Friday , October 20 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی طلبی پر تجسس

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی طلبی پر تجسس

دستور سازی پر خصوصی مباحث کی تیاریاں
نئی دہلی ۔ 21 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی طلبی کے فیصلہ کو آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردیا ہے جبکہ یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ 19 نومبر کے بعد اجلاس کی طلبی کا کسی بھی دن اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی امور پر کابینی کمیٹی اجلاس آج منعقد کیا گیا جس میں فیصلہ لینا تھا کہ 19 نومبر کے بعد پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس طلب کیا جائے لیکن قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ تاہم وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی زیر صدارت کابینی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی صد سالہ تقاریب میں دونوں ایوانوں کے صدور نشین اور پارٹی قائدین کو مدعو کیا جائے ۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو ، وزیر فینانس ارون جیٹلی اور وزیر قانون سدانن گوڑا شریک تھے۔ چونکہ حکومت کا یہ منصوبہ ہے کہ 19 نومبر کو یوم دستور منایا جائے ۔ کابینی کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ دستور سازی پر ایک روزہ طویل مباحث کئے جائیں۔ دستور سازی پر ایک روزہ طویل مباحث کئے جائیں۔ کابینی کمیٹی نے راجیہ سبھا میں معرض التواء 53 بلز کا بھی جائزہ لیا جہاں پر حکومت کو ا کثریت حاصل نہیں ہے ۔ اگرچیکہ لوک سبھا میں 8 بلز منظور کرلئے گئے ہیں لیکن دیگر 5 بلز متفرق پارلیمانی کمیٹیوں کے پاس زیر غور ہیں ۔ ایک اورا ہم جنرل سیلز ٹیکس بل بھی پارلیمنٹ میں معرض التواء ہے۔ حکومت کو یہ توقع ہے کہ سرمائی اجلاس میں منظور کرلیا جائے گا ۔ قبل ازیں پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بعض بی جے پی لیڈروں کے خلاف الزامات اور احتجاج کے نذر ہوگیا تھا۔کانگریس نے اجلاس کی کارروائی کو سابق آئی پی ایل سربراہ للت مودی کی اعانت پر وزیر خارجہ سشما سوراج اور چیف منسٹر راجستھان  وسندھرا راجے سے استعفیٰ کے مطالبہ پر مفلوج کردیا تھا اور کروڑہا روپئے کے ویاپم اسکام پر چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کی برطرفی کا بھی اصرار کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT