Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پاسپورٹ انکوائری کو شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے مہم

پاسپورٹ انکوائری کو شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے مہم

اسپیشل برانچ کی کارکردگی میں بہتری،اندرون 3یوم درخواستوں کی تنقیح ایک ریکارڈ
ایس ایم بلال
حیدرآباد 9 ڈسمبر ۔ حیدرآباد سٹی پولیس کے اسپیشل برانچ (ایس بی) کی جانب سے پاسپورٹ درخواستوں کے ویریفکیشن کو کرپشن سے پاک بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اسپیشل برانچ  عملہ کی کارکردگی میں شفافیت پیدا کرنے اور ذمہ داری عائد کرنے کے بعد رشوت خوری میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے بموجب حیدرآباد اسپیشل برانچ یونٹ کی جانب سے ہر ماہ 10 ہزار سے زائد پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کی جاتی ہے اور اس کام کو کرپشن سے پاک بنانے کے لئے کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہندر ریڈی نے بعض ہدایات جاری کئے تھے۔ سٹی پولیس کے آئی ٹی سیل کی جانب سے پاسپورٹ درخواست گذاروں سے انکوائری آفیسر سے متعلق معلومات و رائے حاصل کی گئی تھی جس میں کرپشن میں کمی کا پتہ چلا۔ جاریہ سال اگسٹ ۔ سپٹمبر میں 10 ہزار پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کی گئی تھی اور 4,365 درخواست گذاروں سے اُن کی رائے (سٹیزن فیڈ بیاک) حاصل کی گئی تھی۔ انکوائری آفیسر کی جانب سے رقم کی وصولی، ناشائستہ برتاؤ، درخواست گذاروں کی جانب سے رقمی انعام حاصل کرنا، درخواست گذار کے مکان پہونچنے سے قبل اطلاع نہ کرنے سے متعلق عوامی رائے حاصل کی گئی۔ 966 افراد نے اپنا منفی ردعمل ظاہر کیا۔ عوامی رائے حاصل کرنے کے دوران اس بات کا پتہ چلا ہے کہ 72 انکوائری آفیسرس نے پاسپورٹ درخواست گذاروں سے رقم کا مطالبہ کیا جو منفی عوامی رائے کا 1.6 فیصد ہے۔ جبکہ درخواست گذاروں کی جانب سے رقمی انعام حاصل کرنے والے 440 انکوائری آفیسرس کی نشاندہی کی گئی جو عوامی رائے کا 10 فیصد ہے۔ ناشائستہ برتاؤ کرنے والے 16 انکوائری آفیسرس درخواست گذاروں کے مکان پہونچنے سے قبل اطلاع نہ کرنے والے 137 انکوائری آفیسرس اور انکوائری سے ایک گھنٹہ قبل پاسپورٹ درخواست گذاروں کو فون کرنے والے 301 انکوائری آفیسرس کا پتہ لگایا گیا ہے

جو عوامی رائے کا 6.8 فیصد ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلات بتاتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس اسپیشل برانچ مسٹر وائی ناگی ریڈی نے بتایا کہ اسپیشل برانچ عملہ ہر سال 1.2 لاکھ پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کرتا ہے۔ پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کے دوران رشوت خوری کی شکایات عام ہونے پر اس کام کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے جس میں عوامی رائے حاصل کرنا شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سروے کے دوران رونما ہونے والے انکوائری آفیسرس کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں کرپشن کے واقعات میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اب پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح اندرون تین یوم مکمل کی جارہی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ مسٹر ناگی ریڈی نے بتایا کہ پاسپورٹ درخواستوں کے ویریفکیشن کے لئے 60 افراد پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو صرف پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کا کام کرتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ حالیہ عوامی رائے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاسپورٹ تنقیح کا کام اب شفاف ہوگیا ہے اور کرپشن سے پاک ہے۔

TOPPOPULARRECENT