Sunday , June 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ٹرمپ کے امریکہ میں مسلمانوں کیلئے آزمائشی صورتحال

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ٹرمپ کے امریکہ میں مسلمانوں کیلئے آزمائشی صورتحال

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۲۷ جنوری ۲۰۱۷؁ء کو ایک متنازعہ حکمنامہ کااعلان کرتے ہوئے سات مسلم ممالک ایران ، عراق، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان ، شام اور یمن کے شہریوں پر ۹۰ دن کے لئے امریکہ میں داخلے کیلئے امتناع عائد کیا نیز تمام ممالک کے پناہ گزینوں پر چار ماہ کیلئے عارضی طورپر اور ملک شام کے پناہ گزینوں کیلئے غیرمعینہ مدت کے لئے مستقل امتناع عائد کیا ۔ جس کے ساتھ ہی امریکہ اور دیگر ممالک میں اس عاملہ حکم کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ۔ امریکہ میں مسلمانوں کو مقامی امریکیوں کی ہمدردی حاصل ہوگئی اور وہ ان مظاہروں میں مسلمانوں سے زیادہ پرجوش نظر آرہے ہیں بلکہ وہی ان مظاہروں کے محرک ہیں۔ سیاسی قائدین اور ماہرین قانون نے اس حکمنامہ کی سختی سے مذمت کی ۔ مسلمانوں نے بڑی ہوشمندی اور جرء ت سے اس حکمنامہ کے خلاف احتجاج کیا اور متاثرہ افراد کی قانونی امداد کے لئے وکلاء اور ماہرین قانون کی مختلف جماعتیں ترتیب دیکر چوبیس گھنٹے ایرپورٹس پر موجود رہے اور مؤثر امداد پہنچائی ۔ ٹرمپ انتظامیہ کو اس وقت خفگی کا سامنا ہوا جب امریکہ کی ضلعی عدالت نے مسلم ممالک اور پناہ گزینوں کی آمد پر عائد امتناع کو معطل کردیا اور وفاقی عدالت نے اس فیصلہ کے خلاف حکومت کی درخواست کو مسترد کردیا، اس طرح قانون کی بالادستی کا اظہار تو ہوا لیکن امریکی صدر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی ناگہانی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں حاکم عدالت پر اس کی ذمہ داری ہوگی۔

امریکی صدر کے ان حکمناموں کے خلاف گوگل ، ایپل ، فیس بک ، ٹوئٹر اور یاہو جیسی عالمی کمپنیاں عدالت سے رجوع ہوچکی ہیں۔ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہورہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ امریکی صدر کے شاہی فرمان ہیں جو ان کے شخصی فیصلہ جات کے غماز ہیں یا پھر یہ ایک سوچی سمجھی ، منصوبہ بند حکمت عملی ہے ؟ کیاان حکمناموں سے ریپبلکن پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہوگا یا مزید مستحکم ہوگا ؟ کیا ان حکمناموں سے ڈیموکریٹک پارٹی سیاسی فائدہ اُٹھاپائیگی یا ان میں قومی سطح پر کوئی پرکشش لیڈر ہی موجود نہیں ہے؟ واضح رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی آزاد خیال سمجھی جاتی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی قدامت پسند ہے ۔ ڈیموکرٹیک پارٹی اسقاط حمل ، ہم جنس پرستی ، ہیلتھ کیر اور ایمگریشن کے معاملہ میں وسعت نظری اور آزاد خیالی کے حامل ہے ۔ نیز گن کنٹرول اور Capital Punishment وغیرہ اُمور میں سخت گیر ہیں۔ اس کے برخلاف ریپبلکن پارٹی کا نظریہ برعکس ہے جس کی بناء مہاجر مسلمان کمیونٹی میکسیکن ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ یہی حال افراد امریکن اور LGBT کا ہے ، اس کے بالمقابل سفید نسل پرست امریکی ریبپلکن پارٹی کے حامی و مؤید ہیں، یہ مذہبی طورپر نہایت متعصب ہیں، وہ سیاہ فام امریکی باشندوں ، غیرعیسائی اور غیرامریکی مہاجرین کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہیں بلکہ ان کا ایک بڑا طبقہ یہودیوں کے بھی سخت مخالف رہا ہے ۔ نیز ٹرمپ کی کامیابی کے بعد جس طرح امریکہ میں ایفرو امرکین ، میکسیکن اور مسلمان پریشان ہیں اسی طرح یہودی بھی فکرمند ہیں، اس لئے کہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب ڈیموکریٹک پارٹی کو غلبہ حاصل ہورہا تھا اس وقت متعصب سفید نسل پرستوں کی شدت پسند و تنگ نظر ذہنیت نے ایک جماعت بنام (KKK) KU KLUX KLAN کی داغ بیل ڈالی جس نے سیاہ فام امریکی اور یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس کی شدت پسند سرگرمیوں کی تاحال طویل داستان ہے اور اس جماعت نے ببانگ دہل ٹرمپ کی حمایت کی اور اس کے سربرآوردہ آج ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی مشیر مقرر کئے گئے ہیں۔ جس کی بناء اس تنظیم کو ایک عرصہ کے بعد غیرمعمولی قوت حاصل ہوئی ہے اور اس کی ذہنیت کے حامل افراد بے خوف ہوگئے ہیں ، اس جماعت کے افراد کی بے لگامی ملک کے اندرونی امن و سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے ۔ گرچہ امریکی صدر کے حالیہ حکمناموں کے خلاف امریکی عوام نے اہل اسلام کا بھرپور ساتھ دیا، ایرپورٹ پہنچ کر دن رات مظاہرہ کرتے رہے ، مساجد آکر ان سے اظہاریگانگت کررہے ہیں اور مسلمانوں کو Registry کرانے کے لزوم پر بہت سے عیسائی اور یہودی بہ حیثیت مسلمان رجسٹری کروانے کا وعدہ کررہے ہیں، مسلم نوجوان لیڈر شپ اپنی دلیر قیادت کی بہترین مثال پیش کررہی ہے اور بلا خوف و خطر موجودہ صورتحال میں قانونی امداد ، قانونی معلومات اور قانونی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتی جارہی ہیں۔ اس کے باوصف مسلم کمیونٹی میں حددرجہ خوف و ہراس چھایا ہوا ہے کیوں کہ بہت سے مسلمان سرپرست غیرقانوی طورپر مقیم ہیں جبکہ ان کی اولاد امریکی شہریت رکھتی ہے ۔ اگر غیرقانونی ایمگرنٹس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو کئی ایک خاندان جدا ہوجائیں گے۔ موجودہ صورتحال میں مسلمان ادنیٰ سی بے قاعدگی سے خوفزدہ ہیں حتیٰ کہ گاڑی مقررہ رفتار سے زیادہ چلانے پر ملنے والے ٹکٹ سے خوفزدہ ہے کہ کہیں یہی چیز ان کے ملک سے اخراج کا سبب نہ بن جائے ۔ یہ بات طئے ہے کہ امریکہ میں آج جس قدر مسلمانوں کی تعداد ہے ، یہ تعداد اس ملک میں اپنے دین ، تہذیب اور تشخص کے تحفظ اور مدافعت کی اہلیت رکھتی ہے ، امریکہ کی موجودہ نوجوان نسل سے کافی توقعات وابستہ ہیں بالخصوص نوجوان مذہبی قیادت قابل ستائش ہے کہ وہ پورے وقار اور اطمینان کے ساتھ مسلم نوجوانوں کی قیادت کررہے ہیں ۔
اسلام زمانے میں دبنے کو نہیں آیا
اتنا ہی اُبھریگا جتنا کہ دبادیں گے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT