Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ یا عدلیہ ‘ شرعی قوانین کی تشریحات نہیں کرسکتے

پارلیمنٹ یا عدلیہ ‘ شرعی قوانین کی تشریحات نہیں کرسکتے

مسلم پرسنل لاء پرحکومت کا موقف فرقہ پرستی پر مبنی ‘ مولانا خالد اللہ رحمانی ودیگر علماء کا بیان
حیدرآباد۔10اکٹوبر(سیاست نیوز) شرعی قوانین میں ترمیم کا کسی کو اختیار حاصل نہیں ہے کوئی طاقت اس میں تبدیلی نہیں کرسکتی ۔ پارلیمنٹ یا عدلیہ کو بھی شرعی قوانین کی تشریحات کا اختیار نہیں ہے کیونکہ قوانین شریعت و محمدیؐ قرآن و حدیث پر مبنی قوانین ہیں ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان نے حکومت ہند کے عدالت میں اختیار کردہ موقف کو فرقہ پرستانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور کہا کہ حکومت کے رویہ کے خلاف ہر محاذ پر احتجاج درج کروایا جائے گا۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ اراکین کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ ‘ مولانا سید قبول بادشاہ قادری شطاری خانقاہ شطاریہ‘  مولانا محمد رحیم الدین انصاری ‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ‘ اور مولانا سید مسعود حسین مجتہدی نے آج ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستور نے ہر شہری کو اپنے مذہب و عقائد کی بنیاد پر عمل کرنے اور تبلیغ کا اختیار دیا ہے۔ اراکین مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف عدالتی فیصلوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے اور اس بات سے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان متفق ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے مداخلت کی کوششیں نا قابل برداشت ہیں۔ مسلمانان ہند اس بات پر متفق ہیں کہ ان پر ان کے شرعی قوانین نافذ ہوں گے۔ ان تمام حالات سے واقفیت کے باوجود حکومت ہند کی جانب سے عدالت عظمی میں شرعی قوانین کے مغائر حلف نامہ داخل کرنا ہندستانی مسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق و اختیارات سے محروم کرنے کی زبردست سازش ہے۔ حکومت نے جس دن عدالت عظمی میں شرعی قوانین کی مغائر حلف نامہ داخل کیا وہ دن سیکولرو جمہوری ہندستان کی تاریخ میں سیاہ دن ہے۔ ذمہ داران مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں مسلمانوں کے بہ نسبت دیگر اقوام میں کثرت ازدواج کے معاملات زیادہ ہیں۔ مسلمانو ںمیں دیگر مذاہب کی شرح کے اعتبار سے طلاق و تعدد ازدواج کے معاملات کم پائے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس بات کا قطعی خیال نہیں رکھا کہ وہ پارٹی کے اعتبار سے جو بھی اظریات کی حامل ہو لیکن وہ بحیثیت حکومت ملک کے تمام شہری کی نمائندہ ہے اور تمام طبقات و مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو حاصل حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کے اس رویہ کے خلاف اپنا احتجاج درج کروائیں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے آئندہ احتجاجی پروگرامس میں بڑی تعدادمیں حصہ لیتے ہوئے  حکومت کے منصوبے کو ناکام بنانے میں اپنا فریضہ ادا کریں۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر آپس میں الجھنے سے اجتناب کریں کیونکہ مسلم دشمن عناصر نے اس مسئلہ کو اٹھایا ہی اس لئے ہے کہ مسلمان طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر مسلکی اختلافات کا شکار ہو جائیں اور شریعت کی حفاظت کے معاملہ میں ان کے اتحاد میں دراڑ پیدا کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT