Monday , August 21 2017
Home / مضامین / پاسباں مل گئے…

پاسباں مل گئے…

کے این واصف
دین اسلام کے ساتھ دشمنی کا سلسلہ جو ساری دنیا میں جاری ہے وہ دنیا کے کسی اور دین کے ساتھ نہیں ہے۔ اس مہذب دنیا میں چند جنونی گروہ ہیں جو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور نیک فکر افراد کے ذہنوں کو مکدر کرنے کیلئے نت نئے حربے استعمال کرتے اوران کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرتے ہیں۔ یہ گروہ روز بروز اپنی ان سرگرمیوں میں شدت پیدا کر رہے ہیں۔ چونکہ دین اسلام ایک فطری مذہب ہے اس لئے اس کی طرف متلاشیان حق اور باشعور افراد کے راغب ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ان 14 سو سالوں کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا جس کے ذریعہ کوئی یہ ثابت کرسکے کہ اسلام کبھی زر یا زور کے بل بوتے پر پھیلایا گیا۔ یہ تو صرف قرآن حکیم کی تعلیمات اور اسلامی معاشرے میں زندگی بسر کرنے کیلئے احکامات شرعیہ کا اعجاز ہے جس سے دین اسلام دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ اگر ہم صرف ملک ہندوستان کی مثال لیں تو یہاں سینکڑوں برس مسلم حکمرانوں نے حکومت کی لیکن سرزمین ہند پر کبھی اسلام پھیلانے کیلئے نہ اپنا اثر، رعب ، دبدبہ یا زر و زور  استعمال کیا ۔ یہ تو اولیائے اللہ اور تبلیغ دین کیلئے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں نے یہاں کے عوام کے آگے پیام حق رکھا اور اللہ تعالیٰ  نے جنہیں ہدایت دی انہوں نے یہ پیام قبول کیا اور دائرۂ اسلام میں آگئے ۔ اس میں نہ کسی کا زور تھا نہ انہیں کسی قسم کا لالچ دیا گیا۔ یہاں یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ مسلم حکمراں اپنے 900 سال کی حکمرانی میں زر ، زور اور دیگر حربے استعمال کئے ہوتے تو آج خطہ ہند یا سارے جنوب مشرقی ایشیاء کی صورتحال مختلف ہوتی  اور اس قطعہ میں مسلم اقلیت پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ محض اس قطعہ میں مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال ہے ۔ برما ہو یا ہندوستان مسلمان اس لئے مارے جارہے ہیں کیونکہ وہ اعدادی اور معاشی طور پر کمزور ہیں لیکن کسی بھی ملک کے اکثریتی فرقہ کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اقلیتی طبقہ کے ساتھ ناانصافی کر کے انہیں محرومیوں کا شکار بناکر نہ اکثریت چین سے جی سکتی ہے نہ ملک ہی ترقی کرسکتا ہے ۔ لہذا اگر اکثریت کی ترقی چاہتی ہے اور انہیں اپنی مٹی سے محبت ہے تو ضروری ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کریں۔ خصوصاً ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ضرور ہیں لیکن ان کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ان کا مٹانا کسی کے بس کا نہیں، پھر ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک طرف آبادی کا بڑھنا، دوسری طرف غیر مسلمانوں کا دائرہ اسلام میں داخل ہونا، خیر یہ ہمارے آج کے موضوع کے کچھ تمہیدی الفاظ کی طرح تھے، آئیے اب اصل موضوع کی طرف ۔

اشاعت اسلام اور دعوت دین کے کام میں دنیا بھر میں بے شمار لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں اور ’’پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے‘‘ کے مصداق اس کام میں وہ ہدایت پانے والے افرادبھی شامل ہیں جنہوں نے خود اسلام قبول کیا اور پھر حق کی تبلیغ اوردعوت دین کے کام سے جڑ کر سینکڑوں گمراہوں کو حق کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ ان قابل رشک بندوں میں عمر گوتم صاحب بھی ایک ہیں، جنہوں نے 1984 ء میں اسلام قبول کیا اور شیام پرساد سنگھ گوتم سے عمر گوتم ہوئے ۔ عمر گوتم بڑے پیمانہ پر ہندوستان میں دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں اور گمراہ اور لا علم افراد تک پیام حق پہنچا رہے ہیں۔

پچھلے دنوں عمر گوتم صاحب معروف ہندوستانی تاجر راشد علی شیخ کی دعوت پر ریاض آئے تھے ۔ راشد شیخ نے اپنی قیام گاہ پر عمر گوتم کے ایک لکچر کا اہتمام بھی کیا ۔ عمر گوتم کا یہ دوسرا دورہ ریاض تھا۔ راشد شیخ کی قیام گاہ پر منعقدہ اس محفل میں عمر گوتم نے ’’مسلمان ہونے کی اہمیت اور ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان پیدا ہونا یا ہدایت پاکر دائرۂ اسلام میں داخل ہونا ہمارے لئے ایک خوش بختی کی بات ہے ۔ مگر ہر مسلمان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ بحیثیت مسلمان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور انہیں پورا کرے۔ دنیا میں جو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برأ ہوگا وہ آخرت میں انعام کا حق دار ہوگا اورجہنم کے عذاب سے بچے گا ۔ ہماری  ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اطراف جو گمراہ لوگ ہیں ان تک پیام حق پہنچائیں اور ان کو بھی جہنم کے عذاب سے بچائیں۔ عمر گوتم نے کہاکہ غیروں تک دعوت دین پہنچانے کے بہت سے طریقے ہیں مگر سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے بہترین اخلاق سے غیر کو متاثر کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود اپنے ایک پڑوسی ناصر خاں کی خوش اخلاقی سے متاثر ہوکر ہی اسلام قبول کیا ۔ انہوںنے بتایا گوکہ ناصر خاں نے خود کبھی مجھ کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی نہ مجھے کوئی اسلامی لٹریچر وغیرہ ہی پڑھنے کو دیا ۔ میرے ساتھ ان کا بہترین سلوک دیکھ کر میں نے ہی ان سے پوچھا آپ کیوں ہر ضرورت میں کام آتے ، خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، بے طلب میری مدد کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اپنے ہم نفسوں اور خصوصاً اپنے پڑوسی کے ساتھ خوش اخلاقی برتنے اور ان کی ضرورت میں مدد کرنے کی تعلیم ہمیں ہمارا مذہب اسلام دیتا ہے ۔ تب میں نے ان سے اسلامی لٹریچر مانگا اور اس کے مطالعہ کیا اور اس سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے اخلاق کھودیئے اس نے سب کچھ کھودیا ۔ عمر گوتم نے کہا کہ اخلاق صرف اچھی گفتگو میں نہیں بلکہ ہمارے معاملات میں، کاروبار میں، لین دین میں اور زندگی کے ہر عمل میں اخلاق و اخلاص ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریمؐ کے بہترین اخلاق ہی تھے جنہوں نے کافروں ، مشرکین اور ان کے دشمنوں تک کو متاثر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم ہندوستان میں ہمارے ساتھ قدم قدم پر ہیں۔ درس گاہوں میں، دفاتر، کمپنیوں اور بازاروں میں یا یہ کہ وہ چند گھنٹے ہی آپ ساتھ سفر میں رہیں ان پر اپنی خوش اخلاقی کی چھاپ چھوڑیئے ۔ آپ کا اچھا سلوک اور خوش اخلاقی ان کے قلب و ذہن میں ریکارڈ ہوجائے گی ۔ وہ کبھی نہ کبھی اسلام کے بارے میں پڑھنے یا معلومات حاصل کرنے کی طرف مائل ہوگا  اوراللہ ہدایت دے تو اسلام میں داخل بھی ہوجائے گا ۔ مسلمان اس احساس کے ساتھ جیئے کہ اس کا کوئی عمل کسی دوسرے کیلئے تکلیف کا باعث نہ بنے بلکہ اس کی خوش اخلاقی ہر ایک کو متاثر کرے۔ عمر گوتم نے یہ بھی کہا کہ ہندو مذہب کے ویدوں (مقدس کتابوں) میں بھی وحدانیت کا درس، نزول قرآن اور بعثت نبی کریمؐ کے بارے میں واضح اشارے موجود ہیں لیکن ہندو مذہبی قائدین ان باتوں کو عام ہونے نہیں دیتے۔
ابتداء میں معروف سماجی کارکن و عالم دین سالم زبیدی نے خیرمقدم کیا اور عمر گوتم صاحب کا تعارف پیش کیا ۔ اس محفل کا آغاز قاری ذاکر رحیم کی قراء ت کلام پاک سے ہوا۔ عمر گوتم کے بیان کے بعد وقفہ سوال و جواب بھی رہا ۔ میزبان محفل راشد علی شیخ نے مختصر طور پر محفل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اندر ایک خوف اور جھجک ہے جو ہمیں دعوتَ حق دینے سے روکتا ہے۔ مسلمان اپنے دل میں صرف خوف خدا رکھے تو پھر اس کو کوئی اور خوف نہیں ڈرا سکتا۔ ہمیں دنیا کے عارضی رشتوں کو استوار رکھنے کیلئے اپنے اہم فریضہ سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے ۔ راشد شیخ نے آخر میں حاضرین کا شکریہ ادا کیا جو ان کی دعوت پر اتنی بڑی تعداد میں ان کی قیام گاہ پرجمع ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT