ لوک سبھا میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی ۔ یہاں بھی متحدہ اپوزیشن نے بڑے نوٹوں کی تنسیخ ، اس کی وجہ سے ہونے والی اموات اور عوام کو درپیش مسائل پر پرشور احتجاج کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کردیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT